پیر , 26 جون 2017

موصل آزادی سے بہت قریب

(تسنیم خیالیؔ)
عراقی صوبہ نینویٰ کےمرکزی شہر اورآبادی کے لحاظ سے عراق کےدوسرےبڑےشہر موصل پر دہشت گرد تنظیم نے جون 2014ء میں قبضہ جمایا تھا۔ داعش نے شہر پر اپنا مکمل قبضہ محض 2 دنوں میں جمایا تھا اور موصل سے ہی داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی نے اپنی نام نہاد ’’دولت اسلامیہ ‘‘کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

16اکتوبر 2016ء کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے موصل کو داعش سے آزاد کرانے کیلئے آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا۔ زمینی آپریشن میں عراقی انسداد دہشت گردی کی فورس، عراقی جو، فیڈرل پولیس ،لوکل پولیس فورس، عراقی رضاکار فورس (الحشد الشعبی)اور پیشمرگہ (کرد فورس )ائیر فورس اور عالمی اتحاد کی فضائی فورس نے حصہ لیا۔

موصل کو دریائے دجلہ دائیں اور بائیںدو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ،داہنی حصہ رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے بڑا ہے ،یہی نہیں بلکہ داہنا حصہ داعش کا بہت مضبوط گڑھ ہے۔ موصل آپریشن میں سب سے پہلے بائیں حصے کو آزاد کرایا کیونکہ یہ حصہ دوسرے حصے کے مقابل زیادہ آسان تھا، 24جنوری 2017 عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے موصل کے بائیں حصے کی مکمل آزادی کا اعلان کیا تھا۔ بائیںحصے کی آزادی کے بعد داہنی حصے میں داعش کیخلاف آپریشن شروع کیا گیا اور تمام توقعات کے برعکس عراق کی تمام فورسز نے تیز رفتاری سے پیش رفت کی اور داعش کیلئےدہشت کی علامت بن گئی اور آج موصل کے دائیں حصے کا 93فیصد کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

موصل کا داہنی حصہ 69فیصد رہائشی علاقوں پر مشتمل ہے جن میں سے 59 فیصدعلاقوں پر عراقی فورسز کا کنٹرول ہے ،جبکہ 10علاقے اب بھی داعش کے قبضے میں ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ دائیں حصے کی مکمل آزاد ی کچھ دنوں میں ہوجائے گی، عراقی فورسز بھی پر اُمید ہے کہ موصل کی مکمل آزادی ماہ رمضان سے پہلے ہو جائیگی۔ موصل کی داعش سے مکمل آزادی عراق اور علاقے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی، مگر بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موصل کی آزادی کے بعد امریکہ عراقیوں کیلئے کوئی اور مصیبت کھڑی کرنے کی تیاری کرہا ہے لہٰذا عراقیوں کو بھی اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قدم اٹھانے چاہیے اور عراقیوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ نے ہی عراق میں داعشیوں کے قدم جمائے تھے اور داعش کی شکست کے بعد امریکہ کچھ اور بھی کرسکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت اور روس میں فوجی تعاون کا معاہدہ

نیودہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو اور ان کے بھارتی ہم منصب ارون ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے