بدھ , 13 دسمبر 2017

تفتان میں پاکستانی شیعہ زائرین کی حالت زار

ابلاغ نیوز (مانیٹرنگ ڈیسک) مظلوم پاکستانی شیعہ زائرین جو بے پناہ مشکلات برداشت کر کے عراق اور ایران کی زیارات کے لئے نکلے تھے جیسے ہی ایران کی سرحد پار کر کے اپنے ملک کے سرحدی شہر تفتان میں داخل ہوئے انہیں حکومت نے پاکستان ہاؤس نامی عمارت میں محصور کردیا۔

یہ پاکستانی زائرین جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں گذشتہ پندرہ روز سے تفتان میں پاکستان ہاؤس میں سیکورٹی کے نام پر محصور ہیں اور انہیں کسی بھی طرح کی بنیادی سہولت بھی حاصل نہیں ہے۔

پاکستان کا سرحدی شہر تفتان صوبہ بلوچستان کا ایک دور افتادہ اور صحرائی شہر ہے جس کی وجہ سے ان شیعہ زائرین پر دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہر وقت منڈلایا کرتا ہے۔  یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے شیعہ علما اور تنظیموں کی جانب سے مسلسل کوششوں اور مطالبات کے باوجود حکومت پاکستان نے زائرین کی سیکورٹی اور سہولت کے لئے اب تک کوئی خاص اقدام انجام نہیں دیا ہے۔

پاکستان سے ہر سال لاکھوں زائرین مقاماتِ مقدسہ کی زیارات کے لئے ایران اور عراق کا سفر کرتے ہیں۔ پاکستانی زائرین پر پاکستانی سرحدوں کے اندر اب تک کئی بار دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عالمی پیمانے پر ہتھیاروں کی تجارت میں اضافہ ہوگیا، برطانوی رپورٹ

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی ادارے سپری نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ہتھیاروں کی عالمی تجارت ...

2 تبصرے

  1. سید ذکی رضا

    پاک و ایران کشیده صورت حال آنے والے مشکل وقت کی طرف ایک واضع اشاره ھے. پاکستان کے لئے ضروری ھوچکا که وه سعودی امریکه ترکی دباو میں نا آیے اور قومی مفادات میں اپنی آزاد غیر جانبدار خارجه پالیسی بناے اور پراکسی وار کے چنگل سے باھر نکلے اور پاکستان کے پڑوسیوں کو اھمیت دیتے ھوے ایران و افغان و بھارت سے علاقای تجارتی دفاعی اور ثقافتی تعلقات کو مستحکم کرے یه مطالبه بھی ھے اور خرد مندانه تجویز بھی.

  2. سید عامر عباس زیدی

    تمام شیعہ افراد اس سلسلے مین چندہ اکٹھا کریں اور یہاں سکیورٹی اور تعمیرات کریں۔