ہفتہ , 14 دسمبر 2019

محمد بن زاید کے جنسی اور دیگر جرائم پر ایک نظر

(تحریر و تحقیق: تسنیم خیالیؔ)
متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور وہاں کی سب سے طاقتور شخصیت محمد بن زاید آل نہیان اپنے معصوم چہرے کے پیچھے کئی جنسی اور دیگر وحشی جرائم چھپائے پھرتے رہتے ہیں۔ جوانی میں یہ جرائم جنسی نوعیت پر منحصر تھے،مگر جب وہ بڑے ہوئے اور ولی عہد کا منصب سنبھالا توان کے جرائم عالمی سازشوں کی حد تک پہنچ گئے وہ سازشیں جو عرب اور مسلمانوں کیخلاف کی جاتی ہیں۔

ان کے جنسی جرائم کے حوالے سے ستر کی دہائی میں ابو ظہبی میں کام کرنیوالے اردنی صحافی اسامہ فوزی اپنے کالموں میں اکثر تذکرہ کرچکے ہیں، اسامہ اپنے کالموں میں محمد بن زاید اور شیخ زاید کے دیگر بیٹوں کے ابوظہبی میں ہونیوالے جنسی جرائم کے بارے میں اکثر لکھا کرتے تھے جو شیخ زاید کے بیٹے اپنے اثر و رسوخ اور والد کی نظر اندازی کی بدولت کیا کرتے تھے۔ ان جنسی جرائم میں سے ایک انتہائی شہرت کا حامل ہے جس میں محمد بن زاید نے مراکش سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ عزیزہ جلال کی آبروریزی کی تھی۔

1979ء کو جب محمد بن زاید جوانی میں تھے تو مراکش میں ان کی ملاقات عزیزہ جلال سے ہوئی جو اُس وقت شاہی محلات میں گایا کرتی تھی۔ محمد بن زاید عزیزہ کو اپنے ساتھ ابو ظہبی لے آئے ۔ابو ظہبی میں محمد بن زاید ابو ظہبی ٹی وی چینل پر عزیزہ کا گایا ہواگانا دن میں بیس مرتبہ سے بھی زیادہ چلایا کرتے تھے حتیٰ کہ ناظرین عزیزہ کو بار بار دیکھ کر بیزار ہوچکے تھے اور ایک دن بن زاید نے بالآخر عزیزہ کو اپنے ہوس کا نشانہ بنا ہی دیا۔ اس قبیح عمل میں محمد بن زاید کو اُس کے دیگر چھوٹے بھائیوں نے ساتھ دیا جن میں سے آج ایک وزیر خارجہ اور اطلاعات کے منصب پر فائز ہے تو دوسرا وزیر داخلہ کے منصب پر، ابوظہبی کے شاہی محلوں میں خواتین سے متعلق بے شمار سکینڈلز موجود ہیں۔

آل نہیان خاندان جنسی جرائم کے حوالے سے کافی شہرت رکھتا ہے جو شیخ زاید کے دور سے ہی چلے آرہے ہیں ،ان کی اولاد کو یہ عادت ان کے والد سے وراثت میں ملی ہے ۔اِن جنسی اسکینڈلز میں سب مشہور سلطان بن زاید کا اسکینڈل ہے جس نے لڑکیوں سے بھری ایک اسکول بس کو روک کر بس میں سوار لڑکیوں کو اپنے ہوس کا نشانہ بنانے کو کوشش کی تھی۔ اس بس میں سوار لڑکیوں کا تعلق ریاست دبئی سے تھا اور وہ العین شہر میں واقع العین یونیورسٹی جارہی تھیں۔اس غلاظت کو روکنے کیلئے دبئی کے شہزادے اور اِس وقت دبئی کے حکمران محمد بن راشد آل مکتوم موقع پر فوری طور پر پہنچ گئے تھے اور لڑکیوں کو بچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد ابوظہبی اور دبئی کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے اور صلح اُس وقت ہوئی جب سلطان بن زاید سے اس کے تمام صلاحیات چھین لی گئیں۔جسکے بعد سلطان کو علاج کے بہانے سوئیزر لینڈ بھیج دیا گیا۔

احمد بن زاید آل نہیان کا قتل:
جنسی جرائم کے تذکرے کے بعد اب بات کرتے ہیں محمد بن زاید کے قتل کے جرائم کی جن میں سب سے مشہور محمد بن زاید کا اپنے بھائی احمد بن زاید کا قتل ہے جو کہ مراکش میں واقع ہوا۔

لندن میں مقیم سیاسیات کے پروفیسر کساب العتیبی اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ احمد بن زاید ابو ظہبی انسوسٹمنٹ نامی اقتصادی ادارے کے چیئرمین تھے جوکہ ایک سرکاری ادارہ ہے اور چند سال قبل مراکش میں واقع ہونے والی ان کی موت دراصل ایک قتل کا واقعہ ہے جس کے پیچھے محمد بن زاید کا ہاتھ ہے کیونکہ محمد بن زاید ایک کاروباری ڈیل اپنے لئے حاصل کرنا چاہتے تھے جسکی قیمت اربوں ڈالر تھی جو احمد بن زاید نے طے کی تھی۔ عتیبی اماراتی حکام کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور اس فلائینگ کوچ سے پوچھ گوچھ کریں جو طیارے حادثے کے وقت احمد بن زاید کیساتھ طیارے میں موجود تھے کیونکہ وہ بچ نکلا جبکہ احمد مارا گیا!آپ پر واضح ہواکہ احمد بن زاید کی موت طیارے کے حادثے میں ہوئی تھی جس میں تربیت دینے والا پائیلٹ بچ گیا تھا۔ اس قتل کے واقع کی وجوہات کے حوالت سے العتیبی کا کہنا ہے کہ شیخ زاید کے تین بیٹے احمد،محمد اور منصور کے درمیان اُس وقت شدید اختلافات پیداہوئے جب یہ بات کا انکشاف ہوا کہ منصور نے برطانوی بینک (Barclays)کیساتھ ہونے والی ایک ڈیل میں بڑے پیمانے پر گھپلا کیا ہےیہ ڈیل احمد نے کی تھی جب وہ ابو ظہبی انوسٹمنٹ کے چیئرمین تھے (احمد کی موت کے بعد منصور نے اس ڈیل سے بے تحاشا دولت کمائی )احمد کو منصور کی اس حرکت سے بہت غصہ آیا اور اُس نے محمد اور منصور کو آڑے ہاتھ لیا (گھپلےمیں محمد بھی شریک تھا)کیونکہ ان کی نظر میں اس دولت پر حق اماراتی عوام کے ہے۔

اس واقعے کے بعد احمد کے خلاف سازشیں بُننا شروع ہوئیں کہ کس طرح احمد کا پتا صاف ہو، کیونکہ احمد ایک ذمہ دار اور صاف ستھری شخصیت تھی جواپنے ملک اور قوم کا وفادار تھا۔ ایک دن احمد بن زاید چھٹی گزارنے مراکش چلے جاتے ہیں جہاں وہ ایک طیارے کی اڑان بھرنے کا پروگرام بناتے ہیں۔ پروگرام کے مطابق احمد اپنے ہسپانوی کوچ مانوئیل مانسرز کیساتھ طیارے میں بیٹھتے ہیں اڑان کے وقت جب وہ رباط نامی شہر کےجنوب میں واقع سیدی محمد بن عبداللہ نامی جھیل پر ہوتے ہیں تو اچانک سے طیارہ گرجاتا ہے اس حادثے میں احمد کی موت واقع ہو جاتی ہے جبکہ مانوئیل بچ جاتا ہے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ احمد کا سگا بھائی سیف بن زاید جو کہ وزیر داخلہ کے منصب پر فائز ہے اپنے بھائی کی پر اسرار موت کی تحقیقات نہ تو خود شروع کرتا ہے اور ناہی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ محمد بن زاید نے احمد کی موت کے بعد ان کے بھائی حامد کو احمد کی جگہ مقرر کردیا۔ حامد کے حوالے سے مشہور ہے کہ وہ ایک کمزور شخصیت کا حامل شخص ہےجو کبھی بھی محمد بن زاید کے آگے منہ نہیں کھولے گا۔

عالمی جرائم:
محمد بن زاید کے جرائم جنسی اور قتل و غارت پر منحصر نہیں،آج عرب خطہ میں پھیلی آگ میں بن زاید کا سب سے بڑا ہاتھ ہے شام، مصر، لیبیااور یمن میں جاری جنگ اور تباہی کے پیچھے اصل ہاتھ محمد بن زاید کا ہے۔ اس اماراتی شیخ کے ہاتھ ان ممالک کے عوام کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اس شخص کی وجہ سے لاکھوں عوام بے گھر اور در بدر ہوگئے ہیں مگر بن زاید کے سینے کو اب بھی ٹھنڈک نہیں پہنچتی اور اُمت مسلمہ کیخلاف اس کی سازشیں ہنوزجاری ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خوبصورت خاموش انقلاب!

انصار عباسی پاکستان نیوی میں تعینات میرے جاننے والے ایک اہم افسر سے جب میں …