منگل , 23 مئی 2017

امریکہ دو راہے پر، داعش کے بعد رقہ کسے ملےگا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد سے جلد داعش کا خاتمہ کردیں گے۔ اس لیے ان دنوں وہ داعش کے خودخواندہ دارالخلافت کو ختم کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ کررہے ہیں تاکہ یہ ‘اعزاز’ ان سے کوئی چھین نہ لے۔ اس ‘عظیم’ کام کے لیے انہوں نے کردوں کو وسیع پیمانے پر اسلحے بھی فراہم کئے جس کی وجہ سے ترکی کی ناراضگی مول لینی پڑی۔

اس وقت کرد، سیرین ڈیموکریٹک آرمی کے نام سے داعش کے خلاف جنگ کررہے ہیں اور رقہ کی سرحدوں تک پہنچ چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داعش کی شکست تو یقینی ہے مگر جس مسئلے کے بارے میں کسی قسم کی پیشنگوئی کرنا مشکل ہے وہ رقہ کا مستقبل ہے۔ کیونکہ اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ داعش کے بعد اس خطہ پر کس کی حکمرانی ہوگی۔

کردوں کو بخوبی علم ہے کہ رقہ کے رہنے والے زیادہ تر افراد عربی بولتے ہیں اور انہیں کردوں کی موجودگی بہت زیادہ پسند نہیں ہے۔ اسی وجہ سے کردوں کو بھی اس شہر کے تسلط میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ وہ اگر امریکی پیادہ نظام کا کردار ادا کررہے ہیں تو صرف اس لیے تاکہ وہ اپنے وقار و اعتبار کو مزید بڑھا سکیں اور شام کے مستقبل کے تعلق سے حکومت سے مذاکرات میں اہم فریق بن سکیں۔

میڈیا ذرائع میں یہ بتایا گیا کہ ترکی نے رقہ پر کردوں کی حکومت کی شدید لفظوں میں مخالفت کی ہے جس کی وجہ سے امریکہ نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ داعش کا کام تمام ہونے کے بعد رقہ میں کردوں کا رول ختم ہوجائےگا اور انہیں شہر کا اختیار نہیں دیا جائےگا۔

ایسے حالات میں امریکہ کے پاس شہر رقہ کے لیے دو ہی آپشنز ہیں۔ پہلا آپشن تو یہ ہے کہ امریکہ براہ راست اپنی فوج رقہ میں اتارے تاکہ وہ اس علاقے کا سرپرست اور چودھری بن کر شام کے شمال مشرقی علاقے میں نئی حکومت کی بنیاد رکھ سکے۔ اسی سلسلے میں چند دنوں پہلے خبر آئی تھی کہ امریکی صدر کے مشیر میک ماسٹر شمال مشرقی شام میں ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجیوں کو بھیجنے کے لیے ٹرمپ کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کے لیے سعودی اور صہیونی حکومتیں بیتاب ہیں تاکہ اس منصوبے کے ذریعے سے خطے کی شیعہ حکومتوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کی جاسکے۔

مگر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس منصوبے کا عملی ہوپانا بہت مشکل ہے۔ اول تو یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات کے دوران ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ ملک سے باہر کسی حکومت کو بنانے اور اس کی حمایت کرنے کے مخالف ہیں۔ دوسرا مسئلہ عراق میں امریکہ کا تلخ تجربہ ہے۔ کیونکہ صدام حسین کے بعد واشنگٹن حکومت نے حکومت سازی کی بہت کوشش کی مگر نہ صرف اس کی یہ کوشش ناکام ہوئی بلکہ اسے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ اگر امریکہ نے شام میں کوئی نئی حکومت بنانے کی کوشش تو اسے عالمی برادری کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ یہ کام شام کی قومی حاکمیت کے خلاف شمار ہوگا۔

اور دوسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے امریکہ رقہ کو قبائلیوں اور مقامی کونسل کے حوالے کردے کہ جن کے شام کی مرکزی حکومت سے اچھے تعلقات ہیں۔ رپوٹس اور مختلف تجزیات کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ شاید اس دوسرے آپشن کو ہی ترجیح دیگا۔ وال اسٹریٹ نے چند دنوں پہلے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے لکھا تھا کہ امریکی فوجی رقہ جائیں گے، وہاں کے حالات کا جائزہ لیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہاں پر بسنے والے قبائلیوں کی سربراہی کن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ شام کی حکومت کو ان جزئیات کا علم ہے۔ ہم 2020 میں رقہ میں نہیں رہیں گے مگر حکومت وہاں پر ہوگی۔

اس بات پر ایک دوسری دلیل دمشق اور ماسکو کا موقف ہے۔ شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے گزشتہ ہفتہ پیر کے روز داعش کے خلاف لڑنے والی سیرین ڈیموکریٹک آرمی کی حمایت کی تھی۔ جب کہ دوسرے ہی روز روسی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ماسکو حکومت داعش سے آزاد کرائے علاقوں پر مقامی کونسل بنانے کی حامی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ‘مگر مقامی کونسل کو شامی حکومت کو اوور ٹیک کرنے کا حق نہیں ہوگا’۔بشکریہ سچ ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ہم بھی وہیں موجود تھے !

وسعت اللہ خان اب تک مجھے مصر کے آمر عبدالفتح السسی کی ٹرمپ سے ریاض ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے