منگل , 22 اگست 2017

کاش سماج تشکیل ہو پاتا

حیدر جاوید سید

ماتم”جمہوریت”جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ جمہوریت میں جمہور کا معیار زندگی بلند تر ہوتا ہے یا بالادست طبقات کا؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ جمہوریت ہو تو بالا دست طبقات نہیں ہوتے اور ہوتے بھی ہیں تو قانون کی بالا دستی انہیں کینڈے میں رکھتی ہے۔ یہاں قانون کیا ہے۔ موم کی ناک’ طاقتور اور ان کے ساجھے دار اسے مرضی سے موڑتے رہتے ہیں۔ جمہور کو درس صبر و شکر اس سے زیادہ ہوا تو کہا گیا۔ جو بھی کرتا ہے اللہ کرتا ہے۔ فقط ایک یہی المیہ نہیں بلکہ ایک المیہ اور بھی ہے وہ یہ کہ بہت سے ”بندے” خدائی اختیار سنبھالنے اور استعمال کرنے کی بیماری میں مبتلا رہتے ہیں۔ حاذق حکیم آج تک اس بیماری کا علاج دریافت نہیں کر پائے۔ یہ بھی خبط عظمت کی طرح کی ایک بیماری ہی ہے۔ زندگی کے جھمیلے اور بہت۔کالم لکھ رہا تھا کہ راولپنڈی سے خبر ملی کہ ن لیگ کے اڑھائی تین سو کارکنوں نے شیخ رشید کی لال حویلی کا گھیرائو کیا اور بد کلامی کے مظاہرے بھی۔ شیخ ان کے پرانے شہر دار اور جماعتی ساتھی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی کمزوریوں سے واقف ہیں مگر یہ رسم اچھی نہیں۔ سلسلہ چل نکلا تو گھاٹے کا سودا سب کے لئے ہے اور پھر سر پکڑ کر سارے روئیں گے۔ کم لکھے کو زیادہ سمجھئے انارکی کا دروازہ کھولنے کی حماقت سے اجتناب کیجئے۔ بات پھر وہی ہے کہ طبقاتی نظام میں تربیت اور مفادات پانے والوں سے ہم جمہوری رویوں کے مظاہرے کی توقع کر سکتے ہیں؟

جمہوریت چیز دیگر است حضور۔ مسلم لیگ(ن) فیصلہ کرچکی لڑنے کا۔ آگے آگے دیکھئے کہ کیا ہوتا ہے۔ ارے یہ کیا وہ اپنے پرانے ممدوح قبلہ دہلوی سرکار سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف پھر سے تیاریوں میں ہیں۔ اسی مہینے میں فیصل آباد میں ان کی جماعت اس خاموش اکثریت کی طاقت کا مظاہرہ کرنے جا رہی ہے جس بارے مشرف کا ہمیشہ دعویٰ رہا کہ وہ ان کے ساتھ ہے۔ ہمارے ہمزاد فقیر راحموں اسی خاموش اکثریت میں شامل ہیں مگر وہ مشرف کے ساتھ ہونے کی تردید کرتے رہتے ہیں۔ فقیر راحموں کہتے ہیں کہ اس ملک کا محفوظ مستقبل حقیقی جمہوریت میں ہے۔ بات مشرف حضور کی ہے۔ اگلے روز بولے کہ آمروں نے ملک کی گاڑی کو درست پٹڑی پر ڈالا سویلین نے گاڑی پٹڑی سے اتار دی۔ قبلہ! بھول گئے کہ ان سمیت چاروں فوجی آمروں نے دستور’ جمہوریت’ قانون’ عوام اور پاکستان کے ساتھ جو کیا وہ ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ یہاں تاریخ کو کون پڑھتا ہے۔ نصاب تعلیم میں پڑھائی جانے والی تاریخ اپنے اپنے ادوار کے زمینی حقائق سے متصادم ہے۔ خاموشی بہتر ہے۔ دوغلے پن کی نشاندہی سے ایمان اور حب الوطنی بھرشٹ ہونے کے خطرات ہیں۔دو ہی چیزوں کا اس ملک میں ستر برسوں سے کاروبار ہو رہا ہے۔ مسلمانی اور حب الوطنی کا۔ اتنے تو فٹ پاتھوں پر نان چنے بیچنے والے نہیں بیٹھتے جتنے یہ کاروبار کرنے والے موجود ہیں۔

