منگل , 10 دسمبر 2019

عرب امریکہ سمٹ کے بعد راحیل شریف کا وطن واپسی پر غور !!!

تحریر: محمد سلیم

پاکستان کے سابق جرنیل راحیل شریف آجکل سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ اسلامی لشکر کے سپہ سالار کا عہدہ چھوڑ کر واپس پاکستان منتقل ہو جائیں۔

ہوا یوں کہ آج سے صرف 7 ماہ قبل دنیا کی واحد مسلمان اور ساتویں ایٹمی قوت کے سب سے طاقتور شخص جنرل راحیل شریف کو پچھلے مہینے سعودی منسٹری آف ڈیفنس کے کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ کے کلرک کی طرف سے مراسلہ ملتا ہے کہ فلاں تاریخ کو صحاب بہادر یعنی سعودی وزیر دفاع کی زیرقیادت ایک اہم میٹنگ ہو رہی ہے جس میں آپ کی شرکت ضروری ہے۔

جنرل صاحب یہ مراسلہ دیکھ کر بہت سیخ پا ہوئے۔ انہیں یہ گلہ تھا کہ سعودی وزیر دفاع نے انہیں خود کال کر کے میٹنگ کی مشاورت کیوں نہ کی۔

خیر، میٹنگ میں پہنچے تو پتہ چلا کہ امریکی صدر کی آمد کے سلسلے میں ایک جامع سیکیورٹی پلان ترتیب دینا تھا۔ جنرل راحیل شریف سے کہا گیا کہ وہ سعودی آرمی چیف کی بنائی ہوئی ٹیم کے ممبر ہیں اور اس ٹیم کا ٹاسک ہے کہ وہ ایک فول پروف سیکیورٹی پلان وضع کر کے صاحب بہادر کو پریزینٹ کریں۔

راحیل صاحب کو ایک مرتبہ پھر بہت غصہ آیا کہ یہ کیا بات ہوئی؟ وہ کیوں سعودی آرمی چیف کے نیچے بننے والی ٹیم کے ایک ممبر کی طرح کام کریں۔ لیکن "نوکر کی تے نخرہ کی” کے مصداق جنرل صاحب کو حامی بھرنا ہی پڑی۔

ایک ہفتے کی عرق ریزی کے بعد جب ایک جامع سیکورٹی پلان بن گیا تو اگلے دن پریزنٹ کرنے صاحب بہادر کے محل پہنچ گئے۔ منصوبے میں کچھ ترامیم پروپوز کر کے اسے منظور کر لیا گیا۔ پھر صاحب بہادر اپنے ساتھ سعودی آرمی چیف کو لے کر امریکی سفارتخانے چلے گئے تا کہ یہ منصوبہ انہیں دکھا کر داد وصول کر سکیں۔

راحیل شریف کو ایک مرتبہ پھر بہت غصہ آیا کہ سارا کام انہوں نے کیا لیکن امریکی سفارتخانے میں انہیں نہیں لے جایا گیا۔

اگلے دن انہیں اطلاع دی گئی کہ ان کا بنایا ہوا منصوبہ امریکی سفارتخانے نے رد کر دیا کیونکہ سی آئی اے اور پینٹاگون والے پہلے سے ہی ایک منصوبہ تیار کر چکے تھے۔ یہ منصوبہ سعودیوں کے زریعے راحیل شریف صاحب کو تھما دیا گیا تا کہ وہ اس پر عملدرآمد کر سکیں۔

امریکی صدر کے تین دن قیام کے دوران راحیل شریف صاحب کی دوڑیں لگی رہیں۔ انہیں چیف سیکورٹی گارڈ کی طرح ہر چیز پر نظر رکھنا تھی، جبکہ پاکستان میں یہ کام وہ ایک میجر یا کرنل لیول کے رینک سے لے لیا کرتے تھے۔

امریکہ سے جب سعودی عرب نے 110 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی خرید کی ڈیل سائن کر لی تو ایک جونئر سعودی افسر خوش خوش جنرل راحیل شریف کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اب میں اور آپ اس ٹریننگ کا حصہ ہوں گے جو جدید امریکی ہتھیار خریدنے کے ساتھ امریکی ماہرین ہمیں دیں گے۔

یہ سن کر راحیل شریف صاحب نے باقاعدہ اپنا سر پیٹ لیا۔

تمام سیاستدانوں، بیوروکریٹس، حاضر سروس اور ریٹائرڈ جنرل صاحبان کیلئے اس واقعے میں ایک سبق پوشیدہ ہے جو شاعر کئی دہائیاں پہلے ہی کہہ گیا تھا کہ؛

فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

جناب عالی! یہ پاکستان ہی ہے جو آپ کو یہ عزت اور مقام عطا کرتا ہے ورنہ دنیا میں آپ جہاں مرضی چلے جائیں، جتنا مرضی کما لیں، عزت اور رتبہ آپ کو اپنے ملک میں ہی مل سکتا ہے، باہر نہیں۔

اس ملک کی قدر کریں۔ اگر خدانخواستہ اسے کچھ ہوتا ہے تو آپ کی اپنی عزت میں کمی آئے گی۔ اگر یہ مضبوط ہوتا ہے تو آپ ہی کا نام اور وقار بلند ہو گا۔

ہمارا کام صرف مخلصانہ مشورہ دینا تھا، اب یہ آپ کا کام ہے کہ اس پر عمل کریں یا نظر انداز کر دیں۔

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کراچی میں ایف بی آر کے دفتر میں آتشزدگی

کراچی میں سندھ سیکریٹریٹ کے قریب فیڈل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے دفتر کی …