پیر , 16 دسمبر 2019

امریکہ کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے: علاء الدین بروجردی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) نامور ایرانی سفارتکار اور سنئیر رکن پارلیمنٹ نے ایران کی جانب سے سیارہ بردار سیمرغ لانچر کے کامیاب تجربے کے خلاف امریکی بیانات کے ردعمل میں کہا ہے کہ امریکہ کو اچھی طرح سیاسی سبق سکھانا چاہئے.

ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ‘علاء الدین بروجردی’ نے گزشتہ روز ایران کے سرحدی علاقے رازی کے دورے کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا.

انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹرمپ کو سیاسی سبق اور منہ ٹور جواب دینا چاہیے اور اس کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ پچھلی امریکی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی جوہری معاہدے پر دستخط کرنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس معاہدے کو قائم کرنے کے بعد اس معاہدے کی خلاف ورزی کے لیے امریکیوں کا کوئی حق نہیں ہے.

بروجردی نے مزید کہا کہ عالمی جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کے حوالے سے ایران سمیت 5 دیگرممالک، امریکی اقدامات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ امریکہ عالمی جوہری معاہدے کی منسوخی کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کر سکے گا اور ایرانی مجلس کے نما‏‏ئندے بھی اس حوالے سے امریکی کے ایران مخالف اقدامات کا سختی سے جواب دیں گے.

ایران کی جانب سے سیٹلائٹ لانچ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک کے لحاظ سے ہم کبھی بھی ایٹم بم کی تعمیر کے راستے پر قدم نہیں اٹھائیں گے اور اس حوالے سے این پی ٹی NPT) ) معاہدے کے خلاف ایٹم بم بنانے والے ممالک کی سخت مذمت کر رہے ہیں جن ممالک میں سے امریکہ سب سے بڑا علمبردار ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران کی میزائل صلاحیت ملک کی حکمت عملی پر مبنی ہے جس حوالے سے ایرانی پارلیمنٹ، ملک کی مسلح افواج خاص طور پر وزارت دفاع کی بھر پور اور مسلسل حمایت کر رہی ہے.

ایرانی رکن مجلس نے ایران کی جانب سے سیٹلائٹ لانچ کرنے کو ایک اسٹریٹجک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیٹلائٹ، ایران کا پھلا خلاء میں بھیجنے والے سیٹلائٹ نہیں ہے اور دن بہ دن ملک کی اس صلاحیت پر اضافہ ہو رہا ہے.

ایرانی رکن مجلس ‘غلامعلی جعفرزاده ایمن آبادی’ نے کہا کہ جوہری معاہدے کے تحت اسلامی جمہوریہ ایران کو کسی بھی میزائل لانچ کرنے کی اجازت ہے اور ایران ہمیشہ جوہری معاہدے پر قائم رہے گا.

انہوں نے ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی مبنی پر ترجمان امریکی وزارت خارجہ کے بے اساس دعوے کے جواب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اہداف میں سے ایک خلاء میں سیٹلائٹ بھیجنا تھا اور جوہری معاہدے کے مطابق، ایران کی یہ اجازت دی گئی ہے.

تفصیلات کے مطابق، امام خمینیؒ خلائی سٹیشن کا گزشتہ روز باقاعدہ افتتاح کردیا گیا اور یہ ایران کا پہلا خلائی مرکز ہے جہاں سے سیاروں کے خلاء میں بھیجا اور انھیں کنٹرول کیا جاتا ہے.

اس مرکز کی تعمیر کے لئے دنیا کی جدیدترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے اور سیٹلائٹ نیویگیشن نظام بالخصوص ایل ای او مدار کے حوالے سے تمام ضروریات ملکی وسائل سے تیار کی گئیں ہیں.

سیمرغ شٹل 250 کلوگرام وزنی سیارے کو خلاء میں لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ سیارہ زمین سے پانچ سو کلومیٹر دوری کے فاصلے پر رہ سکتا ہے.

یہ بھی دیکھیں

پاکستان کیلئے ایران گیس منصوبے کی جلد تکمیل ناگزیر

ایران پاکستان فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمن نے تہران چیمبرآف …