منگل , 19 ستمبر 2017

ملالہ یوسفزئی کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش: 12جولائی 1997ء
جائے پیدائش: مینگورہ ،وادی سوات ،پاکستان
والد کا نام: ضیا ء الدین یوسفزئی (معلم اور انسانی حقوق کے کارکن)
والدہ کا نام : تورپکائی یوسفزئی

دیگر حقائق:
ملالہ نوبل انعام یافتہ سب سے کم عمر شخصیت ہے۔
کہاجاتا ہے کہ ملالہ نام کا مطلب’’غم کا شکار‘‘ہے۔

عملی زندگی:
یکم ستمبر 2008ء کو پشاور پریس کلب کے سامنے ملالہ یوسفزئی نے اپنا پہلا خطاب کیا، اور سوال کیا کہ طالبان کی کیسے جرأت ہوئی کہ وہ تعلیم حاصل کرنیکا بنیادی حق چھینے؟اُس وقت ملالہ طالبان کی طرف سے ان کے سکول کو بند کرنے پر احتجاج کررہی تھیں۔

جنوری تا مارچ 2009ء:
ملالہ ’’گل مکئی‘‘کےقلمی نام سے ’’بی بی سی ‘‘کے لئے طالبان کے دور حکومت میں اپنی زندگی کےبارے میں بلاگز لکھتی ہیں۔
2009ء میں ملالہ (Adam B Ellick)کی نیوریاک ٹائمز کیلئے بنائی گئی ڈاکومینٹری کا موضوع بنی۔

24نومبر 2011ءکو ملالہ یوسفزئی کو پاکستان کے پہلے قومی امن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

9اکتوبر 2012ءمیں طالبان کے دہشت گرد ملالہ یوسفزئی پر حملہ کردیتے ہیں، حملے میں ملالہ کو سرپرگولی لگ جاتی ہے جبکہ انکے ساتھ موجود ان کی دو سہیلیاں اور کلاس فیلوز بھی شدید زخمی ہوجاتیں ہیں۔ حملہ اُس وقت پیش آتا ہے جب ملالہ بذریعہ بس سکول سے واپس گھر جارہی ہوتیں ہیں۔

5اکتوبر 2012ءمیں ملالہ کو طیارے کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا جاتا ہے، جہاں بر منگھم میں واقعے کوین الزابیتھ ہسپتال میں ان کا علاج شرو ع ہوتا ہے۔

3فروری 2013ء میں ملالہ علاج و معالجہ کے سلسلے میں آخری سرجری کیجاتی ہے۔

8فروری 2013ء میں ملالہ کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے۔

19مارچ 2013ء میں ملالہ برمنگھم میں واقع (Edgbaston High School Forgils)میں اپنی تعلیم پھر سے شروع کردیتے ہے۔

اپریل 2013ء: ملالہ فنڈنامی ادارے کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے جس کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کیلئے گرانٹ فراہم کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

18اپریل 2013ء: ملالہ یوسفزئی نیوپارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں خطاب کرتی ہیں۔ اُن پر طالبان کے حملے کے بعد ان کا پہلا خطاب ہے۔

6ستمبر 2013ء : ملالہ کو بچوں کے بین الاقوامی امن ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔

اکتوبر 2013ء: ملالہ کو ایڈ نبرگ یونیورسٹی کی طرف سے ’’ماسٹر آف آرٹس‘‘کی اعزازی سند سے نوازا جاتا ہے۔

اکتوبر 2013ء: ملالہ فنڈ آرگنائزیشن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔

8اکتوبر 2013ء: ملالہ کی سوانح حیات پر مشتمل ’’میں ہوں ملالہ‘‘نامی کتاب شائع کردی جاتی ہے۔

20نومبر 2013ء: میں ملالہ کو طالبان کیخلاف بہادری کا مظاہرہ کرنے پر سخاروف انعام عطا کیا جاتا ہے۔

10دسمبر 2013ء: میں ملالہ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے انعام سے نوازا جاتا ہے یہ انعام ہر 5سال بعد پیش کیاجاتا ہے۔

15اپریل 2014ء: کینگ کا لج یونیورسٹی کی طرف سے ملالہ سول لائو کی اعزازی ڈاکٹریٹ کی سند سے نوازا جاتا ہے۔

14جولائی 2014ء میں ملالہ یوسفز ئی نائیجیریا میں سرگرم دہشت گرد تنظیم بوکو حرام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسلام کے نام کا غلط استعمال بند کرے۔

12ستمبر 2014ء: ملالہ یوسفزئی پر ہونیوالے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں 10افراد گرفتار

10اکتوبر 2014ء: بچوں کے حقوق کیلئے سر گرم عمل رہنے پر ملالہ یوسفزئی اور بھارت سے تعلق رکھنے والے کیلاش ستیار تھی کو مشترکہ طور پر نوبل امن انعام سے نواز دیا جاتا ہے۔

21اکتوبر 2014ءمیں کینیڈین ایوان زیرین میں ملالہ کو کینیڈا کی اعزازی شہریت دینے کی قرارداد منظور ہوتی ہے۔
5جون 2015ء: میں ملالہ پر حملہ کرنیوالے دو افراد کو عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔

10اپریل 2017ء: میں اقوام متحدہ ملالہ کو امن کا سفیر مقرر کرتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شامی فورسز کی کارروائیاں جاری ،دیر الزور کے مزید علاقے داعش سے آزاد

شامی فورسز کی کارروائیاں جاری ،دیر الزور کے مزید علاقے داعش سے آزاد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے