جمعرات , 18 جولائی 2019

امریکا اور پاکستان داعش و دیگر گروپس کیخلاف کارروائی کیلئے پرعزم

Latest-Pakistan-army-SSG-commando-wallpaper-and-picture

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے گزشتہ دنوں ہونے والے وزارتی اجلاس کے دوران کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا خطے میں داعش اور اس سے متعلق معلومات کے تبادلے اور انٹیلی جنس کے فروغ کیلئے پرعزم ہیں۔ زمینی خفیہ معلومات کا سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تبادلہ کیا جائے گا تاکہ داعش کے متعلق معلومات اور ان کے ممکنہ شراکت دار گروپس کا پتہ لگایا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے امریکا پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے کام کرے گا تاکہ وہ دہشت گردی بشمول دہشت گردی میں مالی معاونت کے خلاف کارروائی کرسکیں۔ دونوں فریقین اپنے متعلقہ انسداد دہشت گردی کے اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دیں گے جس میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان بھی انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو فروغ دیا جائے گا اور اس میں مشترکہ تربیت بھی دی جائے گی تاکہ غیر قانونی مواد کے پھیلائو کو روکا جا سکے۔ پاکستان نے پہلے ہی داعش کی مذمت کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ داعش کے نظریات اپنی حدود میں نافذ ہونے نہیں دے گا جبکہ امریکا کو خدشہ ہے کہ داعش خطے میں مضبوط ہو سکتی ہے یا پھر ایسے دہشت گرد گروپس سامنے آ سکتے ہیں جو داعش کے ساتھ اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ امریکا خطے میں داعش کی کسی بھی طرح کی آپریشنل سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایسی کوششوں میں مصروف ہے جن کی مدد سے داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کا راستہ روکا جا سکے۔ امریکا کیلئے یہ معاملہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اس پر امریکا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ وزارتی اجلاس میں بھی بات ہوئی۔ ایجنڈا میں داعش کے ممکنہ طور پر خطے میں مستحکم ہونے اور اس کے بعد دونوں ملکوں کی جانب سے اس سے نمٹنے کیلئے اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گزشتہ دنوں ہونے والے وزارتی اجلاس کے دوران اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ داعش سے خطے کو خطرات لاحق ہیں۔ اجلاس میں دونوں ملکوں کے وفود نے اتفاق کیا کہ ان کا ملک مل کر اس خطرے سے نمٹنے کیلئے کام کرے گا اور شدت پسندی کے نظریات کا مقابلہ کیا جائے گا۔ بیان میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے علاقے میں داعش کو مضبوط ہونے نہیں دے گا اور امریکا نے اس ضمن میں پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکا داعش کو شکست دینے کیلئے انتہائی سرگرمی کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ داعش کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کئی عالمی اور علاقائی کوششیں شروع کی گئی ہیں اور سب سے اہم کوشش امریکا کی ہے جس کے تحت 60 ملکوں کا اتحاد قائم کیا گیا ہے جو مختلف سطحوں پر داعش سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان اور افغانستان کو باضابطہ طور پر اس اتحاد کے رکن کی حیثیت سے درجہ نہیں ملا۔ تاہم، اقوام متحدہ کے سیکورٹی اتحاد کی جانب سے امریکا کی تیار کردہ قرارداد نمبر 2178؍ منظور کی جس میں داعش اور غیر ملکی جنگجو گروپس کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی ہے۔

us-army-soldiers-patrol-as-they-conduct-an-ambush-drill-as-part-of-the-filipino-us-joint-military-exercises-inside-a-philippine-army-camp-in-manila-photo-reut

پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی نے تصدیق کی کہ اگرچہ پاکستان داعش کے خلاف امریکا کی زیر قیادت اتحاد کا رکن نہیں لیکن پاکستان بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی اور دہشت گرد گروپس کے خلاف تمام اقدامات کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی سطح پر دیکھا جائے تو داعش ایک کالعدم تنظیم ہے اور ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کی مدد سے اس تنظیم کو منظم ہونے سے روکا جا سکے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر اوباما نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل جان کیمپبل کو اختیار دیدیا ہے کہ وہ افغا نستا ن اور پاکستان کی سرحد پر داعش کی موجودگی کو انتہائی شدت کے ساتھ نشانہ بنائیں جن میں فضائی حملے اور اسپیشل فورسز کے آپریشن شامل ہیں۔ پینٹاگون نے اندازہ لگایا تھا کہ افغانستان میں تقریباً ایک ہزار سے تین ہزار جنگجو ایسے ہیں جن کا تعلق داعش سے ہے اور اس کے بعد جنرل کیمپبل نے خبردار کیا تھا کہ جنگجوئوں کے پاس نہ صرف افغانستان کے اندر بلکہ دنیا بھر میں بھرتی کرنے کی صلاحیت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

طالبان نے وردک میں درجنوں طبی مراکز بند کرادیئے

افغانستان میں غیرملکی این جی او کےتحت چلنے والے درجنوں طبی مراکز طالبان نے بند …