بدھ , 21 اگست 2019

عراق میں امریکی میرین کی تعیناتی پر عراقیوں کا شدید ردعمل

82663_11799135

بغداد (مانیٹرنگ رپورٹ)عراق میں حزب اللہ بریگیڈ نے امریکی فوجی مداخلت کے خلاف مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ داعش کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حزب اللہ عراق کے ایک بیان میں آیا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ امریکہ کا پروردہ ہے اور امریکی حکام، داعش کی حمایت کی غرض سے اپنے فوجیوں کو عراق بھیج رہے ہیں۔حزب اللہ عراق کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ، عراق کے اندرونی معاملات میں زیادہ سے زیادہ مداخلت کرنا چاہتا ہے اور یہ مداخلت، مشترکہ آپریشن کمان میں شرکت کے نام پر انجام پا رہی ہے۔اس بیان میں اس بات پر بھی تاکید کی گئی ہے کہ ماضی میں بھی ہم نے امریکی غاصبوں کو شکست دی اور اب بھی ان کے مقابلے میں مزاحمت کریں گے۔ اس سے قبل عراق کی عوامی رضاکار فورس حشدالشعبی کے کمانڈر کریم النوری نے امریکی فوجی نقل و حرکت کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ، عراقی سیکورٹی فورس کے محاصرے میں گھرے داعش کے دہشت گردوں کو بچانے اور اس ملک کی تقسیم کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ کریم النوری نے کھل کر کہا تھا کہ امریکہ، موصل میں پھنسے داعش کے کمانڈروں کے لئے محفوظ راستہ بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے شروع میں داعش کی حمایت اور موصل کے سقوط کے ساتھ ہی داعش کی سرگرمیوں کو مغربی ذرائع ابلاغ میں عراقی اہلسنت کی تحریک انتفاضہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ عراق کے دیگر سیاسی دھڑوں نے بھی واشنگٹن کے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی فوج کی دوبارہ آمد کو اپنے ملک پر ازسرنو قبضے کی کوشش قرار دیا ہے۔ امریکی فوج نے بیس مارچ کو عراق میں اپنے میرین فوجیوں کی موجودگی کا اعلان کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یہ فوجی، داعش مخالف عالمی اتحاد کی حمایت کے لئے عراق بھیجے گئے ہیں۔ خبروں میں کہا گیا ہے کہ جدید ترین سامان حرب سے لیس دو سو سترہ امریکی فوجیوں کا یہ دستہ الانبار، صلاح الدین اور نینوا کے درمیانی علاقوں میں تعینات ہو گا۔ اطلاعات ہیں کہ امریکہ ایک بار پھر عراق میں اپنے دائمی فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے اور ممکنہ طور پر حبانیہ چھاؤنی، امریکی فوج کا پہلا دائمی اڈہ بنے گی۔ امریکہ نے جون دو ہزار چودہ میں عراقی فوج کی تربیت کے بہانے اپنے تین سو فوجیوں کو فوجی مشیروں کے نام سے عراق روانہ کیا تھا اور اب ان کی تعداد پندرہ سو سے تین ہزار تک پہنچ گئی ہے اور ان میں سے بیشتر امریکی فوجی بغداد اور الانبار کے قریب واقع چھا‎ؤنیوں میں تعینات ہیں۔ امریکہ اپنے ناجائز مفادات کے حصول کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور اب اس نے نام نہاد داعش مخالف عالمی اتحاد کے نام پر عراق میں مداخلت کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ عراق میں نام نہاد داعش مخالف عالمی اتحاد کی فوجی نقل و حرکت، عراق کی مرکزی حکومت کی ہم آہنگی کے بغیر انجام پا رہی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں کے آپریشن میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں اور داعش کا کام تمام نہیں ہو پا رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی پابندیاں غیر موثر: جواد ظریف

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جمعہ کے روز …