جمعرات , 18 جولائی 2019

علیم ڈار امپائرنگ کی سنچری کے قریب

Aleem-Dar2

کراچی: کرکٹ کے عظیم پاکستانی امپائر علیم ڈار جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ میں اپنی امپائرنگ کی سنچری مکمل کرنے والے دنیا کے تیسرے امپائر ہوں گے۔

آئی سی سی کے اعلامیے کے مطابق علیم ڈار 2 جنوری سے کیپ ٹاؤن میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں اپنے فرائض انجام دیں گے یہ ان کے کیرئر کا 100واں ٹیسٹ میچ ہوگا۔

47 سالہ علیم ڈار نے اپنے 12 سالہ فرسٹ کلاس کرکٹ کیرئر میں 17 میچ کھیلے۔

فرسٹ کلاس سے ریٹائرمنٹ کے بعد علیم ڈار نے امپائرنگ میں اپنا کیرئر بنا لیا اور 2000 میں پہلی دفعہ گجرانوالہ میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے میچ میں بطور امپائر میدان میں کھڑے ہوئے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا پہلا میچ 2003 میں بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے درمیان ڈھاکا میں تھا۔

انھوں نے اب تک 99 ٹیسٹ، 178 ون ڈے اور 35 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے ہیں۔

2004 میں علیم ڈار کو آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شامل کرلیا گیا تب سے وہ دنیا بھر میں آئی سی سی کے بڑے معتبراور قابل احترام امپائروں میں شمار ہوتے ہیں۔

علیم ڈار کو 2009، 2010 اور 2011 میں مسلسل تین دفعہ آئی سی سی کی جانب سے سال کے بہترین امپائر کا ایوارڈ دیا گیا۔

علیم ڈار کو 2011 میں پاکستان کا اعلیٰ سول اعزاز ‘پرائڈ آف پرفارمنس’ دیا گیا جبکہ 2013 میں انھیں پاکستان کا تیسرا بڑا سول اعزاز ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

دو جنوری کو علیم ڈارٹیسٹ میچوں میں امپائرنگ کی سنچری کرنے والے آئی سی سی کے تیسرے امپائر بن جائیں گے۔

اس سنگ میل کو عبور کرنے کے حوالے سے علیم ڈار کا کہنا تھا کہ”میں اپنے کیرئر میں اس اہم اعزاز کو حاصل کرنے پر بہت خوش اور فخر محسوس کر رہاہوں”۔

ان کا کہنا تھا کہ” یہ سوچتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ وقت کتنی جلدی سے گزرگیا، میں ان سالوں میں نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے بلکہ آئی سی سی کی جانب سے ملنے والی حمایت پر دلی طورپر شکرگزار ہوں”۔

ان کا کہنا تھا کہ "کھیل کے ساتھ منسلک رہنا ایک بڑا اعزاز ہے جس نے مجھے محظوظ کیا اور میں پوری دنیا کو دیکھ سکا اور مختلف ثقافتوں سے روشنا س ہوا۔”

علیم ڈارنے اپنے خاندان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ”میں اپنے خاندان کا خاص شکرگزار ہوں کیونکہ ان کی حمایت کے بغیر میں اپنے کیرئر سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا تھا، ایک امپائر کی زندگی گھر سے باہر بعض اوقات مختلف چیلنجوں سے نبردآزما ہوسکتی ہے لیکن انھوں نے جان لیا کہ مجھے اس کی کتنی اہمیت ہے اور انھوں نے ہمیشہ میری مکمل حمایت کی”۔

کرکٹ کے عظیم امپائر کا کہنا تھا کہ” مجھے بہترین میچ انتظامیہ کے ساتھ تاریخی مقامات پر جدید دنیا کے عظیم کھلاڑیوں کے میچوں کا انتظام سنبھالنے کا شرف بخشا گیا جو میرے لیے بڑے فخر کی بات ہے اور میں اسے کئی سالوں تک یاد رکھوں گا”۔

دوسری جانب آئی سی سی کے کرکٹ جنرل منیجر جیف الاریڈیس کا کہنا ہے کہ "علیم ڈار دنیا ئے کرکٹ میں کئی سالوں سے بہترین امپائروں میں سے ایک اور سب سے زیادہ قابل احترام امپائر ہیں، یہ اتنا آسان نہیں ہے کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک ایلیٹ سطح پرامپائرنگ کریں، ان کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تسلسل اور بھروسہ نے ان کو کئی سالوں تک بہترین کارکردگی دکھانے کا عزم دیا”۔

الاریڈیس کا مزید کہنا تھا کہ "علیم ڈار کرکٹ کے دواور عظیم امپائروں اسٹیو بکنر اور روڈی کورٹزن کے معزز گروہ میں شامل ہوں گے انھیں اپنی کامیابیوں پر فخر ہونا چاہیے، انھیں کرکٹ برادری میں ہرجگہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور مجھ سیمت تمام لوگ جو اس کھیل سے منسلک ہیں انھیں اس کارنامے پر مبارک باد دیں گے”۔

یہ بھی دیکھیں

افغانستان: پرتشدد واقعے میں ایک اور امریکی فوجی مارا گیا

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں پرتشدد واقعے کے نتیجے میں ایک اور امریکی فوجی مارا گیا ہے۔غیر …