پیر , 23 اکتوبر 2017

بحرینی حکومت پر امن مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہنے والوں پر زمین تنگ کر رہی ہے، شیخ میثم السلمان

منامہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بحرین کے انسانی حقوق کے سرگرم رہنما شیخ میثم السلمان نے کہا ہے کہ سیاسی حقوق کے لئے پر امن جدو جہد کی ترغیب دینے والے اور بات چیت اورباہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کے حامی سیاسی کارکنوں دیگر مذہبی علما کے ساتھ ملاقات میں بحرین میں رہنا آئے روز مشکل سے مشکل تر بنایا جا رہا ہے ۔

بحرینی حکام عوام پر مذہبی ،عوامی اور شہری سرگرمیوں پر ہر روز ایک نئی شکل میں پابندی عائد کر رہے ہیں ۔ ریڈیو فرانس انٹرنیشنل کے ساتھ ایک انٹرویو میں، شیخ میثم السلمان نے واضح کیا ہے کہ بحرینی حکومت نے بحرینی عوام کو قریب لانے والی کسی بھی سرگرمی کی کبھی حمایت نہیں کی۔ کبھی نہیں، بلکہ ایسی اجتماعی عبادات جو بحرینی عوام کو مل بیٹھنے کا موقع فراہم کر سکتی ہیں ان میں نماز جماعت، نماز جمعہ اورا س طرح کی دیگر تقریبات پر کئی بار پابندی عائد کر چکی ہے ۔

شیخ میثم السلمان نے کہا کہ سابق امریکی صدر اوباما نے کہا تھا کہ 19 مئی، 2011 قبطی گرجا گھروں کے مصر میں جلا ؤ اوربحرین میں شیعہ مساجد منہدم نہیں کیا جانا چاہئے تھا ۔تاہم اس دن کے بعد سے، بحرینی حکومت اب تک 38 شیعہ مساجد، ان میں سے ایک 1549 کی تاریخی مسجد بھی شامل تھی دانستہ طور پر منہدم کر چکی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ بحرین کی ستر فیصد کے لگ بھگ شیعہ آبادی ہے جو بحرینی حکومت کے امتیازی سلوک کی وجہ سے پسماندگی کا شکار ہیں۔ وہ اپنے لئے سماجی مساوات، انصاف اور جمہوری حق مانگ رہے ہیں اور ان کے یہ مطالبات جمہوری اور اصولی ہیں انہوں نے انسانی حقوق کے ممتاز سرگرم کارکن نبیل رجب کی صحت بارے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طبی آپریشن کے بعد انہیں مناسب طبی دیکھ بھال کی بجائے پھر جیل میں قید تنہائی میں منتقل کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نبیل رجب انسانی حقوق کے دفاع کی وجہ سے حکومتی انتقامی کارروائی کا شکار ہے۔ نبیل رجب کی طرح بعض دیگر سرگرم کارکن بھی اسی سیاسی انتقام کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق شیخ میثم نے بتایا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال بالکل اچھی نہیں ہے ،کسی بھی ریاست میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے بہترین طریقہ اس کے انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے آزادانہ انداز میں نگرانی سے ممکن ہے جس کی اس وقت بحرین میں موجودہ حکومت کے دور میں بالکل اجازت نہیں ہے ۔

بحرین میں انسانی حقوق کے محافظ یا تو قید میں ہیں یا پھرانہیں سفر کرنے کی اجازت نہیں، یا تو جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خود انہیں گزشتہ 18 مہینوں میں 26 سے زیادہ مرتبہ تفتیش کے لئے طلب کیا جا چکا ہے ۔ جنیوا میں منعقدہ عالمی انسانی حقوق کے جائزہ اجلاس میں بحرین سے انسانی حقوق کا کوئی کارکن شرکت نہیں کرسکا جبکہ 2012 میں ایسے اجلاس میں بحرین سے انسانی حقوق سے متعلق 47 افراد شریک تھے ۔

شیخ میثم السلمان نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اب اگر ایسے حالات اور صورت حال میں انہوں نے اپنے ملک بحرین میں قدم رکھے تو پھر یا تو حکومت انہیں گرفتار کر لے گی یا پھر ان کے سفر پر حکومتی پابندی عائد کر دی جا ئے گی۔

اس تناظر میں، شیخ سلمان نے عالمی برادری کے اس رویے پر شدید اظہار تاسف کیا کہ وہ بحرین میں انسانی حقوق کے محافظین کے خلاف کریک ڈاون کی صحیح انداز سے مذمت کا اظہار نہیں کرتی ۔ انہوں نے زور دے کر یہ بات کہی کہ بحرین کے بحران کا حل صرف مکالمے میں ہے جس سے ملک میں استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کیا بن سلمان نے واقعی اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا تھا؟

(تسنیم خیالی ؔ) گزشتہ ستمبر کے اوخر میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا تھا ...