جمعہ , 24 نومبر 2017

خوشی اور درد و الم کے 70 سال

کلدیپ نئیر

یوم آزادی کی تقریبات سے مجھے وہ دن یاد آ جاتے ہیں جو میں نے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ میں بسر کیے۔ قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں ایک وکیل کے طور پر اپنا کیرئیر شروع کرنا چاہتا تھا لیکن تقسیم نے میرے سارے منصوبوں کو تہہ و بالا کر دیا اور مجھے اس جگہ کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا جہاں پر کہ میں پیدا ہوا اور پروان چڑھا۔ جب بھی میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو غمزدہ ہو جاتا ہوں۔ سیاہ بادلوں کے کنارے پر جو چمکتی ہوئی لائن نظر آتی ہے وہ یہ کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے ذاتی تعلقات زیادہ تر متاثر نہیں ہوئے۔ میرے والد جو کہ میڈیکل ڈاکٹر تھے انھیں سیالکوٹ چھوڑ کر جانے سے روک دیا گیا۔ لہٰذا میری ماں اور میرے والد نے ایک دن لوگوں کو بتائے بغیر گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور ٹرین پر سوار ہو گئے لیکن چند نوجوانوں نے انھیں پہچان لیا اور منتیں کیں کہ چھوڑ کر نہ جائیں۔ میرے والد نے کہا کہ وہ تو اپنے بچوں کو دیکھنے جا رہے ہیں جو کہ پہلے ہی دہلی جا چکے ہیں اور وہ جلد واپس آ جائیں گے۔ لیکن نوجوان مصر تھے کہ وہ انھیں نہیں جانے دیں گے بلکہ انھیں کہنے لگے کہ آپ لوگ اسی ٹرین میں اگلے دن بے شک چلے جائیے گا۔

اس کے ساتھ ہی ان نوجوانوں نے بتایا کہ نارووال کے پل کے قریب اس ٹرین کے تمام مسافروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا دیا گیا ہے لہٰذا میرے والدین کو انھوں نے کہا کہ آج کا دن رک جائیں کل بے شک چلے جائیں تاکہ ان کا سفر محفوظ رہے۔ ان نوجوانوں نے نہ صرف میرے والدین کو جو بیمار تھے پیدل پل پار کرنے میں مدد کی اور سرحد پر انھیں الوداع بھی کیا۔ میں اپنے والدین کے چلے جانے کے بعد چند دن اپنے گھر پر ہی رہا اور پھر واہگہ کے راستے بھارت منتقل ہوا۔ ایک بریگیڈئیر جس کا کہ انڈین آرمی میں تبادلہ ہو چکا تھا میرے والد کے پاس آیا اور کہا کہ وہ ان کی کس طرح مدد کر سکتا ہے میرے والد نے بریگیڈئیر کو کہا کہ وہ میرے بیٹے کو (یعنی مجھے) باحفاظت سرحد عبور کروا دے۔ چنانچہ میں اس کی فوجی جیپ کے پیچھے بیٹھ کر روانہ ہو گیا جو کہ گھریلو سامان سے بھری ہوئی تھی۔ ہمارا شہر سیالکوٹ، امرتسر جانے والی مین روڈ سے قدر ہٹ کر واقع ہے لیکن میں یہ دیکھ کر بہت خوفزدہ ہو گیا کہ ساری سڑک سیکڑوں لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ کچھ لوگ دوسری طرف سے پاکستان بھی آ رہے تھے لیکن جانے والوں کی تعداد زیادہ لگ رہی تھی۔ مجھے لاشوں کی بدبو آ رہی تھی۔ لوگ فوجی جیپ کے لیے راستہ چھوڑ رہے تھے۔ ایک جگہ پر ایک بوڑھے سکھ نے جس کی داڑھی ہوا میں اڑ رہی تھی ہماری جیپ روک کر منت کی کہ اس کے پوتے کو دوسری طرف پہنچا دیا جائے۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے حال ہی میں اپنی تعلیم مکمل کی ہے اور میں چھوٹے بچے کو پال نہیں سکتا۔ اس نے کہا کہ اس کے پوتے کو ریفیوجی کیمپ میں چھوڑ دیا جائے وہ بعد میں وہاں پہنچ جائے گا لیکن میں نے انکار کر دیا اور اس کا چہرہ آج تک میری آنکھوں میں گھوم رہا ہے اور مجھے اس پر بڑا ترس آ رہا ہے۔

