پیر , 27 مئی 2019

’چین کے دوسرے طیارہ بردار بحری جہاز کی تیاری کا کام شروع‘

[caption id="attachment_1326" align="alignleft" width="300"]طیارہ بردار جہاز کی تعمیر کی خبروں کے بعد چین کے سوشل میڈیا پر اِس بارے میں کافی مثبت اور قوم پرستانہ ردعمل سامنے آیا ہے طیارہ بردار جہاز کی تعمیر کی خبروں کے بعد چین کے سوشل میڈیا پر اِس بارے میں کافی مثبت اور قوم پرستانہ ردعمل سامنے آیا ہے[/caption]

چین کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کا دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بنا رہے ہیں، لیکن اِس بار یہ جہاز مکمل طور پر مقامی ٹیکنالوجی سے تیار کیا جائے گا۔

وزارت دفاع کے مطابق یہ جہاز جوہری طاقت والا نہیں ہو گا اور 50 ہزار ٹن وزنی اس جہاز کو دالیان کی بندرگاہ پر تیار کیا جائےگا۔

چین اپنے ملک کے وسطی اور جنوبی سمندر میں ہمسایوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنی بحریہ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیاؤننگ نامی چین کا پہلا طیارہ بردار بحری جہاز استعمال شدہ سویت جہاز تھا جسے تقریباً 25 سال قبل تیار کیا گیا تھا اور اسے بڑے پیمانے پر مرمت کے بعد سنہ 2012 میں بحریہ میں شامل کیا گیا تھا۔

وزارت دفاع کے ترجمان یانگ یوجون کا ایک اخباری بریفنگ میں کہنا تھا کہ ’اِس (جدید) طیارہ بردار جہاز کو مکمل طور پر مقامی ڈیزائن کے مطابق تیار کیا جائے گا۔‘

’دوسرے بحری جہاز کے ڈیزائن اور تعمیر میں لیاؤننگ سے ملنے والی تربیت اور مفید تحقیقی تجربات شامل ہیں۔‘

اُنھوں نے تفصیلات فراہم کیے بغیر بتایا کہ ’اِس کے باعث بہت سے شعبوں میں بہتری آئے گی۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فوجی حکام کی جانب سے پھیلنے والی افواہوں کے کئی ماہ بعد اس جہاز کے تعمیراتی کام کی سرکاری تصدیق سامنے آئی ہے۔

حالیہ برسوں میں چین کے دفاعی اخراجات میں اضافے کے باعث ہمسایہ ممالک اور امریکہ کی تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یانگ نے بتایا کہ اِس طیارہ بردار جہاز پر چین کے جے-15 جنگی جہاز اور دیگر جہازوں کی نقل و حمل کی جاسکے گی۔

[caption id="attachment_1325" align="alignleft" width="300"]چین اپنے ملک کے وسطی اور جنوبی سمندر میں ہمسایوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنی بحریہ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے چین اپنے ملک کے وسطی اور جنوبی سمندر میں ہمسایوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنی بحریہ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے[/caption]

اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ دوسرے طیارہ بردار جہاز کو بیڑے میں کب شامل کیا جائےگا، لیکن کہا جا رہا ہے کہ اِس کا انحصار ڈیزائن کے کام میں پیش رفت پر ہے۔

چین کے بحری ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی چین کے سمندر میں کشیدگی نے دوسرے طیارہ بردار جہاز کی تعمیر کو لازمی بنا دیا ہے۔

چین تقریباً پورے جنوبی چین کے سمندر پر ملکیت کا دعویدار ہے، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اِس میں تیل اور گیس کے بھاری ذخائر موجود ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال اِس سمندر میں جہاز سے ہونے والی تجارت کی مالیت پانچ کھرب امریکی ڈالر ہے۔ برونائی، ملائشیا، فلپائن، تائیوان اور ویتنام سب کے سب اِس علاقے پر ملکیت کے دعویدار ہیں۔

طیارہ بردار جہاز کی تعمیر کی خبروں کے بعد چین کے سوشل میڈیا پر اِس بارے میں کافی مثبت اور قوم پرستانہ ردعمل سامنے آیا ہے۔

چین کی کمیونسٹ قیادت اپنی مسلح افواج کو جدید خطوط پر اُستوار کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے تاکہ وہ چین کی سرحدوں سے باہر بھی فوجی طاقت کا مظاہرہ کر سکیں۔ تاہم چین کے پاس طیارہ بردار جہاز کے لیے اب تک طیاروں کا بیڑہ یا تیار پائلٹ نہیں ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

راہول گاندھی کا مستعفی ہونے کا امکان، رہنماؤں کے استعفوں کی بھرمار

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی لوک سبھا انتخابات 2019 میں ناکامی کے بعد انڈین نیشنل کانگریس …