بدھ , 23 اکتوبر 2019

امریکی سینیٹر کا حکام کو پاکستان میں کارروائی کا مشورہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی کانگریس کے رکن ایڈم کنزنگر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو اپنی افغان پالیسی کی تعمیل کے لیے پاکستان کے خلاف سرحد پار سمیت کوئی بھی موثر اقدام اٹھا لینا چاہیے۔

ولسن سینٹر میں ایک تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کنزنگر نے کہا کہ ‘اگر زیادہ امداد یا کم امداد سے کام بن سکتا ہے تو میرے خیال میں یہ بہتر ہے لیکن ہمیں حتمی طور پر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ جب ضرورت پڑے گی تو ہم سرحد پار جائیں گے کیونکہ وہ ناکافی کارروائی کر رہے ہیں’۔

وہ افغانستان میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے ولسن سینٹر کے سربراہ، ڈائریکٹر، اور صدر جین ہرمین کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔

امریکی ریاست الینوئے سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن رکن پارلیمنٹ نے مشورہ دیا کہ امریکا، پاکستان کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی کو سخت ترین بنائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں ہمیں پاکستان کے ساتھ سختی برتنے کی ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ جب صدر ٹرمپ اپنی افغان پالیسی پر بحث کر رہے ہوں تو وہاں پر پاکستان کا ذکر بھی ضرور آئے گا’۔

خیال رہے کہ کنزنگر امریکی فوج میں میجر کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کو سرحد بنانے کے حوالے سے کنزنگر نے کہا کہ ‘ہم بارڈر سیکیورٹی اور افغانستان کے بارڈر گارڈز کے منصوبے پر بات کر چکے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس وقت پھیلے ہوئے ہیں’۔

امریکا کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی پر بات کرتے ہوئے کانگریس کے رکن نے کہا کہ ‘ہمیں چند چیزوں کو اپنانے کی ضرورت ہے اور میرے خیال میں ہمیں ایک مرتبہ پھر طالبان، حقانی نیٹ ورک، القاعدہ یا پاکستان میں موجود ان جیسے دیگر گروپس کے خلاف اسٹرائیک کو شروع کرنے کا سوچنا پڑے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم پاکستان کو مکمل طور پر پیچھے نہیں کر سکتے کیونکہ وہ دوسرے پہلو سے بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اور دوسری جانب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ صورت حال موجود ہے’۔

 

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوجیوں کو عراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں

بغداد: امریکی فوج کو شام سے خارج ہوکرعراق میں ٹھہرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ …