پیر , 27 مئی 2019

دہلی میں’ایک دن جفت اور ایک طاق کا‘ منصوبہ شروع

[caption id="attachment_1321" align="alignleft" width="300"]رواں سال موسم سرما میں دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے رواں سال موسم سرما میں دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے[/caption]

بھارتی دارالحکومت دہلی میں حکام کی جانب سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کی ایک مہم کے تحت نجی گاڑیوں کے استعمال پر مخصوص نوعیت کی پابندیوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔

ان پابندیوں کے تحت شہر میں نجی گاڑیوں کو طاق اور جفت نمبروں والی لائسنس پلیٹ کے حساب سے ایک دن چھوڑ کر سڑک پر آنے کی اجازت ہوگی۔

تاہم ہنگامی استعمال کی گاڑیاں مثلاً ایمبولینس، پولیس کی گاڑیاں، آگ بجھانے والی گاڑیاں اور ٹیکسیاں اس پابندی سے مستثنٰی ہوں گی۔

یہ مہم جمعے سے آزمائشی بنیادوں پر شروع کی گئی ہے اور نئی پابندیوں کا اطلاق پیر سے سنیچر تک صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک ہوگا۔

رواں سال موسم سرما میں دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔

شہر میں آلودگی کی سطح بین الاقوامی ادارہ صحت کی طے شدہ حد سے دس گنا زیادہ ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے آلودگی سے نمٹنے کے لیے دیے جانے والے حکم کے بعد مقامی حکام کی جانب سے حالیہ اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پابندیوں پر عملدرآمد آسان بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کئی اقسام کی چھوٹ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

خواتین ڈرائیورز کو تمام ایّام میں گاڑی چلانے اجازت ہوگی تاہم ان کے ساتھ گاڑی میں صرف دیگر خواتین اور 12 سال سے کم عمر کے بچوں کو سواری کی اجازت ہوگی۔

[caption id="attachment_1322" align="alignleft" width="300"]دہلی ہائی کورٹ نے فضائی آلودگی کے سبب دہلی کو ’گیس چیمبر‘ کہا ہے دہلی ہائی کورٹ نے فضائی آلودگی کے سبب دہلی کو ’گیس چیمبر‘ کہا ہے[/caption]

وہ گاڑیاں جن میں معذورافراد سفر کر رہے ہوں انھیں بھی تمام ایام میں سڑکوں پر آنے کی اجازت ہوگی۔

موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ ان گاڑیوں کو بھی تمام ایّام میں سڑکوں پر آنے کی اجازت ہوگی جو بطور ایندھن قدرتی گیس (سی این جی) کا استعمال کر رہی ہوں گی۔

ہنگامی طبی امداد کے لیے مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی بھی اجازت ہوگی۔

پبلک ٹرانسپورٹ پر پڑنے والے ممکنہ اضافی دباؤ کے پیش نظر حکومت کی جانب سے رہائشی علاقوں سے شٹل سروس شروع کرنے کے لیے تین ہزار نجی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔

رواں سال 15 جنوری تک جاری رہنے والی مشقی بنیادوں پر شروع ہونے والی مہم کے دوران سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے تاکہ سکول بسوں کو بطور عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کیا جا سکے۔

میٹرو سٹیشنز (مقامی ریلوے) سے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے حکومت جانب سے رکشوں تک رسائی کے لیے ایک نئی ایپ بھی متعارف کروائی گئی ہے۔

دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ گوپال راج نے اس مہم کے بارے میں فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’سب سے بڑا اور اہم مرحلہ یہ ہے کہ لوگوں کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ آلودگی کے خلاف لڑائی ان لوگوں کے لیے ہی شروع کی گئی ہے، ان کی صحت کے لیے، ان کی بھلائی کے لیے۔‘

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ قابل عمل نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا شہر جس میں پبلک ٹرانسپورٹ کا ناقص نظام ہو، مقامی ریلوے سٹیشنوں سے منزل تک پہنچنے کے ناکافی ذرائع ہوں، وہاں یہ نئی پابندیاں عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بنیں گی۔

دہلی میں قائم ماحولیاتی تنظیم کونسل آن انرجی، انوائرمنٹ، اینڈ واٹر کے ارونابھ گھوش کا اے ایف پی سے کہنا تھا کہ ’ہمیں اس غلط بات پر خود کو قائل نہیں کرنا چاہیے کہ طاق جفت نمبروں کی یہ سادہ پالیسی فضائی آلودگی کے اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کردے گی۔

’اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہ ایک بڑے مسئلے کامحض عارضی حل ہوگا اور اس سے شہریوں میں حکومتی مشینری کے خلاف جذبات ابھریں گے۔‘

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں کی جانب سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ صورت حال اتنی سنگین ہے کہ یہ انتہائی اقدامات اٹھانا ضروری ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

راہول گاندھی کا مستعفی ہونے کا امکان، رہنماؤں کے استعفوں کی بھرمار

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی لوک سبھا انتخابات 2019 میں ناکامی کے بعد انڈین نیشنل کانگریس …