منگل , 23 مئی 2017

کیا القاعدہ اور داعش میں اتحاد ہوگا؟

(تسنیم خیالیؔ)
دہشت گرد تنظیم داعش اُس وقت معرض وجود میں آئی جب دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈرزاور سرگرم ارکان نے تنظیم سےعلیحدگی اختیار کی ۔دنیا کو خوف میں مبتلا کرنیوالی داعش نامی تنظیم در اصل القاعدہ کی کوکھ سے نکلی ہے۔ تب سے لیکر آج تک دونوں تنظیموں کے درمیان اختلافات اور دشمنی چلی آرہی ہے۔ القاعدہ کے سرغنہ ایمن الظاہری کی نظر میں داعشی باغی ہیں اور ابوبکر البغدادی کی بیعت جائز نہیں ،جبکہ داعش والوں کا کہنا ہے کہ القاعدہ اپنی ’’اسلامی ‘‘جہادی اور اصل روح سے دور ہوگئی ہے۔

یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ داعش کا خاتمہ ہوجائیگا، حالانکہ داعش کے حالات دن ا بتر ہورہے ہیں۔ داعش نے جن شہروں پر قبضہ کیا تھا وہ یکے بعد دیگرے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں۔ داعش جو کم عرصے میں دنیا کی امیر ترین دہشت گرد تنظیم بنی، آج بدترین اقتصادی حالات سے دو چار ہے۔ علاوہ ازیں داعش کی صفوں میں شامل جنگجوئوںکی بڑی تعداد داعش کو چھوڑ کر فرار ہورہی ہیں۔

القاعدہ کا حال بھی داعش سے بہتر نہیں، گذشتہ دس سالوں میں القاعدہ اپنے بہت سے کمانڈروں سے محروم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اس کی دہشت میں کمی واقع ہوئی اور اب القاعدہ جزیرہ نما عرب کے جنوب میں اور یمن میں ہی رہ گئی ہے۔

گذشتہ اپریل کے وسط میں عراقی نائب صدر ایاد علاوی نے انکشاف کیا القاعدہ کے سرغنہ ایمن الظواہری اور داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی کے درمیان دونوں تنظیموں کے درمیان اتحاد قائم کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ اس بات کی تصدیق روسی فیڈرل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ’’الیگزینڈر بورتنکو نے بھی کی ۔

اس حوالے سے ’’نیشنل انٹرسٹ‘‘نامی رسالے کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور داعش کے درمیان اتحاد کا قیام بعید از امکان نہیں کیونکہ دونوں تنظیموں کی سوچ اورآئیڈیالوجی ایک ہی ہے۔

بہر حال القاعدہ اور داعش کے درمیان اتحاد قائم ہو یا نہ ہو دونوں کیخلاف جاری کارروائیاں نہیں رکیں گی دونوں تنظیموں کے درمیان اتحاد قائم ہونا اتنا بھی آسان نہیںہے، جیسا کہا جارہا ہے۔ کیونکہ دونوں تنظیموں کے درمیان اختلافات عروج پر ہیں جنہیں ختم کرنا آسان نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مختلف محاذوں پر شکست کے بعد دونوں تنظیم ایک ہونگی یا نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیسی کی اسلامی امریکی سمٹ میں شرکت کا راز

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) متعدد ذرائع ابلاغ میں انکشاف ہوا ہے کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے