منگل , 10 دسمبر 2019

شیعہ ہزارہ قوم ۔ ہماری توجہ کی منتظر

(تحریر: سیدہ سائرہ بانو)
دیکھنے میں آ رہا ہے کہ گذشتہ سال کی طرح اِس سال بھی ماہِ رمضان المبارک میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے۔ پہلے پہل محرم و صفر کو ایامِ عزاداری کی وجہ سے حساس قرار دیا جاتا تھا کیونکہ ان دو مخصوص مہینوں میں عرصہ دراز سے منظم طور پر شیعہ نسل کشی کی جا رہی ہے۔ لیکن اب ماہِ صیام میں بھی فرقہ وارانہ بنیاد پر قتل کرنے کی رِیت ڈال دی گئی ہے۔

پچھلے سال اس مقدس مہینہ میں عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری کا قتل ہوا جس کی تحقیقات کے بعد ثابت ہوا کہ ان کا قتل فرقہ وارانہ نوعیت کا تھا۔ اور اب اِس سال ماہِ صیام کے پہلے عشرے میں کوئٹہ کے دو ہزارہ شیعہ بہن بھائیوں کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا۔ یقینًا یہ دو قتل بھی فرقہ وارانہ بنیاد پر کیے گئے ہیں کیونکہ بلوچستان کی ہزارہ قوم گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے کالعدم فرقہ وارانہ تنظیم لشکر جھنگوی کے نشانہ پر ہے۔ مجھے آج اسی ہزارہ قوم کے لئے آوازِ حق بلند کرنا ہے لیکن میں چند حقائق پر بات کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اگر امجد صابری مرحوم اور کوئٹہ کے دو ہزارہ شیعہ بہن بھائیوں کے قتل کے محرک کا موازنہ کیا جائے تو وہ کم و بیش ایک ہی ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ یکساں نوعیت کے قتل پر حکومت، عوام اور میڈیا کا ردِ عمل بالکل مختلف رہا۔ چونکہ امجد صابری صاحب کا تعلق فنِ قوالی سے تھا اور وہ پبلک فِگر تھے اس لئے اُن کے قتل کو ہر سطح پر اہمیت دی گئی اور قاتلوں تک رسائی کے لئے حکومتی ادارے بھی فورًاحرکت میں آگئے لیکن کوئٹہ کے عام شہریوں کے قتل کو معمول کی خبر سے زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ حکمرانوں کے عدل کا جانبدارانہ معیار تو پریشان کُن تھا ہی لیکن عوام کا جانبدارانہ ردِ عمل زیادہ حیران کُن لگا۔ میرے خیال میں ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے درد کو تعصب کی عینک لگا کر دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

پاکستان کی شیعہ ہزارہ قوم کو کون نہیں جانتا؟ 10 جنوری 2013 کا کوئٹہ علمدار روڈ سانحہ ہر ذہن میں محفوظ ہے۔ اس دن شیعہ ہزارہ آبادی بم دھماکوں سے لرز اٹھی اور پے در پے دھماکوں کے نتیجہ میں تقریبًا 115 لوگ شہید اور 270 سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ شہداء میں پولیس اور صحافی بھی شامل تھے۔ شیعہ ہزارہ کی منظم نسل کشی کا آغاز 2001 سے ہوا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافر ہوں یا پولیس کیڈٹس، ٹی وی آرٹسٹ ہو یا اولمپین باکسر، جائےمقدسات کے زائرین ہوں یا سرکاری ملازمین، حتٰی کہ عاشورہ کے جلوس کے شرکاء کو بھی شیعہ ہزارہ ہونے کی بنیاد پر بم اور گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ نسل کشی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہی تھی۔ ہر سانحہ کی ذمہ داری ایک مخصوص شدت پسند تنظیم(لشکر جھنگوی) لیتی رہی لیکن بلوچستان حکومت لشکریوں کو لگام نہ ڈال سکی۔

عاشورہ 2013 کا سانحہ علمدار روڈ اس سلسلہ کی شدید ترین کاروائی تھی جس میں شہداء کے متاثرین نے انوکھا احتجاج کیا۔ سرِ راہ اور شدید سردی میں اپنے پیاروں کی تصاویر لیے ان کے جنازوں کے سرہانے بیٹھ گئے۔ سینکڑوں مظاہرین احتجاج میں شریک تھے لیکن کسی نے صدائے احتجاج بلند نہ کی۔ ان کے خاموش مظاہرے نے حکومتِ وقت اور عوام کو متوجہ کیا یہاں تک کہ اس وقت کے وزیر اعظم کو خود چل کر علمدار روڈ آنا پڑا۔ انھوں نے بظاہر نا اہل وزیر اعلی کو برطرف کر کے شیعہ ہزارہ قوم کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش تو کی لیکن فساد کی اصل جڑ کو ختم کرنے کے لئے کچھ نہ کیا۔ اور پھر ایک ماہ بعد چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر اسی نوعیت کا ایک اور سانحہ ہوا۔ اس سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ درپردہ ذمہ دار مسلح قوتوں کے سر پر کسی نہ کسی ادارے نے دستِ شفقت رکھا ہوا ہے۔

2013 کے یہ دو سانحے آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحہ سے کم شدید تو نہ تھے لیکن مظلوم شیعہ ہزارہ شہداء کی یاد میں کسی دن کو بطور علامت منانے کا اعلان ہوا اور نہ ہی ان کو کسی اعزاز سے نوازا گیا۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ شیعہ ہزارہ محبِ وطن پاکستانی ہیں اور مختلف شعبوں میں انھوں نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ تعلیم، کھیل، فنون لطیفہ، سائنس، صحافت اور عسکری شعبوں میں شیعہ ہزارہ افراد نے ممتاز مقام حاصل کیا اور بین الاقوامی سطح پر بھی یہ
پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے پُر امن شہریوں کی حفاظت کرنا حکومتِ وقت کی اولین ذمہ داری ہے لیکن متعصب حکمران اور ادارے ان کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔ جب تک مذہب کے نام پر بننے والی شدت پسند تنظیموں کے خلاف موثر کاروائی نہیں کی جاتی، فرقہ وارانہ نسل کشی کو روکنا ناممکن ہوگا۔

فی الوقت حکومتِ وقت سے کسی ٹھوس اقدام کی توقع رکھنا عبث ہے لیکن عوامی سطح پر شیعہ ہزارہ قوم کی نسل کشی کے خلاف اظہارِ یکجہتی نہایت ضروری ہو چکا ہے۔ سماجی رابطہ کے ذرائع نے لوگوں کو ایک دوسرے کے بہت قریب کر دیا ہے۔ ان ہی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے آگاہی مہم کا آغاز کیا جاسکتا ہے جس میں بالخصوص شیعہ ہزارہ کے مسائل کو اجاگر کیا جائے۔ سانحہ علمدار روڈ کے دن کو ہر سال علامت کے طور پر منایا جانا چاہیے تا کہ متاثرین کی مشکلات سے ہر خاص و عام آگاہ ہو۔ شیعہ ہزارہ کی اکثریت ملک چھوڑ کر جا چکی ہے اور جو یہاں مقیم ہیں وہ اپنی رہائشی آبادیوں تک محدود ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے اور اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ شیعہ ہزارہ ریاستی اداروں کے تعصب کا شکار ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کو اس Isolation سے باہر نکالنے میں مدد دینا ہوگی۔

میں ایک پاکستانی ہوں اور میری خواہش ہے کہ میرے وطن کا ہر شہری خوف سے آزاد زندگی بسر کرے۔ میں امید کرتی ہوں کہ ہر باشعور پاکستانی میری آواز سے آواز ملائے اور ہر مظلوم کو خوف کی فضا سے باہر نکالنے میں اس کی مدد کرے۔ آئیں ہم سب مل کر اس کا آغاز کریں اور سماجی رابطہ کے ذرائع پر شیعہ ہزارہ کی نسل کشی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ یاد رکھیے اپنے حصے کی شمع جلائے بغیر ظلمت کو دُور نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی دیکھیں

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟

کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ سید جواد حسین رضوی بانی پاکستان قائد اعظم …