ہفتہ , 4 جولائی 2020

ترکی: صدارتی نظام کے حق میں 52.8فیصد ووٹ

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک )ترکی میں صدارتی نظام رائج کرنے کیلئےہونے والے ریفرنڈم میں صدر طیب اردگان کو برتری حاصل ہے اور اب تک آنے والے نتائج کے مطابق صدارتی نظام کے حق میں لگ بھگ 53فیصد ووٹ پڑچکے ہیں۔بتا یا جاتا ہے کہ نوے فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے، جس میں سے 52.8فیصد ووٹ صدر جب طیب اردگان کے حق میں پڑے ہیں اور جس میں ملک میں صدارتی نظام کے لیے آئینی تبدیلی کی اجازت دی گئی ہے۔جبکہ اسکے خلاف 47.1فیصد ووٹ پڑے ہیں۔

کامیابی کی صورت میں صدر اردوان کو بھرپوراختیارات حاصل ہو جائیں گے جب کہ وزیراعظم کا عہدہ ختم ہو جائے گا اور اس کی جگہ نائب صدر لے لے گا۔اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں اراکین کی تعداد 550 سے بڑھ کر 600 ہو جائےگی جب کہ رکن پارلیمنٹ بننے کے لئے عمر کی حد 25 سال سے کم کر کے 18 سال ہو جائے گی۔ریفرنڈم کے لئے ملک بھر میں ایک لاکھ 67 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم گئے تھے، ریفرنڈم کے دوران پانچ کروڑ پچاس لاکھ افراد حق رائے دہی استعمال کرنے کے حق دار تھے۔

یہ بھی دیکھیں

آمرانہ طرز حکمرانی نے ترکی کو نقصان پہنچایا۔ اپوزیشن کی ایردوآن پر تنقید

انقرہ: ترکی میں اپوزیشن رہنما کمال قلیچ دار اولو نے ایک بار پھر ملک میں …