سیالکوٹ میں ایک مالدار مسلمان غلام قادر نے اپنا بنگلہ کھول دیا اور میرے والد کو کہا کہ جب تک حالات معمول پر نہیں آتے آپ میرے بنگلے میں قیام کریں یہاں آپ محفوظ رہیں گے۔ اس وقت تک وہ بنگلہ خود ریفیوجی کیمپ بن چکا تھا جہاں ایک سو سے زیادہ لوگ رہنے لگے تھے۔ غلام قادر ان سب لوگوں کے لیے راشن کا بندوبست بھی کر دیا تھا اور ہمارا دودھ دینے والا گوالا بھی باقاعدگی سے صبح شام وہاں آتا تھا۔ جب میں نے سرحد عبور کی تو میرے پاس صرف ایک چھوٹا سا بیگ تھا جس میں کپڑوں کا ایک جوڑا اور 120روپے کی نقدی تھی جو میری والدہ نے مجھے دیے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ میرے پاس بی اے اونرز اور ایل ایل بی کی ڈگریاں بھی تھیں اور مجھے اعتماد تھا کہ میں جلد اپنا کیرئیر بنا لوں گا البتہ مجھے اپنے والد کے بارے میں بہت فکر تھا کہ وہ اب جالندھر میں نئے سرے سے کس طرح زندگی شروع کر سکیں گے لیکن میرے والد جلد ہی اپنے مریضوں میں بہت مقبول ہو گئے اور مریض جوق در جوق صبح شام ان کے پاس آنے لگے۔ میں وہاں سے دہلی چلا گیا جہاں میری خالہ دریا گنج میں رہ رہی تھیں۔ جامع مسجد قریب ہی تھی جہاں پر نان ویج non veg) ( کھانا بڑے کم دام میں مل جاتا تھا جو میں وہاں کھاتا تھا۔ وہاں پر میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو مجھے اردو کے اخبار ’’انجم‘‘ میں لے گیا اور یوں میرا صحافت کا کیرئیر شروع ہوا۔

رہا یہ سوال کہ کیا تقسیم لازمی تھی جس میں دونوں اطراف سے کم از کم دس لاکھ افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ تلخی آج تک باقی ہے اسی وجہ سے دشمنی بھی قائم ہے۔ بھارت اور پاکستان میں1965ء‘ 1971ء اور 1999ء میں تین مرتبہ جنگیں ہوئی ہیں حتیٰ کہ آج بھی سرحدی جھڑپیں گاہے بگاہے جاری رہتی ہیں۔ ہم نے آزادی کی 70 تقریبات منا لی ہیں لیکن ہماری سرحدوں پر کوئی نرمی نہیں ہوئی جہاں پر خاردار تاریں لگی ہیں جن میں بجلی دوڑتی رہتی ہے اور مسلح فوجی مسلسل گشت کرتے رہتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں کوئی بات چیت نہیں ہوتی۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے ساتھ کوئی بات نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ دراندازوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دراندازوں پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں۔ لہٰذا دونوں ملکوں میں فاصلے بڑھتے رہتے ہیں۔ ویزا حاصل کرنا بے حد مشکل ہو چکا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان رشتہ داروں اور دوستوں کو ہو رہا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ کسی قسم کے تعلقات شروع کرنے سے پہلے کشمیر کا مسئلہ حل کیا جائے۔ وادی کشمیر میں آزادی کی جدوجہد جاری ہے اور ان لوگوں نے بندوقیں اٹھا لی ہیں تاکہ اپنا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

حال ہی میں میری سرینگر میں چند لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے جو یہ چاہتے تھے کہ وادی کو ایک آزاد اسلامی ریاست میں تبدیل کر دیا جائے۔ ان کے ساتھ میری بحث ہوئی لیکن میں کسی کو قائل نہیں کر سکا۔ پاکستان بھی کشمیر کو اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے۔ لہٰذا میرا بھی یہی خیال کہ آیندہ 70 سال تک بھی اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بھارت اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے۔ ممکن ہے کہ دونوں ملکوں کا میڈیا باہمی طور پر بیٹھ کر امن کی تجاویز پر بات چیت کریں کہ شاید اس طرح کوئی حل نکل سکے۔

(ترجمہ: مظہر منہاس)

یہ بھی دیکھیں

بھارت کے ساتھ اتحاد سے امریکی مقاصد

امریکہ اس علاقے میں چین کے مقابلے میں انڈیا کی سربراہی میں ایک اتحاد بنا ...