جمعرات , 19 اکتوبر 2017

بن سلمان کی قطر میں انقلاب لانے کی تیاری

تسنیم خیالی

کویت میں ترکی کی نمائندگی کرنیوالے ترک سفیر مراد تامیر نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی انٹیلی جنس قطر کے حکمران شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے خلاف انقلاب کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ تامیر کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی شیخ تمیم بن محمد کے بھائی خال بند حمد کے ساتھ انتہائی گہری دوستی اور مضبوط تعلقات ہیں اور گذشتہ ماہ دونوں ’’قریبی دوستوں‘‘ کے درمیان ریاض میں متعدد ملاقاتیں منعقد ہو چکی ہیں۔

خالد کا قطر سعودی کشیدگی کے عین وقت ریاض جانے کے حوالے سے ترک سفیر نےکویتی اخبار ’’انبار‘‘کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بن سلمان کے حکم پر عمل کرتے ہوئے سعودی انٹیلی جنس نے قطر میں انقلاب برپا کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے جس کے ذریعے شیخ تمیم بن حمد کو معزول کرنے کے بعد خالد بن حمد آل ثانی کو قطر کا نیا سربراہ بنا دیں۔ ترک سفیر مزید کہتے ہیں کہ محمد بن سلمان نے اس حوالے سے خالد سے بھی بات چیت کر لی ہے اور بن سلمان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ شیخ تمیم خواہ بائیکاٹ کرنیوالے ممالک کی شرائط مانے یا نہ مانے انہیں اقتدار سے جانا ہو گا اور اس مقصد کیلئے تیار کیا جانیوالا منصوبے پر عملدرآمد کیا جائیگا۔

عام طور پر تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ تمیم کے خلاف ممکنہ انقلاب کے بعد ان کا بھائی جاسم بن حمد قطر کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے مگر ترک سفیر مراد تامیر کے حالیہ انکشافات نے سبھی کو حیران کر دیا ہے کہ خالد بن حمد آل ثانی جو کہ کینیڈین ہیں اور جن پر محمد بن سلمان کو اطمینان ہے۔  محمد بن سلمان اس وقت اس کوشش میں مصروف ہیں کہ خلیجی ریاستوں کی تنظیم خلیج تعاون کونسل پر اُسکی گرفت مظبوط ہو اور تمام خلیجی ریاستوں کے سربراہان سعودی عرب کے ماتحت اور سعودی پالیسیوں پرعمل پیرا ہوں جس کی شروعات بن سلمان نے امارات اور دیگر کیساتھ ملکر قطر کے بائیکاٹ سے کی ہے۔ بن سلمان کی اس حرکت سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنے دل میں عراقیوں کیلئے کتنی نفرت رکھتے ہیں۔

موصل کی آزادی کے معاملے میں کویت سعودی عرب سے لاکھ گنا بہتر ثابت ہوا کیونکہ امیر کویت صباح الاحمد الصباح نے تو شروع میں ہی عراقی حکومت کوموصل کی آزادی پر مبارک باد پیش کی حالانکہ عراق نے کویت پر صدام کے دور میں 1990ء میںحملہ کرتے ہوئے اُس پر قبضہ کر لیا تھا جس کے معاوضہ کا مطالبہ آج بھی کویتی عراقیوں سے کرتے ہیں، یہی نہیں کویتی اس بات پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ موصل کی تعمیر نو میں شریک ہوں۔ بن سلمان نے عراقیوں کی قربانیوں کو فراموش کر کے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ کتنے بے حس اور اخلاق سے عاری شخص ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا امریکا، شام میں اعلیٰ روسی فوجی افسران کی ہلاکت میں ملوث؟

(رابرٹ فسک) روسی ایئرفورس دو سال قبل شام کے صدر بشار الاسد اور ان کی ...

ایک تبصرہ

  1. Hm dekh rahy hein bin salman khud he jaal m phnsta ja raha an kreeb wo zameen p aa giryga ye us ki bay hooda hrkieity he hein jo usy ruswa kryingi