ایک دن حساب کیا تھا ۔ فتوئوں اور الزامات کی زد میں آئے پاکستانیوں کی تعداد ان کی اصل تعداد سے زیادہ ہے۔ فقیر راحموں سے پوچھا’ حضرت یہ کیا ہے؟ بولے شاہ جی سیاست اور دینداری کے دھندے اس طرح چلتے ہیں۔ اس سے زیادہ لکھنے کی مجال نہیں ہم میں ہاں ہمارے ایک دوست ہیں خرم مشتاق کاروباری آدمی ہیں۔ علم و ادب اور سیاست کے بھی رسیا ہیں۔ کل انہوں نے دوستوں سے مشورہ مانگا کیوں نہ ایک پارٹی بنا لی جائے۔ ہو سکتا ہے کبھی دائو لگ جائے۔ مشورہ دیا ”انسداد سیاست کاری پارٹی” کے نام سے جماعت بنا لیں۔ بولے سیاست کاری کے ساتھ ساتھ اگر عسکریت بھی ڈال لیا جائے تو کیسا رہے گا۔ فقیر راحموں بولے شاہ جی یہ تمہیں پھنسوا نے کے ہتھکنڈے ہیں بالکل تائید نہ کرنا۔ ہم بھلا کب فقیر کے مشورے سے الٹ کرتے ہیں۔ ٹھک سے جواب دیا نا بھیا! ہم تو باز آئے۔ بولے ڈر گئے؟

عرض کیا پہلے بندے اٹھتے تھے تو پتہ ہوتا تھا بھینس چوری کا مقدمہ ہوا۔ سائیکل چوری کا یا ڈی پی آر 49 کے تحت۔ سال دو سال بعد گھر تو آجاتے تھے۔ اب تو اٹھانے والے انکار کرتے وقت جوتوں سمیت آنکھوں میں گھستے ہیں۔ بس صاحب اسی وجہ سے آج کل ہم ”سیاست” اور نظریات سے ذرا فاصلے پر رہتے ہیں۔ خرم مشتاق پارٹی بناتے ہیں یا نہیں البتہ ہماری طرف سے تو انکار ہی سمجھیں۔ اس عمر میں گرمی’ تشدد’ ویرانی اور اپنوں سے جدائی کے عذاب کون بھگتے۔ ہاں اگر کبھی قومی جمہوریت کے قیام کے لئے زمین زادے منظم ہوئے گھروں سے باہر نکلنے سے قبل انہوں نے اپنے تراشے ہوئے بت توڑنے کا حوصلہ کیا تو پھر کسی دعوت کی ضرورت نہیں۔ ہم تو نصف صدی سے انجمن عاشقان حقیقی جمہوریت کے لائف ممبر ہیں۔ آپ بور ہو رہے ہوں گے۔ جمہوریت کی تکرار سے مجھے اندازہ ہے۔ لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ صحرا میں سفر کرتے آدمی اور چوپائے دونوں کو دو چیزوں کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔ ایک سایہ اور دوسرا پانی۔ زندگی کے صحرا میں چلتے لوگوں کے لئے مساوی حقوق پانی کی طرح لازمی ہیں اور انصاف سائے کی طرح ضروری ہے ان دونوں کے بغیر سماج تعمیر نہیں ہوتے۔ ہمارے یہاں ستر برسوں سے ہجوم کو سماج بنانے والے کتنے آئے؟ چھ عشروں کی میری زندگی میں لے دے کر ایک بھٹو صاحب۔ اور پھانسی چڑھ گئے ۔ اسی لئے باقی کے سارے لوگ طبقاتی نظام کے مجاور ہیں اور مجاور کب نظم و ضبط کو اچھا سمجھتے ہیں۔ چڑھاوے ہجوم چڑھا تا ہے۔ کاش ہم زندہ سماج بن سکتے۔ شعور و آگہی کی دولت سے مالا مال ہوتے اور اس ابدی سچائی سے واقف بھی کہ آزاد مائوں کے جنے غلامی پر شرمندہ ہوتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے جنرل دہقان کو دفاعی امور میں اپنا مشیر مقرر کر دیا

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی جمہوری ایران کے سپریم لیڈر امام خامنہ ای نے ایک حکم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے