منگل , 23 مئی 2017

بہانے بنا کر سزا کم کرنے والے جج رہنے کے اہل نہیں: جسٹس آصف سعید

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں قتل کے تین مقدمات کی سماعت کے دوران دوملزموں ریاض احمد اورغلام قادرکو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا جبکہ ایک ملزم مدثر حسین کی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل مستردکرتے ہوئے خارج کردی ہے ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے سارا نظام عدل پر قائم ہے لیکن جب سچ ہی سامنے نہیں آئے گا تو عدل کیسے ہو گا؟ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ سچ نہ چھپائو اور سچ کے لیے گواہ بنو لیکن ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ کوئی سچا گواہ نہیں بنتا، یہ بھی المیہ ہے کہ قتل کے مقدمات میں رشتہ داروں کو گواہ بنا کر جھوٹی کہانی بنا لی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے جو جج بہانے بنا کر سزا کم کرتے ہیں وہ جج رہنے کے اہل نہیں۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ریاض احمد پر2005ء صادق آباد میں عمر فاروق نامی شخص کو قتل کرنے کا الزام تھا جس پر ٹرائل کورٹ اورہائی کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی ،سپریم کورٹ نے ملزم کو11 سال بعد بری کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے ،دونوں عدالتوں نے حقائق کا درست انداز میں جائزہ نہیں لیا۔

یہ بھی دیکھیں

نواز شریف کی تیاری بے سود, تقریر کا موقع ہی نہیں ملا

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکہ عرب اسلامی سربراہ کانفرنس کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے