جمعرات , 24 اکتوبر 2019

پاکستان کو فرقہ وارانہ ریاست بنانے کی طرف ایک قدم

تحریر: فرحت حسین مہدوی

پاکستانی کالم نگار نے کہا ہے کہ یہ ملک شیعہ اور سنی مسلمانوں کا بنایا ہوا ملک تھا لیکن اب یہ دہشت گردانہ تکفیری تفکرات کے حامی اقلیتی ٹولے کی مرضی کے مطابق سعودی نظام حکومت کی اساس پر آگے بڑھایا جا رہا ہے جو کہ ایک المیہ ہے۔

پاکستان کی اسٹبلشمنٹ یا وہی ریاستِ پاکستان پر 1977 میں ضیاء الحق مسلط ہوئے تو بظاہر دینی جماعتوں نے ان کی ہمہ جہت مدد کی اور ضیاء الحق کو اسلامی نظام کے قیام کا نقیب سمجھ بیٹھیں؛ اور افواہ عامہ میں مشہور کیا جانے لگا کہ گویا ضیاء الحق امیرالمؤمنین ہیں اور جب افغانستان پر روس نے قبضہ کر لیا تو وہاں بظاہر اسلامی تنظیموں کو، جن کے سرکردہ افراد پہلے ہی سے پاکستان میں موجود تھےـ یہاں کی بظاہر اسلامی تنظیموں سے بھی اور خفیہ ایجنسیوں سے بھی جوڑ دیا گیا اور اگر پاکستانی انہیں امیرالمؤمنین کہنے میں جھجھکتے تھے تو انھوں نے انہیں امیرالمؤمنین کہا اور ان پر فخر کیا گو کہ بعد میں جب ان کے عزائم افغانیوں پر آشکار ہوئے تو پسپا ہو گئے، تاہم ابھی ضیاء الحق کے بوئے ہوئے بیج سے مزید امیرالمؤمنین اگنے تھے جن سے وہ غافل تھے۔۔۔۔

بہر صورت ضیاء الحق کو سعودیوں نے امیرالمؤمنین بنانے کی کوشش کی اور پاکستانی ریاست کی اتہاہ میں سعودیت اور وہابیت سرایت کر گئی یہاں تک کہ یہاں کے وزیر اعظم بھی سعودی مرضی سے بننے لگے اور یہاں کے آرمی چیفس شاید نہایت ذاتی اور قومی قسم کے مسائل میں بھی سعودیوں سے مشورے کرنے لگے اور یوں ریاست باندی کی باندی بننے کی طرف بڑھی۔ سعودی ریاست صہیونیوں کی باندی اور پاکستانی ریاست سعودیوں کی ۔۔۔!

یہاں تک کہ وہ اپنے دفاع کے سلسلے میں اس مقام تک پہنچ گئے کہ کسی پیشگی معاہدے کے بغیر پاکستان سے نفری بھرتی کرنے لگے اور ریاست کے پاس تعاون کے سوا کوئی چارہ ہی نہ تھا شاید اگر چارہ تھا بھی تو ہمارے حکمران اور ہمارے جرنیل اتنے مشتاق تھے سعودی ریاست کے تحفظ کے، کہ وہ انکار نہیں بلکہ خود اشتیاق ظاہر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آل سعود کی حفاظت کو پاکستان کی حفاظت کے برابر قرار دیا گیا۔

سعودی عرب سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں کو آزاد کر دیا گیا، کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے سرغنے اعلانیہ ایوانوں میں نظر آنے لگے، ایوانوں میں ان کی موجودگی کی تصویریں شائع ہوتے ہی ملک کے مختلف علاقوں اور سیکورٹی مراکز کو دھماکوں اور حملوں کا نشانہ بنایا گیا تا کہ عوام کو باور کرایا جا سکے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے خلاف ہونے والی شکایت ان کے لئے مہنگی پڑ سکتی ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے ریاست کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔

یہ ضیاء الحق والا پاکستان ہے اور اس کو یہیں پہنچنا تھا جہاں پہنچ چکا ہے، یہ ملک شیعہ اور سنی مسلمانوں کا بنایا ہوا ملک تھا لیکن اب یہ دہشت گردانہ تکفیری تفکرات کے حامی اقلیتی ٹولے کی مرضی کے مطابق سعودی نظام حکومت کی اساس پر آگے بڑھایا جا رہا ہے جو کہ ایک المیہ ہے۔

یہاں اہل سنت کی اکثریت ہے جو وہابیت کو "غیرِ اہلِ مذہب” سمجھتی ہے، یہاں کم از کم 6 کروڑ شیعہ رہتے ہیں جن کی آبادی سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ریاست اور عراق کی آبادی کے برابر ہے۔

اس ملک کے لئے شیعیان حیدر کرار نے عظیم قربانیاں دی ہیں، اس ملک کے بانی شیعہ ہیں؛ لیکن آل سعود کی خوشنودی کے لئے تکفیری ٹولے نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اب یہ مسلط بدعنوان اور تکفیری دہشت گرد ٹولہ مردم شماری کے بجائے مسلک شماری میں مصروف نظر آ رہا ہے۔

کیا یہ احتجاج کا زمانہ نہیں؟

کیا وہ لیڈران صاحبان جو شیعیان پاکستان کا نام لے کر لیڈری چمکا رہے ہیں، اور دنیا بھر میں ہمارے لیڈر کہلواتے ہیں، اب بھی غفلت کی نیند سوتے رہیں گے؟

کیا اب عالمی تنظیموں کو اس مسئلے میں کردار ادا کرنے کی دعوت دینے کا وقت نہیں پہنچا؟

کیا اب بھی پر فرض ہے کہ اس ریاست کے لئے جذباتیت کا شکار ہوں جو ہمیں فرقہ واریت کی بنا پر الگ تھلگ کرنا چاہتی ہے؟

کیا اب بھی ضیاء الحق کے پاکستان کو قائد اعظم کے پاکستان کی طرف پلٹانے کی تحریک چلانے میں لیت و لعل سے کام لینا چاہئے؟

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کسی قیمت پر استعفیٰ نہیں دوں گا: وزیراعظم عمران خان کا دو ٹوک اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کے مطالبے پر کسی بھی قیمت پر استعفیٰ …