ہفتہ , 16 دسمبر 2017

وسطی شام میں داعش کا حملہ: 50 افراد قتل

بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک) داعش نے شام کے وسطی صوبے حما میں سرکاری فورسز کے قبضے میں موجود دو دیہاتوں پر حملہ کرکے 50 سے زائد افراد کو قتل کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کے حوالے سے مانیٹرنگ کرنے والے برطانوی ادارے کا کہنا تھا کہ داعش نے عقریب اور المابوجیے نامی دیہاتوں پر حملہ کرکے کم سے کم 15 شہریوں اور حکومتی فورسز کے 27 اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔

مانیٹرنگ ادارے کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ دیگر 10 لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں جن کی شناخت نہیں ہوسکی۔گروپ نے بتایا کہ حما صوبے میں حملے کے دوران داعش کے 15 جنگجو بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی صنا نے واقعے کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ داعش کے حملے میں 20 شہری ہلاک ہوئے۔ادارے نے دعویٰ کیا کہ بیشتر شہریوں کے سرقلم کیے گئے تھے۔

مانیٹرنگ گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ حملے میں کم سے کم 3 شہریوں کو قتل کیا گیا ہے، جن میں ایک شخص اور اس کے دو بچے شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ داعش نے دونوں دیہاتوں پر قبضہ حاصل کرلیا ہے اور سرکاری فورسز کی جانب سے انھیں دوبارہ حاصل کرنے کیلئے کیے جانے والے حملوں کے باوجود داعش کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ مارچ 2015 میں مذکورہ گاؤں میں داعش نے ایک حملے کے دوران 37 شہریوں کے سر قلم کردیے تھے، اس علاقے میں صدر بشار السد کی برادری کے افراد بڑی تعداد میں آباد ہیں۔اس واقعے میں داعش نے مبینہ طور پر 50 شہریوں کو اغوا بھی کیا تھا جن میں نصف خواتین تھیں۔

یاد رہے کہ شام کے صوبہ حما کے کچھ علاقوں پر سرکاری فورسز، کچھ علاقوں پر شامی جنگجو اور داعش کا قبضہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران پر امریکہ کے تازہ الزامات بیت المقدس سے عالمی توجہ ہٹانے کی غرض سے ہیں:یمن

یمن کی اسلامی تنظیم انصار اللہ کے اعلی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران کے ...