بدھ , 23 اگست 2017

بلیک واٹر ایک بار پھر عراق میں ۔۔۔۔ایک نئے نام اور صورت میں

(تسنیم خیالیؔ)
عراق پر اس وقت لازم ہے کہ وہ احتیاط برتے کیونکہ بدنام زمانہ’’بلیک واٹرکمپنی ‘‘پھر سے عراق میں ڈیرے ڈالنے لگی ہے مگر اس بار ایک نئے نام سے اور نئی صورت میں ’’بلیک واٹر ‘‘عراق میں ’’آلیوز‘‘(زیتون)کے نام سے واپس آرہی ہے۔اس کمپنی نے نئے عراقی داراخلافت بغداد کو اردنی دارالخلافت سے جوڑنے والی بین الاقوامی سڑک کے حفاظت اور ترمیم کا کنٹریکٹ حاصل کرلیا ہے۔

یہاں 2اہم نقاط بتانا ضروری ہیں۔
نمبر 1: عراقی حکومت کے اس قدام سے امریکہ کے مقاصد پورے ہورہے ہیں ،جن میں ایک یہ بھی ہے کہ عراقی رضاکار فورس اور دیگر عراقی فورسز کو بعض معاملات سے دور رکھا جائے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی کو عراقی فورسز پر اعتماد نہیں۔ لہٰذا عراقی حکومت کو چاہیے کہ اس فیصلے کو معطل کرتے ہوئے غیر ملکی کمپنیوں پر اعتماد ختم کرلے جو عراقی انفرسٹریکچر کے ٹھیکے لے رہے ہیں۔

نمبر2: عراقیوں کیلئے تکلیف دہ بات یہ ہے جس کمپنی کو یہ ٹھیکہ ملا ہے وہ وہی بلیک واٹر کمپنی ہے جس نے ستمبر 2007ء میں 14عراقیوں کا دن دہاڑے قتل کیا تھا۔

آلیوز کمپنی ایک سکیورٹی سروسز کمپنی ہے ،جس کا مرکز امارات میں واقع ہے۔ یہ کمپنی سرکاری عمارتوں ،اداروں اور شخصیات کو سکیورٹی سروسز فراہم کرتی ہے اور یہ زیادہ عراق میں کام کرتی ہے۔ حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ کمپنی کا مرکز امارات میں ہے اور سروسز عراق میں فراہم کرتی ہے۔ ٹھیک’’بلیک واٹر ‘‘کی طرح جس کا مرکز بھی امارات میں تھا اور 2007ء تک بلیک واٹر اپنی خدمات عراق اور خلیجی ریاستوں میں فراہم کرتی تھی۔

2007ء میں بلیک واٹر پر عراقی حکومت نے مقدمہ دائر کیا تھا جسکے بعد کمپنی کو عراق سے نکال دیا گیا تھا، مگر یہ کمپنی اب بھی خلیجی ریاستوں میں بالخصوص امارات میں خدمات فراہم کررہی ہے۔ غیر ملکی اخباروں میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ’’بلیک واٹر ‘‘اماراتی جیلوں کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں اپنے ذمے لئے ہوئے ہے۔ علاوہ ازیں ’’بلیک واٹر ‘‘اور ابوظہبی ریاست کے حکمران شیخ خلیفہ بن زائدالنہیان کے درمیان ایک معاہدہ طے پا یا گیا تھا جسکے تحت کمپنی انسداد دہشت گردی کیلئے 800افراد پر مشتمل ایک فورس تیار کریگی، اس معاہدہ کی قیمت 500ملین ڈالر تھی۔

خلاصہ یہ ہے کہ ’’بلیک واٹر ‘‘ایک نئ شکل و صورت میں اور انتہائی خاموشی سے عراق میں پھر سے داخل ہوگئی ہے ۔جس پر ہرگز خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ عراقی عوام اور سیاستدانوں کو اس خطر ناک صورت حال کو سمجھنا چاہیے۔

عراقیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ خود ان غیر ملکی کمپنیوں کو دی جانے والی سکیورٹی کی ذمہ داریان بخوبی سنبھال سکتے ہیں۔ کیونکہ انہی عراقیوںپر مشتمل عراقی فورسز نے ملک میں داعش کا مقابلہ کیا اور اُسے شکست دی اور یہ عراقی فورسز دیگر اقسام کی سکیورٹی ذمہ داریاں احسن طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔

ایک اور خطر ناک پہلو یہ ہے امریکی سکیورٹی کمپنیوں کی آمد کی وجہ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد میں ایک صورت میں اضافہ ہورہا ہے جو کہ کسی بھی طور عراقیوں کیلئے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔.

یہ بھی دیکھیں

مسئلہ کشمیر پر اچکزئی اور مینگل کے تازہ خیالات

(تنویر قیصر شاہد) سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف کے خلاف عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے