بدھ , 23 اگست 2017

ٹرمپ ،سعودی ،اسرائیلی عسکری اتحاد

(ترتیب و تلخیص: آر آے نقوی)
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کی جانب سے دمشق انٹرنیشنل ائرپورٹ کے قریب ایک اسلحہ ڈپو پر حملے کی ٹائمنگ کا تعلق براہ راست سیاسی صورتحال سے ہے ۔ لبنان کے بعد شام وہ واحد عرب ملک ہے کہ جو غاصب اسرائیل کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے ،شام نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کیا ،کبھی بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات نہیں کی اور ہمیشہ سے فلسطینیوں کا سیاسی و عسکری میدان میں کھل کر حامی رہا۔ یہی وجہ کہ ہے کہ شام مسلسل اسرائیلی اور اسرائیلی آلہ کاروں کی جارحیت کا نشانہ ہے ۔لیکن اس وقت حملے کے پچھے پوشیدہ اہداف اور پیغامات کیا ہیں ؟

واشنگٹن اور تل ابیب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ عبری غاصب حکومت یعنی اسرائیل،سعودی عرب ،اردن اور فلسطین کے شہر رام اللہ کے دورے پر آنے والے ہیں۔

الف:ٹرمپ کے دورے کا مقصد عرب ممالک کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ ’’اسرائیلی امریکی عربی عسکری اتحاد ‘‘کی تشکیل میں سنجیدہ ہے، امریکی اسرائیلی قیادت میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ملکوں کا یہ عسکری اتحاد ’فرقہ وارانہ عسکری ‘‘اتحاد کا ہی ایک تسلسل ہے ۔

امریکی اسرائیلی قیادت میں تشکیل پانے والے اتحاد کا اصل ہدف پہلے سے واضح ہے کہ مشرق وسطی میں ’’ایران کے مقابلے ‘‘کے عنوان سے فرقہ ورانہ آگ کو بڑھکاناہے ،واضح رہے کہ اس سے قبل اسی فرقہ وارانہ آگ کو بڑھکانے کے لئے ’’شیعہ ہلال‘‘جیسے نعرے لگائے گئے جبکہ کچھ عرصے بعد اس کی جگہ ایک نئی اصطلاح نے لی یعنی وہ عرب ممالک جو اسرائیل کے ساتھ چل سکتے ہیں انہیں ’’معتدل ‘‘کہا گیا جبکہ اسرائیل مخالف ممالک کو شدت پسند ۔

ب:ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ اپنے اس دورے میں کوشش کریں گے کہ غاصب عبری ریاست اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کے درمیان ان پیمانوں پر صلح کرائیں جسے عرب ممالک نے ’’عرب امن روڈ میپ ‘‘کے نام سے پیش کیا تھا۔

ج:اسرائیلی اخبارات کے مطابق ٹرمپ یہودی مملکت کے ساتھ فلسطینی مملکت کو قانونی شکل دیتے ہوئے قبلہ اول کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کریں گے۔

د:کہا جارہا ہے کہ اگرپس پردہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوچکی ہوتی تو ٹرمپ کے دورے کو اسرائیلی تاریخی دورہ سے یاد نہ کرتے ،واضح رہے کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنا آیا ہے کہ مسلسل یہ خبریں گردش میں ہیںکہ واشنگٹن میں امریکی سرپرستی میں اسرائیل اور فلسطینوں کے درمیان ایک اہم کانفرنس ہونے جارہی ہے کہ جس میں ’’معتدل ‘‘کہلانے والے عرب ممالک سعودی عرب کی قیادت میں شریک ہونگے ۔

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ غاصب ریاست اسرائیل کا وزیر اعظم امریکی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں پہلی بار کہ جب سے اسرائیل کا غاصب وجود ڈالا گیا ہے بعض عرب ملکوں کے بارے میں برملا کہنے لگا کہ ’’اب وہ ہمیں اپنا دشمن نہیں سمجھتے ‘‘اور ان عرب ممالک(سعودی عرب ،اردن اور مصر) کو اسرائیل معتدل ممالک بھی کہتا ہے ۔

حال ہی میں امریکی وزیردفاع نے دورہ مشرق وسطی کے وقت اسرائیل سے ہی یہ اعلان کردیا تھا کہ ’’ایک علاقائی دفاعی اتحاد ‘‘تشکیل پانے جارہا ہے ۔

عربی ملک شام کے انٹرنیشل ائرپورٹ کے قریب اسلحہ ڈپو پر اسرائیلی جارحیت کی کسی بھی عرب ملک نے اب تک مذمت نہیں کی ہے اور یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ بعض عرب ممالک نے اس حملے پر خوشی کا احساس کیا ہوگا ،کیونکہ اب ان بادشاہتوں اور اسرائیل میں دوستی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اسرائیل ان کی بادشاہت کے تسلسل کا گرانٹربن چکا ہے ۔

اس بات پر کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کے دورہ اسرائیل و سعودی عر ب کے وقت شام جیسے ملک کیخلاف اسرائیل خوب ماحول گرم کرے کا کہ جس نے ہمیشہ لاکھوں فلسطینیوں کو پناہ دینے کے ساتھ ساتھ حماس جیسی مزاحتمی تحریک کومکمل سیاسی و عسکری سہولیات فراہم کیں ہیں ۔

اسرائیل کی جانب سے طیاروں کے بجائے میزائل کا ستعمال اسرائیلی خوف کو ظاہر کرتا ہے کہ چند ماہ قبل شام کے اینٹی ائرکرافٹ نے اسرائیلی طیاروں کو مارگرایا تھا ۔

شام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اس حملےکا مقصد شام میں اسرائیل نواز دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کو متاثر کرنا ہے ،مبصرین کا کہنا ہے کہ شام کی اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ابھی حال ہی میں اسرائیلیوں نے کھل کر کہا تھا کہ ’’داعش کی جانب سے ایک راکٹ اسرائیل سرحد کے اندر آگرا تھا جس پر داعش نے فورا معزرت کرلی ‘‘۔

یہ بات بھی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اسرائیلی ہسپتالوں میں داعش اور القاعدہ شدت دہشتگردوں کا علاج ہوتا رہا ہے اور اس غرض سے اب اسرائیل نے شام کے ساتھ سرحدی علاقے میں متعدد کیمپ بھی قائم کئے ہوئے ہیں ۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ شام میں مزاحمتی بلاک نے گذشتہ چھ سالوں میں ملٹی نیشنل دہشتگردی اور عسکریت پسند ی کا خوب ڈٹ کرمقابلہ کیا ہے اور مسلسل کامیابی حاصل کی ہے یہاں تک کہ اب زمینی صورتحال شام کے کنٹرول میں ہے ۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر میڈیا میں نشر ہونے والی رپورٹس صحیح ہوں تو ٹرمپ کا دورہ، مشرق وسطی میں موجود آگ کو مزید بھڑکا دے گا اور اس بات کا پورا پورا امکان ہے کہ مشرق وسطی کسی بڑے تصادم کی جانب تیزی کے ساتھ بڑھے ۔

صرف چند دن ہی کی تو بات ہے دیکھنا ہے کہ ٹرمپ مشرق وسطی میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کیاکچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کیا وہ اس میں کامیا ب بھی ہوں گے ۔۔؟بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا افغانستان میں داعش اور طالبان ایک ساتھ ہیں؟

اگست 2017 کو کچھ مسلح افراد نے افغان پولیس اور میرزا اولنگ گاؤں پر حملہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے