بدھ , 23 اگست 2017

سنہ 1967ء کی عرب۔ اسرائیل جنگ کی تفصیلات پہلی بارمنظرعام پر

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک )اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ میں سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب۔ اسرائیل جنگ کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکومت کی سیکیورٹی کمیٹی کی جانب سے پہلی بار سنہ 1967ء کی چھ روزہ جنگ کی تفصیلات شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب تل ابیب کی طرف سے چھ روزہ عرب۔ اسرائیل جنگ کی تفصیلات شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چھ جون 1967ء کی جنگ کے دوسرے روز اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ’لیوی اشکول‘ نے کابینہ کا خصوصی اجلاس بلایا۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ اسرائیل نے جنگ میں غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں اوراسرائیلی فوج عرب ملکوں کی سرحدوں کو پار کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عرب افواج کی شکست کے بعد علاقائی سیاسی صورت حال تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے۔ اب اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں آئینی سیاسی مقام دلانے کا وقت آگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت کے وزیر برائے لیبر یگال الون نے کہا کہ پرانے بیت المقدس پر قبضے میں تاخیر کی وجہ سے امریکا اور وٹیکن کی طرف سے مداخلت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بیت المقدس پر قبضے کو موثر بنانے کے لیے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کی تجویز پیش کی۔

وزیر مناحیم بیگن نے تجویز دی کہ بیت المقدس اور اردن کے قبضے میں لیے گئے علاقوں کو مقبوضہ قرار دینے کے بجائے ’آزاد‘ کرائےگئے علاقے قرار دیا جائے۔

وزیر دفاع موشے ڈایان نے کہا کہ بیت المقدس میں فوج داخل کرنے سے گریز کیا جائے اور کچھ مزید انتظار کرلیا جائے کیونکہ ایسا کرنےسے فوج کو فلسطینیوں کے ساتھ لڑائی کا سامنا ہوسکتا ہے اور فوج کو گلی محلوں میں لڑائی لڑنا پڑسکتی ہے۔

ایک یا دو روز کے بعد جب بیت المقدس کے شہری خود سفید پرچم لہراتے ہوئے آئیں تو اس کے بعد فوج کو جبل مکبر میں لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اہم مسئلہ غرب اردن میں ایک ملین عرب باشندوں پر قابو پانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس سے عرب باشندوں کے فرار کا راستہ کھلا رکھا جائے۔

خیال رہے کہ سنہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کی تازہ تفصیلات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صہیونی ریاست القدس پرقبضے کی 50 ویں سالگرہ منانے کی تیاری کررہا ہے۔ اس بار صہیونی ریاست نے القدس پرقبضے کی سالگرہ کو سلور جوبلی کا نام دیا ہے۔

جنگ کے پروٹوکول کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ عرب علاقوں کو 8 گروپوں میں تقسیم کیا۔ یہ فیصلہ کیا کہ تمام عرب باشندوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی جائے اور اسرائیلی فوج ایک ایک گھر میں جا کر تفصیلات جمع کرے گی۔

اس طرح جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں میں کرفیو لگادیا گیا۔ 2500 اسرائیلی فوجیوں کو مقبوضہ علاقوں میں رہنے والی آبادی کی گنتی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ان فوجیوں میں عربی بولنے والے فوجی شامل کیے گئے اورانہیں ٹرانسپورٹ کی سہولت کے لیے 150 بسیں فراہم کی گئیں۔

گنتی کے بعد بتایا گیا کہ مقبوضہ وادی گولان کے باشندوں کی تعداد 6400، جزیرہ سیناء کی 33 ہزار، غزہ کی 35600 اور غرب اردن کے علاقوں کی چھ لاکھ آبادی سامنے آئی۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی انٹرپول وارنٹ کا غلط استعمال کر رہا ہے ، انجیلا مرکل

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے ترکی کی جانب سے اسپین میں ایک ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے