جمعہ , 26 فروری 2021

کھیلوں میں ہیرا پھیری کا سال

151221110256_platini_blatter_624x351_afp
فیفا کے صدارتی الیکشن سے قبل سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل پر پولیس کے چھاپے میں فٹبال کی عالمی فیڈریشن کے متعدد سرکردہ عہدیدار حراست میں لیے گئے

سنہ 2015 میں کھیلوں کی دنیا کو کئی تنازعات نے جکڑے رکھا جن میں فٹبال کی عالمی فیڈریشن فیفا میں مالی بدعنوانی اور بین الاقوامی ایتھلیٹکس میں ڈوپنگ سکینڈل دنیا کو جھنجھوڑدینے کے لیے کافی تھے۔

فیفا کے صدارتی الیکشن سے قبل سوئٹزرلینڈ کے ایک ہوٹل پر پولیس کے چھاپے میں فٹبال کی عالمی فیڈریشن کے متعدد سرکردہ عہدیدار حراست میں لیے گئے اور پھر اس معاملے نے اتنا طول کھینچا کہ فیفا کے صدر سیپ بلیٹر بھی اس سے نہ بچ سکے۔

بلیٹر اور پلاٹینی پر آٹھ سال کی پابندی

دس کروڑ ڈالر کے سکینڈل میں بلیٹر کا کردار کیا تھا؟

’فیفا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے 66 لاکھ پاؤنڈز رشوت دی‘

ایتھلیٹکس مقابلوں میں روس کی شرکت معطل

روس کا ڈوپنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات کا اعلان

سیپ بلیٹر جو بڑی شدت کے ساتھ عالمی کپ کی میزبانی کے معاملے میں اپنی شفافیت کا دنیا کو یقین دلا رہے تھے خود یوئیفا کے صدر میشل پلاٹینی کو ایک ایسی رقم کی ادائیگی کے معاملے میں گرفت میں آ گئے جس کے بارے میں فیفا کی اخلاقیات سے متعلق کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کا نہ کوئی تحریری معاہدہ ہے اور نہ کوئی تذکرہ۔

فیفا نے پہلے تو بلیٹر اور پلاٹینی کو 90 روز کے لیے معطل کیا اور پھر ان دونوں پر آٹھ سال تک فٹبال کی کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

دنیا کے کونے کونے میں کھیلے جانے والے فٹبال کے کھیل سے لوگوں کی محبت آج بھی قائم ہے لیکن اس کھیل کی عالمی فیڈریشن میں جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے سبب عالمی فٹبال پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔

فیفا کرپشن سکینڈل کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ڈوپنگ سکینڈل نے روسی ایتھلیٹکس کے نظام کا پردہ چاک کر دیا۔

ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس میں مبینہ طور پر سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کے معاملے میں دھوکہ دہی برتی گئی۔

یہ خبر کسی دھچکے سے کم نہ تھی کہ ماسکو کی لیبارٹری میں ڈوپ ٹیسٹ کے نمونے تباہ کر دیے گئے تاکہ کوئی نشان باقی نہ رہے۔

151109162720_doping_tests_624x351_rianovosti_nocredit

ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس میں مبینہ طور پر سرکاری سرپرستی میں ڈوپنگ کے معاملے میں دھوکہ دہی برتی گئی

یہ سب کچھ سامنے آنے کے بعد روس کی اینٹی ڈوپنگ اتھارٹی معطل کر دی گئی اور روس پر بین الاقوامی ایتھلیٹکس مقابلوں میں شرکت کی عارضی پابندی عائد کر دی گئی۔

یہ صورتِ حال روس کے لیے کسی بدنامی سے کم نہ تھی چنانچہ صدر پوتن کو بھی اس میں مداخلت اور تحقیقات کا حکم دینا پڑا۔

صرف روس پر ہی کیا موقوف، کئی دوسرے ملکوں کے ایتھلیٹس کے بارے میں بھی یہ انکشافات ہلچل مچا دینے کے لیے کافی تھے کہ سنہ 2001 سے 2012 کے درمیان ہونے والے اولمپکس اور بین الاقوامی مقابلوں میں میڈل جیتنے والے ایک تہائی ایتھليٹوں نے محدود منشیات یا پھر کارکردگی میں اضافہ کرنے والی ادویات کا استعمال کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان نے نیوزی لینڈ کو آخری ٹی ٹوئنٹی میں شکست دیدی

نیپئر: پاکستان نے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ کو 4 وکٹ …