پیر , 1 مارچ 2021

2015ء صحافیوں کے لئے خونی سال

as119

عراق اور شام کے بعد بھارت صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ملک ہے۔ عراق میں سال 2015ءمیں 11، شام میں 19 اور بھارت میں 9 صحافی قتل ہوئے۔ رواں برس دنیا بھرمیں 110 صحافی ہلاک ہوئے۔  67 صحافیوں کو ان کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ دیگر 43 مختلف حالات میں مارے گئے۔ فرانس میں 8 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2014ءمیں دو تہائی صحافی جنگی علاقوں میں مارے گئے تھے۔ 2015ءمیں رپورٹ اس کے برعکس ہے دو تہائی صحافی پرامن ممالک میں ہلاک ہوئے۔ بھارت میں قتل ہونے والے 5 صحافی تو اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جان گنوا بیٹھے جبکہ 4 صحافیوں کو غیر یقینی وجوہات کی بنا پر قتل کیا گیا۔ صحافیوں کے قتل میں پاکستان اور افغانستان کا نمبر بھارت کے بعد ہے۔ بنگلہ دیش میں 4 ہلاک صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ اسکے علاوہ 27 سٹیزن صحافی اور 7 میڈیا ورکرز بھی اس سال مارے گئے، رواں سال 40 فیصد صحافی شدت پسند تنظیمون دولت اسلامیہ اور القاعدہ کا نشانہ بنے اس طرح پیشہ وارانہ ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران 2005ءسے اب تک ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد 787 تک جا پہنچی ہے۔ 2015ءمیں 54 صحافی اغوا کئے گئے جن میں سے 26 صرف شام میں اغوا کئے گئے جبکہ 153 صحافی جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایک اور عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ آج اس موضوع پر اپنی رپورٹ جاری کریگی۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …