جمعہ , 13 دسمبر 2019

قطرکی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کا والہانہ خیرمقدم کیا جائیگا،عرب میڈیا کا قطر بحران پر تجزیاتی جائزہ

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) قطرکی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کا والہانہ خیرمقدم کیا جائے گا۔یہ بات عرب دنیا سے وابستہ مختلف اخبارات نے قطربحران پر اپنے تجزیاتی جائزے میں واضح کی ہے۔متحدہ عرب امارات کے ایک صف اول کے اخبار’’البیان‘‘نے واضح کیا ہے کہ قطرکے ساتھ تعلقات ختم کرنے کافیصلہ اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتاہے۔

اخبارلکھتاہے’’قطر نے کبھی بھی ایسے سیاسی پیغامات پر ردعمل نہیں دیا جو مختلف ذرائع سے جاری کیے گئے ہوں،جن میں اس بات پر زوردیا جارہا ہو کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کی پالیسیاں ترک کردے،اسی طرح عرب اقوام میں خونریز افراتفری کی مالی ،سیاسی طورپراوراپنی میڈیا کے ذریعے حمایت کرنے سے بازآجائے۔قطر ایران کے ساتھ خفیہ اتحادسے بھی نکل آیا جو خلیج اورعرب ملکوں کی سلامتی سے متعلق دھمکیاں دیتا ہے۔

یہ پالیسیاں دراصل سیاسی کمزوریوں اورعرب خون کے عوض ایک علاقائی قیادت کے حصول کی کے ایک اقدام کو ظاہرکرتی ہیں۔اخبارمزید لکھتا ہے کہ دوحہ کی پالیسیوں نے سب سے زیادہ قطری باشندوں اورتمام عرب آبادی کو نقصان پہنچایا ہے۔یہ حقیقت حال کا انتہائی غلط اندازہ لگانے کو بھی ظاہر کرتا ہے۔قطرکے عرب پڑوسی یہ پالیسیاں تسلیم نہیں کرتے۔

مصرکا روزنامہ الاحرام لکھتا ہے کہ ’قطرکے ساتھ تعلقات ختم کرنا کسی عجلت میں کیا گیا فیصلہ نہیں،کیونکہ اس فیصلے میں شامل تمام ممالک اس ملک(قطر)کی عرب دنیا میں سرگرمیوں پر کئی برسوں تک صبر سے کام لیتے رہے۔

اخبارنے لکھا ’’قطرکے لئے واقعی صبرختم ہوچکا،جس نے عرب ملکوں کے خلاف الجزیرہ ٹی وی چینل کو بطورمیڈیا پلیٹ فارم استعمال کیا جبکہ اس چینل کے متعددنامہ نگار اوراس کے نشریاتی عملے کے افراداس کی تصدیق کرچکے ہیں۔ایسے بہت سی دستاویزموجود ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ قطرکا مقصددہشت گردی کی حمایت کرنا اوردہشت گردگروپوں کے رہنمائوں کو پناہ دینا ہے۔
اخبارلکھتا ہے’’ قطراس امر سے انکار نہیں کرسکتا ۔دوحہ کو اخوان المسلیمین کے رہنمائوں کے خلاف جاری عدالتی فیصلے سے آگاہ تھا اورپھر بھی قطرنے انہیں پناہ دینے کا عمل جاری رکھا اورانہیں مالی،سیاسی اورمعاشی تعاون فراہم کرتا رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ تمام عرب قطرکی ان پالیسیوں پر تحمل سے کام لیتے رہے ہیں اوریہ ہی وجہ ہے کہ یہ فیصلہ مصراوردیگرعرب دارالحکومتوں کی جانب سے ایک دانشمندانہ اقدام قراردیا گیا ہے جو قطری قیادت کے طریقہ کار کی موجودگی کی روشنی میں کیا گیا ہے جو مصرکی مخالفت کرتا ہے۔
سعودی اخبار الیوم لکھتا ہے کہ تمام ترنظریں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعریز پر مرکوز تھیں ،حیران تھے کہ وہ قطرسے کیسے نمٹے گا جبکہ وہ بدلے میں انتظارکرتا رہا کہ قطراپنے اقدامات کی وضاحت کرلے۔

اخبارمزید لکھتا ہے کہ قطرنے تصادم پر مبنی اپنی پالیسی کو جاری رکھا جبکہ ریاض نے انسداددہشت گردی کی سربراہ اجلاس میں تجاویز دی تھیں ،جس میں یہ بھی شامل تھا کہ انتہا پسند تنظیموں اورملیشیاکی حمایت ختم کرنے ،ایسے ممالک کے لئے اپنے دروازے بندکرنا جو ایسی تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں۔

اخبارمزید لکھتا ہے’’بہرحال،قطرکی حکومت بجائے اس کے کہ اپنے موقف سے متعلق معافی مانگنے اورعملی حل اقدام کرنے کے وہ خود اس تشویش کے ساتھ ثالثوں کی تلاش کرتارہا۔تاکہ ایک بارپھر وہ خلیجی اورعرب ملکوں کی صفوں میں واپس آجاتا۔

اخبارلکھتا ہے کہ تمام چیزوں کو مدنظررکھا گیا،یہ ایک فطری بات ہے کہ ایک پرعزم رہنما جیسے شاہ سلمان نے قطرکے خلاف ایسے مضبوط فیصلے کرنے کا انتخاب کیا۔لندن سے شائع ہونے والےعرب روزنامہ الشرق الاوسط نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ 21سال سے قطرنے خلیج کے اتحاد اورپڑوسی رویوں سے متعلق تمام نظریات کی بے توقیری کی ہے۔

2014میں قطرکے امیر نے وعدہ کیا اورمعاہدہ ریاض سے اتفاق کیا کہ وہ اپنے ملک کی تمام نقصاندہ پالیسیوں کو ختم کردے گا،اب تک اورعمومی طور پر قطرنے اپنے کسی وعدے کی پاسداری نہیں کی اوراس دوران اس نے اپنے سفارتکاروں کو واپس بلالیا تھا۔

اندرونی معاملات میں مداخلت ،افراتفری اورعدم استحکام پید اکرنا ناقابل برداشت بن گیا تھا۔اس لیے چھ ملکون نے قطرکے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا،اس اقدام کا مقصددوحہ کی تباہ کن طریقہ کارکو ختم کرنے اورالگ تھلگ کرنا تھا۔

حیرت کی بات سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے تناظرمیں نہیں بلکہ ایک تلخ اورناگزیرحل میں دیکھی گئی تاہم خلیجی ملکوں کے تحمل پر حیرت ہے کہ جنہوں نے دودہائیوں تک قطرکی خارجہ پالیسی کے نقصان کو برداشت کیا۔اخبارلکھتا ہے کہ قطرکے لیے یہ موقع ہے کہ وہ جاگ جائے،اپنے حواس بحال اوراپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کرے۔ا گر دوحہ کل ایسا کرتا ہے تو اس کا والہانہ خیرمقدم کیا جائے گا قبل اس کے کہ سرحدیں کھول دی جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی وزیر اعظم کے وکیل پر بھی کرپشن کے الزامات عائد

تل ابیب : کرپشن، خیانت اور دھوکہ جیسے سنگین الزامات میں گھرے سخت گیر اسرائیلی …