پیر , 23 اکتوبر 2017

اپنی معدنی دولت امریکہ سے بچائیں

سلمیٰ اعوان ….

عصر حاضر کی سُپر پاورکے ایک اہم فرد کارل روKaral Rove نے چند سال قبل تکبّر اور نخوت سے بھرے پرے لہجے میں دنیاکو اُس کی گھٹیا اوقات کا احساس دلاتے ہوئے کہا تھا۔ ”ہم ایک ایمپائر ہیں۔جب ہم کوئی کام کرتے ہیںہم اس کے ہونے کا جواز پیدا کرلیتے ہیں۔ جب دنیا ہمارے اِس جواز پر غوروغوض کررہی ہوتی ہے۔ہماری ترجیحات کا رُخ بدل جاتا ہے۔ہم تاریخ کے اداکار ہیںاور تم سب لوگ(یعنی باقی دنیا)صرف یہی جاننے میں لگے رہتے ہیںکہ ہم کر کیا رہے ہیں؟“ اب آپ جلے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے جو مرضی رائے زنی کریں کہ ارے کتنا زعم ہے،کتنا گھمنڈ ہے۔خدا تو کہیں یاد ہی نہیں۔

سچ یہی ہے جو کہا گیا۔ اب ذرا اس نئی صورت کو دیکھئے دُنیا خصوصاً افغانستان کے ہمسایہ ملک تو اسی ادھیڑ بن میں اُلجھے ہوئے تھے کہ اس بدمعاش تھانیدار کی فوجیں اِس تباہ شدہ مُلک سے دیکھو کب نکلتی ہیں؟قیاس آرائیوں کے ڈانڈے کہیں دس اور کہیں سولہ کے قریب قریب متوقع تھے۔مگر اب2017کا وسط ہو چکا ہے اور دنیا حیران تھی کہ اب کونسی مہم جوئی باقی ہے؟لیجئے ترجیحات کا رخ بدل گیا ہے۔خیر سے صدر ٹرمپ اور اُن کے متعدد مشیران کی کی کاروباری ذہنیت سامنے آگئی ہے۔افغانستان میں وسیع معدنی ذخائر کی موجودگی نے اس قوم کے رجّے بچے لیڈر اور عالی دماغوں کے منہ لالچ کے پانیوں سے بھر دئیے ہیں۔ افغانستان میں معدنیات کے ذخائر ہیں۔ چھوٹے موٹے نہیں اتنے بڑے ذخائرکہ ان مالیت کا اندازہ ایک ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ مالیت کا ہے۔ہائے ویران بنجر پہاڑوں اور تورا بورا کے غاروں والے ملک کے لئے یہ کتنی بڑی خوش آئند بات تھی۔ٹرمپ نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ فی الفور اشرف غنی سے بات کرلی۔

اب گلوبل ولیج کے وڈے سائیں کے سامنے بیچارے گاؤں کے چھوٹے موٹے کمّی کمینوں کی کیا مجال۔بیچارے اشرف غنی نے یہی کہا ہو گا حضور والا۔ می لارڈ آپ کے سایہ عاطفت میں تو ہم پہلے ہی ہیں آپ کا کس منہ سے شکریہ اداکریں کہ آپ ہر دم ہمارے بارے میں سوچتے ہیں۔یہ کان کنی اگر مغربی کمپنیوں کو نہال کر سکتی ہے تو ہم غریبڑوںکو بھی اس کا پور چور ملے گا۔ظاہر ہے تابنے اور لوہے کی خام دھاتیں جو تھوڑی بہت نکلتی ہیں وہ بہت ارزاں قیمت پر بکتی ہیں۔حضور ہمارے ہاں تو ایسی ایسی نایاب دھاتیں ہیں کہ کچھ کا تو آپ کے ماہرین کو بھی علم نہیں۔سو بسم اللہ۔چشم ماروشن دل ماشاد۔ ہماری تو خوش نصیبی ہوگی۔

یہاں تک تو سب کچھ درست اور بڑا ہی خوش آئند تھا۔ٹرمپ جیسا تاجر سوداگر بھی نہال اور اس کے تین ٹاپ کے کاروباری یار بھی سرشار، ایک کی تو فرم باقاعدہ کان کنی کے شعبے میں خصوصی مہارت رکھتی ہے۔لیجئے وائٹ ہاؤس میںہونے والی تندو تیز بحث و مباحثے پر افغانستان کی معدنیات سے فائدہ اٹھانا ہے جیسی حتمی بات نے مٹی ڈال دی۔فوج کے مزید دستے اور کان کنی کے ماہرین کا بھیجنا بھی لازم ٹہرگیا تھا۔ مگر ہوا یہ کہ ان خوش کن خیالوں اور خوابوں کے منہ میں روڑ آگئے۔اس عظیم الشان سلطنت یعنی ایمپائر کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اراکین کومعلوم ہواکہ معدنیات کے زیادہ ذخائر تواُن علاقوں میں ہیں جہاں طالبان کا کنٹرول ہے۔اور فی الوقع یہ تو بڑی ہی تشویش ناک بات ہے۔

میں بے اختیار ہنس پڑی ہوں۔ 15 جولائی 2008کی اس دوپہر نے میری یادوں میں کسی برقی کوندے کی مانند لشکارا مارا ہے جب میں صدر سٹی بغداد میں صدام کی خفیہ ایجنسی کے کرنل بصیر الحانی کے گھر کے ایک کمرے میں بیٹھی تھی۔مجھے یہاں لانے والا میرا ٹیکسی ڈرائیورتھا۔ افلاق کیمیکل انجینئر جوامریکی حملے کے وقت زکوZakhuشمالی عراق میں پیٹرولیم کمپنی میں اپنی جاب پر تھا۔بغداد میں گھر تباہ اور والدین اور بہن سب شہید۔دوبار خودکشی کی کوشش کی۔کاظمیہ کے علاقے الحریت میں رہنے والے چچا چچی نے بانہوں میں سمیٹ لیا۔وقت لگا زندگی کی طرف لوٹنے میں۔ کمپنی ختم،جاب ختم۔اب ٹیکسی چلاتا تھا۔میری بغداد کے اتنی جلدی ڈھے جانے کے متعلق کچھ جاننے کی خواہش پر یہاں لایا تھا۔یہاں فارس مہدی سے بھی ملاقات ہوگئی۔امریکہ سے ایروناٹیکل انجنیئرنگ میں تربیت یافتہ۔پہلے جماعت الفاتحین میں شامل مزاحمت کی تاریخ مرتب کررہا تھا۔بعد میں القاعدہ میں شامل ہوگیا۔روس،پاکستان،امریکہ جنگ میں جہاد کے جذبوں سے لدا پھندا پاکستان پہنچا تھا۔پشاور حیات آباد میں تین ماہ کے تربیتی کورس میں شامل ہوا۔آئی ایس آئی کے چند افسروں کے نام بھی اُس نے لئے جن سے اُس کی دوستی تھی۔

بغداد کے اتنی جلدی ڈھے جانے اور بہت سی دیگر باتوں کے بعد میں نے فارس مہدی سے افغانستان کے بارے میں اُن کے تاثرات جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ دو ٹوک لہجے میں وہ بولے تھے۔ ”دُنیا انہیں اُجڈ، گنوار،جاہل اور جانے کن کن خطابات سے نوازتی ہے۔ پر وہ بڑی تیز اور جی دار قوم ہے۔ٹوٹی چپلوں کے ساتھ چھلانگیں مار کر جہازوں میں بیٹھتی اور اُنہیں اڑاتی ہے۔ امریکہ کو بیوقوف بنانے کا فن جانتی ہے۔ کیا فوج، کیا پولیس، کیاایجنٹ۔ جدید ہتھیاروں کی سپلائی طالبان کی سرکوبی کیلئے حاصل کرتی ہے۔طالبان سے سودے بازی کرکے باقاعدہ منصوبہ بندی سے نوراکشتی کا اہتمام کرتے ہوئے امریکیوں کو پیغام دیتی ہے کہ طالبان لُوٹ کر لے گئے ہیں سامان۔مزید دو۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ گروہوں اور قبائل میں بٹی قوم جس کا بہت بڑا مسئلہ اُس کی معاشرتی یک جہتی کا ہے۔خالصتاً ایک قبائلی ملک جس میں پشتون، ازبک، تاجک، ہزارہ اور کچھ دیگر قومتیں ہیں۔ قبائلی خوانین اور سردار جو بے حد طاقتور اور اہم ہیں یہی لوگ جنگ کے زمانے میں وارلارڈز بن کر امریکہ سے ڈالروںکے بورے سمیٹتے رہے اور بجائے اپنے مفلوک الحال لوگوں کی بہتری پر خرچ کرنے کے اپنی جیبیں بھرتے اور خود کو مضبوط کرتے رہے۔غربت اور پس ماندگی اِن لوگوں کا مقدر بنادی گئی ہے۔”کاش اُسامہ بن لادن اُن کو ہستانی لوگوں کیلئے علم اور ٹیکنالوجی کے راستے کھولتے۔ کالج اور یونیورسٹیاں بناتے تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا۔میری اندر کی پرانی خواہش میرے ہونٹوں پر آگئی تھی۔

”بات علم اور ٹیکنالوجی کی نہیں۔بڑی طاقتوں کے غلبوں اور حرص کی ہے۔آپ اور آپ جیسے ترقی پسندوں کو یہ فدائی مجاہدین دہشت گرد نظر آتے ہیں۔آپ کا کہنا ہے کہ ہمیں مغرب کا مقابلہ علم اور ٹیکنالوجی کے زور پر کرنا چاہئے۔ مجھے اتفاق ہے اس سے۔علم مومن کی میراث ہے۔ کوئی شک نہیں مگر وہ جو صاحب علم ہیں متمدن ہیں۔کلچرلڈ اور انسانیت کے علمبردار ہیں۔کیا کر رہے ہیںوہ ؟کُتے بلیوں کےلئے ان کی ممتا پھٹی جاتی ہے مگر عراق کے معصوم بچے،عورتیں اور بوڑھے جس بربریت کا شکارہوئے ہیںاس کے لئے کیا کہیں گے۔ تومجھے اس وقت عراقی فوج کا کرنل بصیر الحانی کیوں یاد آیا۔ فارس مہدی بھی یادوں میں اُبھر ا۔ کوئی واقعہ تبھی یادوں میں کسی برقی کو ندے کی طرح لپکتا ہے کہ جب کہیں مماثلت کے سرے جڑتے ہوں, تو اب معدنیات کے ذخائر پر نگاہیں جم گئی ہیں۔اور مستقبل کی سُپر پاور آپ میرا مطلب بہت اچھی طرح سمجھ گئے ہونگے کے بارے بھی پتہ چل گیا ہے کہ وہ بھی خیر سے کابل سے کوئی پچیس میل جنوب مشرق میں تانبے کی کان کنی کے لئے تین بلین ڈالر کا معاہدہ کربیٹھی ہے۔اب وڈے سائیں کے کلیجے پر چھریاں سی چل گئی ہیں کہ لو یہ تو وہ بات ہوئی کہ کشٹ ہم کاٹیں اور پھل یہ ایرے غیرے کھائیں۔خود سے پہلے کےامریکی حکمرانوں بارے نرم سے لفظوں میں لعن طعن کرتے ہوئے ٹرمپ کا لہجہ ذرا سا ترش تھا۔

اِن احمقوں کو عقل ہی نہیں تھی۔سوچتے تو سہی کہ عراق سے تیل نکالے بغیر فوجیں نکالنے کی کیا تک تھی بھلا۔مجھے تو یہ بھی معلو م ہوا ہے کہ بہت سے بےوقوف اپنی ٹینکیاں ڈالر دے کر بھرواتے تھے۔خواہ یہ دو تین ڈالر ہی ہوتے۔فاتح قوم کو حق ہوتا ہے کہ وہ مفتوح ملک کی ہر قیمتی چیز پر قبضہ کرلیں۔اُن کی جانیں، مال، ہیرے جواہرات سب فاتح قوم کی ملکیت ہوتے ہیں۔ کزن کے پاس کوہ نور ہیرا بھی شاید ترغیب دیتا ہو۔ مجھے فارس مہدی پھر یاد آئے تھے۔ اس کے الفاظ یاد آئے تھے۔المیے دراصل ہم لوگوں کے ساتھ ہیں۔ہمارے صحرائی کنوئیں،ہماری خام معدنیات بڑی کشش کی حامل چیزیں ہیں۔انہیں یورپ کی فاحشاؤں اور طوائفوں سے سمجھداری اور دانائی سے بچانے کی ضرورت تھی اور ابھی بھی ہے۔مگر یہ دانائی ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں میں سرے سے نہیں ہے۔ وگرنہ کسی امریکی یا اتحادی کی کیا مجال کہ وہ ہمارے پیٹرول پمپوں سے اپنی گاڑی کی ایک سو ستر (170)لٹر کی ٹینکی صرف تین ڈالر میں بھروائے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی ابلاغی اداروں پر یلغار۔۔ صہیونی ریاست کا تاریک چہرہ بے نقاب

صہیونی ریاست جہاں ایک طرف دنیا کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ...