منگل , 22 اگست 2017

ماہ آزادی خود احتسابی کا متقاضی ہے

برصغیر کی تقسیم اور انگریز ی تسلط کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والے وطن عزیز پاکستان کی یوم آزادی کا موقع ہم سے خود احتسابی کا متقاضی ہے۔ اس موقع پر جہاں آزادیٔ جشن منوانا روا ہے اس سے کہیں بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ وطن عزیز کا استحکام کیسے یقینی بنایا جائے۔ جس مقصد کیلئے اور جس نصب العین کے تحت یہ ملک حاصل کیا گیا تھا کیا آج قوم اس مقصد کو پورا کرنے میں یکسوئی سے کھڑی ہے ۔ پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو جو ملک ہم نے حاصل کیا تھا ۔ بد قسمتی سے 1971ء میں اس ملک کا آدھا حصہ ہم گنوا چکے ہیں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا ہے اس کی دیگر وجوہات جو بھی ہوں سب سے بڑی وجہ نا انصافی اور احساس محرومی کا انتہاکو چھو نا تھا اس کے باوجود ہم نے اس سے سبق نہیں سیکھا اور ایک مرتبہ پھر بعض اوقات اس قسم کے حالات کے اعادے کا گمان گزرنے لگتا ہے۔ آج بلوچستان کے عوام سوال اٹھا تے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کی روشنی میں تمام صوبوں کو خود مختاری دینے کی قرار داد پر کیا عمل ہورہا ہے ۔

سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل کا یہ کہنا قابل توجہ ہے کہ کیا آج کے پاکستان میں انہیں وہ خود مختاری حاصل ہے؟۔ صوبوں کو اگر حیثیت دی جاتی تو پاکستان نہ ٹوٹتا۔ جناح صاحب کے وژن کی سکرات جناح صاحب کی وفات سے شروع ہوگئی تھی اور موت پاکستان کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی ہوگئی تھی۔انہوںنے کہا کہ سیاستدان بھی مجبور ہیں، صوبے بھی مجبور ہیں۔ ان کے بقول بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کی ذمہ دار وہ جماعتیں، وہ ادارے اور حکومتیں ہیں جنہوں نے نوجوانوں کو مایوسی کی اس حد تک دھکیلا ہے جو وہ اب علیحدگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی سرگرمی کو تباہ کیا گیا ہے، سیاسی کارکنوں کو غائب کیا گیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان انتہائی مایوس ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک اسٹیبلشمنٹ اپنی سوچ نہیں بدلے گی، پاکستان تاریکی کی طرف جائے گا۔

مجھے پاکستان میں تاریکی نظر آرہی ہے، کوئی قیادت نہیں جو روشنی کی جانب لے جائے۔بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ کوئی انتہاپسند بلوچ نہیں بلکہ قومی سوچ اور نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کے سوالات تلخ ہیں جن سے اتفاق ضروری نہیں لیکن ان سوالوں کاجواب دینا اس لئے ضروری ہے کہ اس کے بغیر بلوچستان میں انتہا پسندانہ سوچ کا توڑ ممکن نہیں ۔ وطن عزیز کی آزادی کی ان مبارک ساعتوں میں ہمیں قبائلی عوام کی محرومیوں اور مطالبات پر بھی توجہ دینی چاہیئے ۔ بلوچوں کی محرومیوں کا بھی ازالہ کرناچاہیئے ۔پختونوں اور سندھیوں کو بھی انصاف ملنا چاہیئے ۔ دیہی پنجاب کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ کی ضرورت ہے ۔

دور کے ڈھول سہانے

محکمہ بلدیات سے متعلق عوامی شکایات کے ازالے کیلئے جدید سہولیات پر مبنی سنٹر کے قیام کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن اس کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لئے کیا ایسے یقینی اقدامات اٹھائے جائیں گے کہ یہ مرکز واقعی عوامی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔نئے شکایت سنٹر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔محکمہ بلدیات میں قائم کیا جانے والا سیل شکایات و تجاویز کے علاوہ بلدیاتی نظام خصوصاً ناظمین کے ترقیاتی کاموں کی بھی نگرانی کرے گا اور کسی بھی شکایت کے موصول ہونے سے قبل خود سوموٹو لے کر متعلقہ ادارے یا شخص سے رابطہ کرے گا۔موجودہ صوبائی حکومت نت نئے تجربات ، قوانین بنانے اور اقدامات اٹھا نے میں اپنے پیشروئوں میں کافی آگے ضرور ہے لیکن ان تمام معاملات کا جو حاصل ہونا چاہیئے۔ بد قسمتی سے وہ سامنے نہیں آتا بلکہ متعارف کردہ اصلاحات اور انتظامات کی ناکامی کا اعتراف اب تو حکومتی سطح پر سننے کو ملنے لگا ہے ۔

ہمارے تئیں کسی بھی اقدام سے قبل اس کی کامیابی و ناکامی کا جائزہ لینے کاجو طریقہ کار ہے اولاً وہ رائج ہی نہیں لگتا اور اگر مروج ہے تو اس پر عملدر آمد کی زحمت نہیں ہوئی اگر اصلاحات و اقدامات کو مئوثر بنائے بغیر لوگوں کے مسائل کا حل ممکن ہوتا تو اب تک بیشتر عوامی مسائل کو حل ہو جانا چاہیے تھا ۔ بلدیات سے متعلق شہریوں کی شکایات کسی سے پوشیدہ نہیں اس کا حل جدید مراکز کے قیام اور زیادہ سے زیادہ ملازمت کے مواقع پیدا کر کے نور نظر قسم کے افراد کو کھپانے میں نہیں بلکہ عملی طور پر اس کی سعی میں ہے۔ اسی جد ید نظام کا کیا فائدہ کہ اسے مئو ثر طور پر لوگوکرنے میں جب اعلیٰ حکام خود ہی حائل ہوں یا حکمرانوں کے مفادات آڑے آئیں اس طرح کے تجربات پر الٹا عوام کا پیسہ لگتا ہے ۔ بہرحال اس کے عملی مشاہدے اور تجربے سے قبل وثوق سے کچھ کہنا موزوں نہ ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کا حشر بھی قبل ازیں متعارف کر دہ انتظامات کے جیسا ہوتا ہے یا یہ پھر ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے اس کا دارومدار اس کے منتظمین اور انتظامیہ کے رویے اور کار کردگی پر ہوگا۔

(بشکریہ روزنامہ مشرق)

یہ بھی دیکھیں

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے جنرل دہقان کو دفاعی امور میں اپنا مشیر مقرر کر دیا

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی جمہوری ایران کے سپریم لیڈر امام خامنہ ای نے ایک حکم ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے