ہفتہ , 23 نومبر 2019

قطر نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) قطر نے آل سعود کی سربراہی میں دوحہ کے خلاف پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کے تیرہ مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا۔قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے امیرکویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح سے ملاقات کر کے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کے مطالبات کے حوالے سے امیر قطر کا جواب پیش کر دیا-

کویت کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک یہ منظر عام پر نہیں آیا ہے کہ امیر قطر نے دوحہ کے خلاف پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کا کیا جواب دیا ہے تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ قطر، پابندیاں عائد کرنے والے چار ممالک کی تیرہ شرطوں پر عمل نہیں کرے گا-

رپورٹ کے مطابق بدھ کو سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کے وزرائے خارجہ، قاہرہ میں قطر کے جواب کا جائزہ لیں گے-اس رپورٹ کے مطابق قطر پر پابندیاں عائد کرنے والے چار عرب ممالک بدھ کو دوحہ کے جواب پر غور و خوض کریں گے-

واشنگٹن میں موجود سفارتی ذرائع نے سعودی اخبار الحیات انٹرنیشنل کو انٹرویو دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن، مذاکرات شروع کرنے اور موجودہ بحران کے حل کے لئے دوحہ پر سیاسی دباؤ ڈال رہے ہیں-

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے پانچ جون کو قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کا اقتصادی بائیکاٹ کر دیا-

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے تئیس جون دو ہزار سترہ کو تیرہ شرطوں پر مشتمل ایک فہرست قطر کے حوالے کی اور اعلان کیا کہ دوحہ کے ساتھ ان کے تعلقات اسی وقت معمول پر آسکتے ہیں جب وہ ان شرطوں پر عمل کرے گا-

سعودی عرب کی جانب سے قطر کو دی جانے والی مہلت پیر کو ختم ہو گئی تھی تاہم چاروں عرب ممالک نے یہ مہلت مزید اڑتالیس گھنٹوں کے لئے بڑھا دی-

درایں اثنا متحدہ عرب امارات کے مشیرخارجہ نے قطر کے خلاف دباؤ بڑھانے کی خبر دی ہے- ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے مشیرخارجہ انورقرقاش نے بدھ کو قاہرہ میں سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کئے جانے والے ممکنہ فیصلے کے بارے میں کہا کہ اجلاس میں زیادہ سخت ردعمل ظاہر نہیں کیا جائے گا تاہم تکلیف دہ ہو گا جو قطر پر اقتصادی دباؤ میں شدت کی شکل میں ظاہر ہو گا-

انور قرقاش نے دوحہ پر اقتصادی دباؤ کے اثرات ظاہر ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پیش گوئی کی کہ قطر کے ساتھ مقابلہ آرائی طویل مدت ہو گی اور کئی مہینے تک طول پکڑے گی-

مصر کے وزیرخارجہ سامح شکری کی درخواست پر قاہرہ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے وزرائے خارجہ کا بدہ کو ایک اجلاس ہو گا جس میں بحران قطر کے حوالے سے غور و خوض کیا جائے گا-

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کا ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا مطالبہ

تل ابیب: اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کیٹس نے ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات …