پیر , 25 ستمبر 2017

صہیونیت

تسلیم رضا

اب سے کوئی 80 برس قبل تک پورے فلسطین میں کسی ایک جگہ بھی کوئی یہودی بستی موجود نہیں تھی۔عثمانی خلفا نے پابندی لگا رکھی تھی کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں رہنے والے یہودی اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے وزٹ ویزے پر فلسطین آسکتے ہیں اور چند روز قیام کرسکتے ہیں لیکن انہیں فلسطین میں زمین خریدنے اور آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ عثمانی خلفا کے علم میں یہ بات تھی کہ یہودی فلسطین میں بتدریج آباد ہونے اور اس پر قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ وہ اسرائیل کے نام سے اپنی ریاست قائم کر سکیں۔ اس لیے اس سلسلہ میں عثمانی خلافت کا رویہ بے لچک تھا اور وہ کسی قیمت پر یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا موقع فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔اس کے خلاف یہودیوں نے سازشوں کے تانے بانے بننے شروع کردیے اور باقاعدہ تحریکیں چلائیں۔

ڈاکٹر علی جمعہ تاریخ مدین القدس کے حوالے سیاس تحریک کے آغاز پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں،”ایک شبتای تاسفی نامی ترک یہودی کے ہاتھوں 1665 میں یہودیوں کو جمع اور منظم کرنے اور فلسطین کی طرف ہجرت کرنے کی پہلی دعوت شروع ہوئی ، پہلے پہل یہ ایک خفیہ تحریک رہی پھر اعلانیہ ہوگئی، پرشور مظاہروں کے ذریعے ان کے پیروکاروں کی تعداد سینکڑوں سے تجاوز کر گئی اس کے بعد سلطان نے اس تحریک کے خاتمے کا حکم دیا، شبتائی نے اپنے متبعین کو اپنے مقاصد خبیثہ کو حاصل کرنے کے لئے خود کو مسلمان ظاہر کرنے اور خفیہ طور پر کام کرنے کا حکم دیا اور یہودیوں نے اسے ”الدونمہ’ (Eldonmp) کا نام دیا ، اور وقت گزرنے کے ساتھ Shabtai کے پیروکاروں کی بڑی تعداد حکومت اور فوج میں اعلی عہدوں پر پہنچ گئی جو تھے توحکومت کا حصہ ، لیکن اس کے پیروکار تھے اور بطور خاص اس وقت جب سلطنت عثمانیہ شکست وریخت کے دور سے گزر رہی تھی اور بہت سے لوگ ان کے علاقوں پر قبضہ جمانے کے لالچ میں اس کے ساتھ تھے۔

مصر کے والی محمد علی پاشا نے1831 یروشلم کے شہر،شام پر قبضہ کر کے عثمانی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کردیا، اس کے دور میں فلسطین میں یہودی برادی کی حالت بہتر ہوگئی تھی ؛ اس نے عثمانی پاشا کی طرف سے یہودیوں کے لیڈروں،مالداروں پر عائد ٹیکس، اور قرضوں کو معاف کردیا اور نئی مقامی کونسلوں میں ان کی نمائندگی کو قائم کردیا اور اسی طرح یہودیوں کو یروشلم میں ان کے معبدکو بحال کرنے کی اجازت دی تھی اس شرط کے ساتھ کے وہ پرانی عمارتوں پر کچھ بھی اضافہ نہیں کرینگے اور نہ ہی دیوار گریہ، کے ارد گرد،ٹائلیں لگائیں گے، چونکہ دیوار گریہ کے سامنے کا صحن سلطان صلاح الدین ایوبی کے زمانے سے اوقاف کی ملکیت تھی اس لیے اس کے ذمہ دار کو سالانہ رقم کی ادائیگی کے بدلے کسی بھی قانونی حق دیئے بغیر اس کی زیارت کرنے اور اس میں عبادت کرنے اور ہیکل سلیمانی کی بربادی اور زوال پر رونے کیلئے اجازت دے دی گئی تھی ،(تاریخ مدین القدس،از: رفیق )مشہور یہودی اور صہیونی لیڈر تھیوڈور ہرتزل نے 1897میں صہیونی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ وہ لوگ اسرائیل کی ریاست قائم کرنے کے لیے سرزمین فلسطین کا انتخاب کر چکے تھے۔طویل سالوں کی سازشوں اور منصوبہ بندی کے بعد 1901میں ہرتزل نے سلطان عبدالحمید خان، سلطانِ ترکی کو باقاعدہ پیغام بھجوایا کہ یہودی ترکی کے تمام قرضے ادا کرنے کو تیار ہیں، آپ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی اجازت دے دیں مگر سلطان عبدالحمید خان نے اس پیغام پر تھوک دیا جس شخص کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا گیا تھا اس کا نام تھا حاخام قرہ صوآفندی۔ یہ سالونیکا کا یہودی باشندہ تھا اور ان یہودی خاندانوں میں سے تھا جو سپین سے نکالے جانے کے بعد ترکی میں آباد ہوئے تھے۔سلطان عبدالحمید خان کا یہ جواب سن کر ہرتزل کی طرف سے ان کو صاف صاف یہ دھمکی دے دی گئی کہ تم اس کا برا نتیجہ دیکھو گے۔

چنانچہ اس کے بعد فورا ہی سلطان عبدالحمید کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشیں شروع ہو گئیں جن میں فری میسن، دونمہ اور وہ مسلمان نوجوان شریک تھے جو مغربی تعلیم کے زیر اثر آ کر ترکی کی قوم پرستی کے علمبردار بن گئے تھے۔ ان لوگوں نے ترکی فوج میں اپنے اثرات پھیلائے اور سات سال کے اندر ان کی سازشیں پختہ ہو کر اس منزل پر پہنچ گئیں کہ سلطان عبدالحمید کو معزول کر دیں۔ اس موقع پر جو انتہائی عبرتناک واقعہ پیش آیا وہ یہ تھا کہ 1908میں جو تین آدمی سلطان کی معزولی کا پروانہ لے کر ان کے پاس گئے تھے ان میں دو ترک تھے اور تیسرا وہی حاخام قرہ صوآفندی تھا جس کے ہاتھ ہرتزل نے فلسطین کو یہودیوںکے حوالے کرنے کا مطالبہ سلطان کے پاس بھیجا تھا۔(بحوالہ: القدس)سلطان عبدالحمید نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ان کے خلاف ترکی میں چلنے والی تحریک اور ان کی معزولی میں یہودیوں کا ہاتھ تھا اور انہیں خلافت سے معزولی کا پروانہ پہنچانے والوں میں ترکی کی پارلیمنٹ کا یہودی ممبر بھی شامل تھا،،۔ سلطان مراد کے بعد خوش قسمتی سے سلطان عبدالحمید دوم 34 واں سلطان بنے تھے۔ یہ وہ آخری شخص تھے جو برادری(فری میسن) کے زیر اثر نہ تھے بلکہ ان کی چالوں کو سمجھتے اور ان کے توڑ کی فکر میں رہتے تھے۔ یہ الگ بات تھی دشمن کا جال بڑے کھونٹے گاڑ چکا تھا۔ برادری نے اس کو جب ڈھب پر لانے کی کوشش کوناکام ہوتے دیکھا تو ترکیب نمبر دو شروع کی۔ اس پر قاتلانہ حملے شروع ہوگئے تاکہ اگلے فری میسن حکمران کا راستہ صاف کیا جائے۔

اس کے خلاف پروپیگنڈے کے طوفان کا یہ عالم تھا کہ یورپی وظیفہ خور قلم کار اسے مردود عبدل کہتے تھے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے برادری اس رکاوٹ کو اپنے راستے میں حائل دیکھ کر کس حد تک برافروختہ ہوچکی تھی؟سلطان عبدالحمید دوم نے قاتلانہ حملوں کے باوجود حکمرانی جاری رکھی۔ اس کے مخالفین کی قیادت برادری کا تیار کردہ پرویزی جرنیل محمود شفقت پاشا کررہا تھا۔ وہ سالونیکا میں تیسری فوج کا کمانڈر تھا۔ اس نے اپنے مقدونی سپاہیوں کے ساتھ اپریل 1909 میں استنبول کا محاصرہ کرلیا۔ 22 اپریل 1909 کو بہت سے منتشر ارکان ایوان اور وزرا خفیہ طور پر سان سٹیفانو میں جمع ہوئے۔ سعید پاشاکی چیئر مین شپ میں فیصلہ کیا سلطان عبدالحمید کو معزول کردیا جائے، چنانچہ اس کا اقتدار 27 اپریل 1909 کو ختم ہوگیا۔ دو دن بعد اسے سالونیکا میں جلاوطن کردیا گیا۔ اس نے اپنی بقیہ زندگی وہیں گزاری۔ اس کا جرم کیا تھا؟ جرمِ ضعیفی کے بعد اس کا اصل جرم تھا اس نے برادری کے کہنے پر اسے فلسطین منہ مانگی رشوت کے عوض دینے سے انکار کردیا تھا۔ آئیے اس کی روئیداد بھی سن لیجیے: 1901 میں صہیونی تحریک کے سربراہ تھیوڈور ہرٹزل نے خلافتِ عثمانیہ کے 25 ویں خلیفہ اور عثمانی سلطنت کے 34 ویں سلطان، سلطان عبدالحمید ثانی کو پیشکش کی کہ اگر آپ سرزمین فلسطین میں یہودی آبادکاری کی اجازت دے دیں تو ہم آپ کو سونے کے 150 ملین برطانوی پونڈز دیں گے۔ سلطان نے جواب دیا: اگر تم مجھے 150 ملین برطانوی پونڈز کے بجائے وہ سارا سونا بھی دے دو جو پوری دنیا میں پایا جاتا ہے تو بھی مجھے تمہاری پیشکش قبول نہیں، کیونکہ میں پچھلے 30 سال سے اسلامی دنیا اور امت محمدیہۖ کے مفادات کا نگہبان ہوں۔ میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائوں گا جس سے مسلمانوں، میرے آبائو اجداد اور خلفا وسلاطین پر دھبہ لگے۔ میں یہودیوں کو سرزمین فلسطین کا ایک انچ بھی نہیں دینے والا، کیونکہ یہ میری ملکیت نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کی ملکیت ہے جنہوں نے اس کے دفاع کے لیے خون کی ندیاں بہائی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سی پیک کو ایشیا میں خون بہانے کیلئے استعمال کیا جائے گا: رضا ربانی

جامشورو (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ روہنگیا میں مسلمانوں پر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے