جمعہ , 3 جولائی 2020

صدارتی طرز حکومت کے لیے ترکی میں ریفرنڈم جاری

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک )ترکی کو پارلیمانی طرز حکومت کے بجائے صدارتی طرز حکومت میں تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلے کے لیے ریفرنڈم میں ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردگان ملک کے پارلیمانی سسٹم کو ایگزیکٹو صدارت سے بدلنا چاہتے ہیں۔ آج کے ریفرینڈم کی منظوری کی صورت میں اردگان سنہ 2029 تک اپنے عہدے پر قائم رہیں گے۔

رجب طیب اردگان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کو جدید طرز پر لانے میں مدد ملے گی۔ تاہم ان کے مخالفین کو خدشہ ہے کہ یہ آمریت کا باعث بن سکتی ہے۔
ترکی میں ہفتہ کے روز سیاست دانوں نے ریفرینڈم کے لیے ہونے والی مہم کے آخر روز ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی اپیلیں کیں۔

آج کے ریفرنڈم کے لیے 1,67,000 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جہاں ساڑھے پانچ کروڑ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس ریفرنڈم کے نتائج اتوار کی شام آنے کی توقع ہے۔

اگر ریفرنڈم کے نتائج صدر اردگان کے حق میں گئے تو انھیں کابینہ کے وزراء، ڈگری جاری کرنے، سینیئر ججوں کے چناؤ اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیار حاصل ہو جائیں گے۔ترکی کے صدر کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

آمرانہ طرز حکمرانی نے ترکی کو نقصان پہنچایا۔ اپوزیشن کی ایردوآن پر تنقید

انقرہ: ترکی میں اپوزیشن رہنما کمال قلیچ دار اولو نے ایک بار پھر ملک میں …