جمعرات , 15 نومبر 2018

وزیر اعظم نواز شریف نے قومی صحت پروگرام کا افتتاح کر دیا

اسلام آباد: وزیراعظم محمد نواز شریف نے قومی صحت پروگرام کا افتتاح کر دیا جس کے تحت سات بیماریوں کا علاج معالجہ مفت کیا جائے گا پہلے مرحلے میں پروگرام ملک کے پندرہ اضلاع میں شروع کیا جائے گا بارہ لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ فراہم ہون گے اور سالانہ تین لاکھ روپے تک علاج کی سہولت حاصل ہوگی، علاج و معالجے کی سہولیات سے متعلق ہیلپ لائن پر مفت کال کی سکے گی۔ جب کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اب غریب کو علاج کیلئے جائیداد نہیں بیچنی پڑ ے گی غریب خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت دی جا ے گی  قومی پروگرام سیاست نہیں عبادت ہے اور مفاد عامہ کے کاموں میں کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے  پروگرام میں دو صوبے شامل ہیں، خواہش ہے تمام صوبائی حکومتیں بھی شامل ہوں قومی صحت کارڈ کا غلط استعمال کیا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ بدھ کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی زندگی کا یہ تجربہ ہے کہ جب کسی غریب خاندان کا کوئی فرد کسی مہلک بیماری کا شکار ہوتا ہے تو جائیدادیں تک بک جاتی ہیں اور خاندان قرضوں میں جکڑے جاتے ہیں تا ہم اب ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب غریبوں کے علاج کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ یہ میرے لئے بہت خوشی کا باعث ہے کہ آج میں اپنے اہل وطن کیلئے وزیر اعظم نیشنل ہیلتھ پروگرام کا آغاز کر رہا ہوں ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ کم آمدنی والے خاندانوں کو صحت کی معیاری سہولیات بلامعاوضہ فراہم کی جائیں گی۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے افراد کو صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا یقینی بنانا ہے۔ آج اپنے منشور میں عوام سے کئے گئے ایک اور وعدے کوعملی جامعہ پہنا رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے گھرانوں کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کی جائے گی اور خطرناک امراض کا علاج بلا معاوضہ کرا سکیں گے۔ اس پروگرام کے نفاذ کے بعد کوئی اس لئے علاج سے محروم نہیں رہے گا کہ وہ علاج کرانے کی استطاعت نہیں رکھتا، اب یہ نوبت نہیں آئے گی کہ غریب بیمار ہو اور اسے گھر کی چیزیں بیچنے پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ کسی غریب گھر کا فرد مہلک مرض کا شکار ہو جائے تو جائیداد تک بک جاتی ہے اور خاندان قرض میں جکڑ کر رہ جاتا ہے۔ لواحقین کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو بیماری کی حالت میں نہیں دیکھ سکتے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا کہ کیونکہ ان کا علاج حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس پروگرام کے تحت علاج کے اخراجات حکومت برداشت کر ے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں صحت کا شعبہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری میں آتا ہے اور وہ عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں، میں تو چاہتا ہوں کہ ہر شہر اور قصبے میں جدید ہسپتال موجود ہوں، ادویات دستیاب ہوں جو سب کی دسترس میں ہوں لیکن پاکستان میں اور بھی مسائل ہیں اور وسائل کم ہیں لیکن مشکل حالات کے باوجود نیشنل ہیلتھ سروسز کو غریب افراد کی خاطر اس پروگرام کو بنانے کا ٹاسک دیا اور نیشنل ہیلتھ سروسز نے قابل عمل پروگرام ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ میں اس پروگرام پر سائرہ افضل تارڑ، مریم نواز شریف، سیکرٹری ہیلتھ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس پروگرام میں ذاتی دلچسپی لی۔ اسی طرح سے سٹیٹ لائف انشورنس اور نادرا کو بھی شاباش دیتا ہوں جنہوں نے بہت محنت کے ساتھ اس پروگرام کو ترتیب دیا۔ نواز شریف نے بتایا کہ یہ پروگرام 23 ضلعوں میں شروع کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں 15 اضلاع میں اس پروگرام پر عمل درآمد شروع ہو گا اور تقریباً 32 لاکھ خاندان صحت کی سہولیات سے مستفید ہوں گے بعد میں اس پروگرام کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ یہی وہ اصل خدمت ہے جس کی ہم بات کرتے ہیں اور یہ عبادت ہے۔ اس موقع پر سائرہ افضل تارڑ نے وزیراعظم کو پاکستان صحت کارڈ سے متعلق بریفنگ دی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ صحت پروگرام کا اجراعوام سے کیے گئے ایک اور وعدے کی تکمیل ہے، رکاوٹوں کے باوجود ایک سال میں پروگرام کا آغاز کر دیا گیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں 50 فیصد افراد بیماریوں کی وجہ سے غربت کا شکار ہیں وزی رمملکت سائرہ افضل تارڑ نے بتایا کہ صحت پروگرام کارڈ سے ہر خاندان کو سالانہ 3 لاکھ روپے تک علاج کی سہولت حاصل ہوگی اور 3 لاکھ روپے سے زیادہ کے علاج کے اخراجات میں پاکستان بیت المال تعاون کرے گا، کارڈ ہولڈر خاندان سرکاری اور نجی ہسپتال سے علاج کرا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ملک کے15 اضلاع میں قومی صحت پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت ہیپاٹائٹس  ایچ آئی وی، جگرکے امراض اور دل کے امراض سمیت 7 بیماریوں کا مفت علاج کیا جائے گا پاکستان صحت کارڈ کے ذریعے پورے خاندان کا علاج ممکن ہوگا۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں 15 اضلاع میں پروگرام شروع کیا جائے گا۔ وزیراعظم قومی صحت پروگرام کے تحت 7 خطرناک بیماریوں کا علاج مفت ہوگا اور قومی صحت پروگرام کے تحت شوگر اور دل کی بیماریوں کا علاج کیا جائے گا۔ وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ رکاوٹوں کے باوجود ایک سال میں صحت پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے غریب عوام کو صحت کی مفت اور معیاری سہولیات فراہم کرنا وزیراعظم نواز شریف کا خواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ پاکستان کی تاریخ میں صحت عامہ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ اس پروگرام میں شفافیت اور میرٹ کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارد کے ذریعے معمولی بیماریوں کے لئے 50 ہزار روپے رکھے گئے اور مہلک بیماریوں کے علاج کے لئے 3 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ پروگرام کے تحت مستحق افراد بھی معیاری نجی ہسپتالوں سے علاج کرا سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے صحت کے لئے آسان قرضہ اسکیم کا بھی اجراء کیا ہے جس کے ذریعے نجی ہسپتال جدید طبی الات خرید سکیں گے۔ تقریب کے دور ان چیئرمین نادرا عثمان مبین سے وزیر اعظم نے استفسار کیا کہ اگر سسٹم ڈاؤن ہو گیا تو آپ کیا کریں گے جس پر انہوں نے بتایا کہ سسٹم بیٹھنے کی صورت میں بھی مریض کو ہسپتال میں داخل کر لیا جائے گا اور اب تک 63 ہزار خاندانوں کے صحت کارڈز بن چکے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی صحت پروگرام وزیر اعظم کی خواہش تھی، پروگرام کو ملک بھر میں پھیلایا جائے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ قومی صحت پروگرام کو ملک بھر میں پھیلایا جائے گا جس کیلئے کمزور افراد کا مختص وظیفہ 30 ارب سے بڑھا کر 95 ارب روپے کر دیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ قومی صحت پروگرام وزیر اعظم کی خواہش تھی عوام کی خدمت حکومت کی ترجیح ہے جس کیلئے فلاحی پروگراموں کو پاکستان بھر میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار، خرم دستگیر، سائرہ افضل تارڑ، مریم نواز، انوشہ رحمان، بلیغ الرحمان اور طارق فضل چودھری بھی تقریب میں شریک تھے –

یہ بھی دیکھیں

یورپی پارلیمنٹ کے صدر کا وزیرِ اعظم سےرابطہ، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر گفتگو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرِ اعظم عمران خان سے یورپی پارلیمنٹ کے صدر اینٹونیو تاجانی نے ...