منگل , 19 ستمبر 2017

کُرد لیڈر مسعود بارزانی کی زندگی کی مختصر داستان

مسعود بارزانی عراقی کردستان کے گورنر کردوں کے اہم لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں،جوکافی عرصے سے کردستان کی عراق سے علیحدگی کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔
تاریخ پیدائش : 16اگست 1946ء
جائے پیدائش: مہاآباد ،کردستان،ایران
والد: جنرل مصطفیٰ بارزانی (ایران کردستان کے مہا آباد شہر میں قائم ہونے والی کردریاست کے فوجی سربراہ تھے)
والدہ: ہمائل خان
بچے: 8

دیگر حقائق:
مسعود بارزانی کردی، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں۔مسعود بارزانی 1979ء سے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (KDP)کے سربراہ ہیں۔ (KDP)کے تقریباً دس ہزار جنگجوکو عراقی کردستان کے شمال مشرق میں متمرکز ہیںجہاں شام،ایران اور ترکی کی سرحدیں عراق سے ملتی ہیں۔

عملی زندگی:
1961ء: بارزانی سکول کو خیر باد کہتے ہوئے کردفورس ’’پیشمرگہ ‘‘میں شامل ہوجاتے ہیں۔
1975-1961: کردوں کی عراقی حکومت کے خلاف جنگ۔
1970ءمیں مسعود بارزانی بغداد میں عراقی حکومت کیساتھ بات چیت کرنے کیلئے تشکیل کردہ کردی وفد میں شامل ۔نیز اِسی سال بارزانی (KDP)لیڈ شپ کے رکن بنتے ہیں۔
1976ء: میں KDPکی تنظیم نو کی جاتی ہے۔
1979ء کو آسٹریا کے دارالحکومت و یینا میں مسعود بارزانی ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ جاتے ہیں۔
1979ء کو مسعود بارزانی اپنے والد کی وفات کے بعد (KDP)کے سربراہ منتخب ہوجاتے ہیں۔
1994ء میں عراق کے شمال میں واقع کردستان کو دو حصوں مغربی اور مشرقی میں تقسیم کردیا جاتا ہے، مسعود بارزانی اور ان کی جماعت (KDP)مشرق میں اور ان کے حریف کرد رہنما جلال طالبانی اپنی جماعت کردستان قومی یونین (PUK)کیساتھ مغرب میں ،مغربی حصے میں (KDP)حکومت کے مقابل میں (PUK)نے بھی اپنی حکومت قائم کی۔
1998-1994ء: بارزانی کی قیادت میں (KDP)نے (PUK)کیخلاف جنگ کی جو 1998ء میں ایک امن معاہدےکے تحت ختم ہوئی۔
4اکتوبر 2002ء کو مسعود بارزانی اور جلال طالبانی (KDP)اور (PUK)کے درمیان ہونے والی چار سالہ طویل جنگ میں مارے جانیوالے کردیوں کے اہلخانہ سے معافی مانگتے ہیں۔
2003ء صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد مسعود بارزانی نوتشکیل کرد عراقی حکومتی کونسل کے رکن بن جاتے ہیں۔
30جنوری 2005ء میں مسعود بارزانی عراق میں 50سال سے بھی زائد عرصے کے بعد ہونیوالے عام انتخابات میں حصہ لیتے ہیں،اس انتخابات میں 7700اُمیدوار حصہ لیتے ہیں۔
جون 2005ء میں مسعود بارزانی عراقی صوبہ کردستان کے گورنر منتخب ہوجاتے ہیں۔
25جولائی 2009ءمیں بارزانی ایک پھر گورنر کردستان منتخب ہوتے ہیں۔ جولائی 2013ء کو کردستان پارلیمنٹ میں بارزانی کی بطور گورنر مدت میں توسیع کیلئے قراردادمنظور کی جاتی ہے،اور بارزانی کی بطور گورنرشپ میں 2سال کی توسیع کردی جاتی ہے۔
23جون 2013ءمیں(سی این این )کو دیے گئے ایک انٹرویو میںمسعود بارزانی واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ کردستان عنقریب عراق سے علیحدہ ہوکر کردی ریاست میں تبدیل ہوگا۔
27جون 2017ء میں مسعود بارزانی اعلان کرتے ہیں کہ تیل سے مالا مال عراق کے شمال میں واقع شہر کوک اور اردگرد کے چھوٹے شہر کردستان کا حصہ ہیں،حالانکہ تاریخی اعتبارسے ان شہروں کا کردستان سے کوئی تعلق نہیں،اعلان ایک ایسے وقت میں ہوا جس میں عراقی حکومت نے کردستان کی علیحدگی پر ریفرنڈ م نہیں کرایا۔
7جون 2017ء میں مسعود بارزانی کی زیر قیادت کردستان کی حکومت اعلان کرتی ہے کہ صوبے کی عراق سے علیحدگی پر ریفرنڈم 25ستمبر 2017ء کوکرایا جائیگا۔

یہ بھی دیکھیں

شامی فورسز کی کارروائیاں جاری ،دیر الزور کے مزید علاقے داعش سے آزاد

شامی فورسز کی کارروائیاں جاری ،دیر الزور کے مزید علاقے داعش سے آزاد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے