منگل , 22 اگست 2017

کیا موصل میں کچھ بچا بھی ہے؟

موصل کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے چھٹکارہ دلوانے کے لیے خونریز لڑائی نے شمالی عراق کے اس شہر کو کھنڈرات بنا دیا ہے، ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور جو بچ گئے وہ در بدر ہو گئے ہیں۔ امریکی اتحاد میں ہونے والی فضائی کارروائیوں، عراقی فورسز اور شدت پسند گروپوں کے درمیان ہونے والی اس لڑائی سے کتنا کقصان ہوا ہے اور اب اس سب کے بعد کیا ہو گا؟ نو ماہ تک جاری رہنے والی لڑائی کا اب خاتمہ ہوگیا ہے لیکن وہاں کے لوگوں کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں شروع ہونے والی اس لڑائی کے نتیجے میں ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں جن کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ہزاروں سے دسیوں ہزار تک ہے جبکہ تقریباً 10 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ قریب کے تمام علاقے تباہ ہو چکے ہیں، لاشیں ملبے تلے دبی ہیں اور گلیاں بارود اور ان پھٹے مواد سے بھری پڑی ہیں۔ اس لڑائی کو دوسری جنگ عظیم کے بعد شہر میں لڑی جانے والی سب سے خطرناک لڑائی کہا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے تازہ ترین جائزے کے مطابق موصل کے تقریباً ہر حصے کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم جولائی میں حکومتی افواج کے دوبارہ زیر کنٹرول آنے والے شہر کے مغربی حصے کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ’موصل کے 45 رہائشی اضلاع میں سے 15 کو شدید نقصان پہنچا ہے، یعنی کے وہاں کی زیادہ تر عمارتیں اب رہائش کے قابل نہیں رہیں۔‘ جبکہ اقوام متحدہ کے فضائی جائزوں کے مطابق دس ہزار عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل تباہ ہو گئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اصل میں پہنچنے والا نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ابتدائی فضائی جائزوں کے مطابق سب سے زیادہ نقصان رہائشی علاقوں کو ہوا ہے۔ تقریباً 8500 رہائشی عمارتیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سڑکوں کی طرف نظر ڈالیں تو 130 کلو میٹر تک سڑکیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔ اتحادیوں کی مدد سے کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں مشرق کو مغرب سے ملانے والے تمام پل بھی تباہ ہو چکے ہیں، جس کا مقصد شدت پسندوں کو محدود کرنا بتایا جاتا ہے۔ شہر میں موجود ائیر پورٹ ریلوے سٹیشن اور ہسپتالوں کی عمارتیں بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

عمارتیں، پل اور سڑکیں تو ایک طرف لیکن سب سے زیادہ جو متاثر ہوئے وہ تھے یہاں کے رہائشی۔ چار لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ عامرہ جن کی عمر 10 برس ہے متاثر ہونے والے افراد میں شامل ہیں۔ جب مارٹر گولا ان کے مکان پر گرا تو اس کے نتیجے میں ان کی ٹانگوں پر زخم آئے اور ان کی والدہ ہلاک ہو گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں اپنی والدہ کو پکارتی رہی، مدد کے لیے چیختی رہی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا، میں حرکت نہیں کر سکتی تھی۔‘ ’میرے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں تھا۔ تین دن اور راتیں میں تنہا تھی، ہر کسی کو آوازیں دیتی رہی لیکن کوئی میری آواز نہیں سن پا رہا تھا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ میری والدہ زندہ ہیں یا نہیں۔‘

اب موصل کا کیا ہو گا؟

اب جب کہ موصل شہر کا کنٹرول واپس حاصل کر لیا گیا ہے، سرکاری حکام اور ان کے شراکت دار اب اس شہر کو دوبارہ سے آباد کرنے کے لیے تمام تر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ ان کے لیے ایک مشکل چیلنج ہے، خاص طور پر مغرب میں۔ نو آبادکاری کو بظاہر کئی سال اور کروڑوں ڈالرز کی ضرورت ہے، لیکن عراقی حکام اس وقت شہر کو اتنا محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسے رہائشیوں کی واپس کے قابل بنایا جا سکے۔ جس کا مطلب ہے کہ لاشوں کو ہٹانا اور دولت اسلامیہ کے سلیپر سیلز، مجرمانہ گینگز اور ملیشیا کو ختم کرنا۔

(بشکریہ بی بی سی)

یہ بھی دیکھیں

ایک عراقی بوڑھے شخص نے ایک بار بتایا کہ:

انیس سو اکانوے (1991) میں جنوبی عراق کے شیعہ مسلمانوں کی صدام حسین کے خلاف ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے