پیر , 16 دسمبر 2019

ترک صدر طیب اردگان کے برے دن شروع

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک )ترکی میں ریفرنڈم کے بعد ترکی کی عوام دو حصوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔ ترکی میں ریفرنڈم میں اردوغان 51 فیصد ووٹ لے کر جیت گئے ہیں، اور اب اس ملک کا نظام پارلیمانی سے صدارتی ہو جائے گا۔اس ریفرنڈم میں ترکی کے 49 فیصد عوام نے اردوغان کی سلطنت عثمانیہ کے قیام کے منصوبے کو «نہ» کا ووٹ دیا، یہ مسئلہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ترکی سیاست پر اثرانداز ہوگا:

1 ۔اس ریفرنڈم میں حامی اور مخالف ووٹ برابر ہونے کی وجہ سے ترکی کی عوام دو حصوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔

2- جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے مخالفین کی گرفتاری سے حالات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے جیساکہ فوجی بغاوت کے بعد ہو گیا تھا۔

3- مخالف پارٹیاں اس ریفرنڈم کے ہونے کے خلاف تھے اور اب اس میں دھاندلی کا دعویٰ کر رہے ہیں، اس وجہ سے اردوغان کی حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔

4- اس ریفرنڈم سے ترکی یورپی یونین کا ممبر نہیں بن سکتا ہے، کیونکہ اس ریفرنڈم سے یورپ اور ترکی میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں اور اب وہ اس یونین کا حصہ نہیں بن سکتا ہے۔

5- صدر کے اختیارات بڑھنے سے ترکی کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی آئے گی اور اب اردوغان علاقائی سیاست میں زیادہ دلچسپی لینگے۔اگرچہ ان سب سے ان کی آمریت کے لیے راستہ فراہم ہو رہا ہے، لیکن اندرونی اور بیرونی مسائل کی وجہ سے اردوغان کے لیے مشکلات پیدا ہونگے۔

یہ بھی دیکھیں

سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر کو 2 سال قید کی سزا

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سوڈان کی ایک عدالت نے سابق  75 سالہ …