پیر , 23 اکتوبر 2017

داعش کے راز فاش ہونے پر صہیونی حکومت کیوں چراغ پا ہورہی ہے؟

پہلی بار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے معتبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے نقل کیا کہ گزشتہ ہفتہ ٹرمپ نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات میں داعش کے خفیہ اسرار کے بارے میں گفتگو کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس ملاقات میں داعش کے خفیہ ٹھکانوں اور اس کے دیگر اہم اسرار کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ روزنامے کے مطابق، اس رپورٹ کو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ملک نے فراہم کیا تھا اور یہ اطلاعات اس قدر حساس ہیں کہ ان کے بارے میں گنے چنے امریکی حکام کو اطلاع ہے۔

اگرچہ رپورٹ میں اس امریکی اتحادی کا نام نہیں لیا گیا ہے لیکن جلد ہی یہ سب پر واضح ہوگیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس اتحادی کی طرف اشارہ کیا ہے وہ صہیونی حکومت ہے۔ تل ابیب اور واشنگٹن نے اس طرح کی قیاس آرائیوں پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے مگر امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات اسرائیل نے ہی فراہم کی تھیں۔ چنانچہ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی صدر نے روسی حکّام کو جو اطلاعات بتائی ہیں وہ اسرائیل نے فراہم کی تھیں اور طے ہوا تھا کہ اسرائیل کی اجازت کے بغیر ان اسرار کو کسی ملک سے شیئر نہیں کیا جائے گا۔

امریکی میڈیا کے مطابق مذکورہ اسرار کے فاش ہونے کے بعد اسرائیلی حکام نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔داعش سے متعلق اسرار کے فاش پر صہیونی حکومت کی برہمی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی حکومت کو داعش کے سلسلے میں کافی معلومات تھیں ورنہ اس قدر برہمی کا اظہار بےمعنیٰ ہے۔

البتہ داعش اور صہیونی حکومت کا رابطہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ خود صہیونی حکام بارہا اپنے اس رابطے کا اظہار کیا ہے۔ تین ہفتہ قبل صہیونی وزیر دفاع موشے یعلون نے اپنے ایک بیان میں فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ‘داعشیوں نے ایک بار غلطی سے ہمارے جوانوں پر فائرنگ کردی تھی مگر پھر فوراً ہی انہوں نے معافی مانگ لی’۔ اسی طرح اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس چیف ہیلوی نے ایک کانفرنس میں داعش کو پے در پے ملنے والی شکستوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اسرائیل اپنا زور صرف کردےگا تاکہ وہ اس حالت میں نہ رہیں۔ ممکن ہے اسرائیلی حکومت عملی طور پر براہ راست داعش کی مدد کرے’۔

اس طرح کے اعلانیہ بیانات سے ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ صہیونی حکومت اپنے اور داعش کے تعلقات کو مخفی رکھنا چاہتی ہے اور اس کے فاش ہونے پر اسے افسوس ہورہا ہے بلکہ اس بیچ جو بات صہیونی حکومت کو پریشان کررہی ہے وہ یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹرمپ نے داعش سے متعلق جو اطلاعات روس کے حوالے کی ہیں ان کی بنیاد پر داعش کا کام وقت سے پہلے تمام کردیا جائے۔ چنانچہ سی آئی اے کے ریٹائرڈ افسر جان سائفر نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ روسی انٹلی جنس کے پاس اطلاعات کو جمع کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے نقطے سے پوری تصویر بنا لیتے ہیں۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ روسی انٹلی جنس ٹرمپ کے بیانات کو اپنی دیگر اطلاعات کے ساتھ جوڑ کر داعش کے تعلق سے اہم معلومات حاصل کرسکتی ہے۔بشکریہ سچ ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

شمال مغربی سرحد پر دستک دیتی جنگ

(تحریر: ثاقب اکبر) پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر افغانستان کے اندر داعش دن بدن ...