منگل , 16 جولائی 2019

نام نہاد سعودی-امریکی اسلامی اتحاد کی دھجیاں بکھیرنے لگیں/ قطر کے جہاز ایرانی فضا استعمال کرنے لگے

(تجزیہ: سید محمد رضوی)
سعودی عرب نے اپنے ہی اتحادی ملک قطر پر بزعم خود دہشتگردوں کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے اپنی سرحد بند کردی ہے جس کے نتیجے میں قطر کے ہوائی جہاز ایران کی فضا استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: ایک اطلاع کے مطابق سعودی اور امارات نے قطر کی سرحد پر فوج پہنچا دی ہے اور جنگی حالات کے پیش نظر قطر کی حکومت نے اپنے عوام سے پرعزم رہنے کی اپیل کی ہے۔

سعودی عرب نے قطر کے لئے اپنی پروازیں بند کرنے کے علاوہ اپنی فضائی حدود کو بھی اس ملک کے جہازوں کی پروازوں کے لئے بند کردیا ہے۔

بحرین اور امارات نے بھی قطر کے لئے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں۔

3 ہمسایہ ممالک کی طرف سے فضائی حدود بند کرنے کے بعد قطر نے اپنی روزانہ 150 سے زیادہ غیرملکی پروازوں کے لئے ایران کی فضا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

واضح رہے قطر کی قومی ائیر لائن دنیا کی بڑی فضائی کمپنییوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی روزانہ 150 کے قریب بین الاقوامی پروازوں کے ساتھ دوحہ ائیرپورٹ دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی اقدامات کے بعد قطر نے ایران سے مدد کی اپیل کی ہے۔

ادھر ایران کی بندرگاہوں بندر عباس، بوشہر اور بندر لنگہ سے قطر کے لئے غذائی اشیاء اور روزمرہ ضروریات کے دیگر سامان برآمد کئے جارہے ہیں۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان اقدامات کے بعد سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد کی دھجیاں بھی بکیھرنا شروع ہوگئی ہیں۔

مبصرین کے مطابق جلد ہی ترکی بھی اس تنازعے میں حصہ لے سکتا ہے، کیوںکہ قطر میں ترکی کا فوجی اڈہ ہے اور دونوں ملک اخوان المسلمین اور حماس کے حامی ہیں جنہیں ٹرمپ کے دورہ ریاض کے دوران سعودی عرب نے دہشتگرد تنظیمیں قرار دیا تھا۔

ایران کی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے ٹیلیفونک رابطے کے ذریعے قطر کے خلاف سعودی اور دیگر ممالک کے اقدامات کا جائزہ لیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور ہندستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ اپنے تعلقات میں کمی نہیں لائیں گے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ سعودی عرب اور قطر کا تنازعہ 34 ممالک کے اتحاد کے بکیھرنے کا آغاز ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ قطر شام میں سعودیہ کے ساتھ تکفیری قوتوں کی امداد میں پیش پیش رہا ہے۔

نیز جنوری 2016ء میں شہید آہت اللہ شیخ نمر باقر النمر کی پھانسی کی وجہ سے رونما ہونے والے حالات کے بعد جب سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑے تھے تو قطر نے بھی ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں کمی کردی تھی۔بشکریہ تسنیم نیوز

یہ بھی دیکھیں

وفاق کی ڈکشنری میں گلگت بلتستان کی تلاش

(تحریر: لیاقت علی انجم) معروف دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے ایک …