منگل , 22 اگست 2017

ہمارے بچے تو کتے بھی نہیں ہیں

حاشر ابن ارشاد

کچھ درد سب کی سمجھ میں نہیں آتے۔ اگر آپ صاحب اولاد نہیں ہیں۔ اگر آپ نے کبھی اپنے بیٹے کے بال نہیں سنوارے، کبھی بیٹی کے ہاتھ میں گڑیا لا کر نہیں تھمائی، کبھی اپنے بچوں کو چوٹ لگنے پر اپنے بازوؤں میں نہیں سنبھالا، کبھی رات کو انہیں تھپک تھپک کر یا لوری گا کر نہیں سلایا، اپنے نوالے اپنی اولاد
کے منہ میں نہیں ڈالے، خود پیوند لگا کرتہ پہنے بچوں کے نئے ملبوس نہیں خریدے، ان کی تھوڑی دیر کی گمشدگی پر آپ نے اپنے اوسان نہیں کھوئے تو پھر آپ کو خاک سمجھ نہیں آنی کہ بارہ سال کے حامد کے اچانک مر جانے پر اس کی ماں نیم پاگل کیوں ہو گئی ہے اور اس کے باپ کو دل کا دورہ کیسے پڑ گیا ہے۔

ایک ملک ہے امریکا اور اس کے ایک صدر ہوتے تھے ہیری ٹرومین۔ ان سے منسوب ایک فقرہ بہت مشہور ہے۔

The buck stops here

یہ فقرہ پوکر کے کھیل کی ایک ترکیب سے متاثر ہے یہ ترکیب ہے passing the buck یا الزام دوسرے پر دھرنا۔ جب ہیری ٹرومین صدر بن کو وائٹ ہاؤس میں آئے تو اوول کی جس میز پر قوموں کی تقدیر کے فیصلے ہوتے تھے وہاں انہوں نے ایک آرائشی تختی رکھوائی جس پریہ فقرہ تحریر تھا۔ مطلب یہ تھا کہ امریکا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی آخری ذمہ داری اس شخص کی ہے جو اس میز کے پیچھے بیٹھتا ہے۔ اس کا کام الزام لگانا، اپنی غلطیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا یا ہر پھندے کے لیے ایک نئی گردن ڈھونڈنا نہیں ہے۔ اس کا کام ہے یہ کہنا اور یہ تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھنا کہ جو اس کے دور اقتدار میں ہوتا ہے وہ اس کا ذمہ دار ہے۔ امید ہے ہمیں حضرت عمر فاروقؓ کا وہ قول اسلامیات کی کتاب سے باہر بھی یاد ہو گا جس کے مطابق فرات کے کنارے مرنے والے کتے کی موت کا ذمہ دار بھی خلیفہ عمرؓ تھا۔

ہمارے بچے تو شاید کتے بھی نہیں ہیں کہ کوئی ان کی موت کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ لائیو ریکارڈنگ کے باوجود پولیس گاڑی کا نمبر لکھنے سے انکاری ہے۔ گاڑی کا رنگ اور ماڈل بھی نہیں اور ڈرائیور کا نام بھی نہیں۔ بمشکل مقدمہ درج ہوا تو پھر اسی نامعلوم فرد کے نام جس پر شاید ایک ڈیڑھ لاکھ مقدمے پہلے ہی ہیں۔ خون خاک نشیناں رزق خاک ہوا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ دختر اول نے ٹویٹ کر دیا۔ خادم اعلی نے نوٹس لے لیا اور وزیر اطلاعات کی پندرہ منٹ کی تقریر میں ساڑھے گیارہ سیکنڈ کا مطالبہ مقامی قیادت سے ہو گیا کہ اور کچھ نہیں تو جا کر فاتحہ تو پڑھ آئیں یہ کم بخت۔ رہی ذمہ داری، گناہ گار کا تعین، تفتیش، گرفتاری تو ایسی باتیں یا تو ہیری ٹرومین کے ملک میں اچھی لگتی ہیں یا اسلامیات کی کتاب کے صفحوں پر۔ ابھی ذرا ہم صادق اور امین کا تعین تو کرنا سیکھ لیں۔ باقی کام بھی آہستہ آہستہ ہو جائیں گے۔ پر کوئی بد بخت اگر یہ سوال کر بیٹھے کہ سابق وزیراعظم کے قافلے کی غیر ارادی قتل، نہیں یہ کچھ سخت ہو گیا، بے احتیاطی مناسب رہے گا۔ ہاں تو سابق وزیراعظم کے قافلے کی سیاسی کامیابی کے اگر وہ ذمہ دار ہیں تو اس کے بے احتیاطی کے ذمہ دار بھی وہ ہی نہ ٹھہرائے جائیں تو بھیا ایسی باتیں کرنے والا اسٹیبلشمنٹ کا پٹھو ہے، پی ٹی آئی سے لفافے لیتا ہے اور جمہوریت کا پکا دشمن ہے۔

دکھ کا اظہار بھی کیا کرنا۔ بچے کے گھر جائیں گے تو لاہور تک قافلہ جمہوریت کے پہنچنے میں تاخیر ہو جائے گی۔ یوں بھی بچہ تو مر ہی گیا ہے، اس سب سے زندہ تھوڑا ہی ہو جائے گا۔ باپ دل ہاتھوں میں لیے سی سی یو میں پڑا ہے۔ ماں نیم پاگل ہو گئی ہے تو ان سے مل کر بھی کیا حاصل۔ یہ سب بیکار کی باتیں ہیں۔ ان سب سے اہم تھا وہ جو پہلے داماد اعظم نے کیا۔ پھر رفیق خاص نے اور آخر میں دلوں کے وزیراعظم نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ روز سڑکوں پر کتنے ہی بچے کتے بلیوں کی طرح گاڑیوں کے نیچے آ کر مر جاتے ہیں۔ کوئی بیڈ فورڈ ٹرک کے نیچے آتا ہے، کوئی شہ زور کے نیچے، کوئی ٹویوٹا ویگن کے نیچے اور کوئی تو سیدھا مرسیڈیز بس کو یہ شرف بخشتا ہے۔ کچھ مقامی ساختہ گاڑیوں کے ٹائروں میں روندے جاتے ہیں تو کچھ جاپان سے درآمد شدہ کاروں کا نشانہ بنتے ہیں پر حرام ہے ان میں سے کسی کو کبھی یہ اعزاز ملا ہو جو لالہ موسی کے بارہ سالہ حامد کو ملا۔

تو طے یہ ہوا کہ اگر آپ کو سڑک پر مرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو بلٹ پروف بی ایم ڈبلیو ڈھونڈیں اور وہ بھی ایسی بی ایم ڈبلیو جسے پروٹوکول کار کا رتبہ حاصل ہو۔ ایسی بی ایم ڈبلیو چونکہ عام کار سے کئی گنا وزنی ہوتی ہے اس لیے آپ کے بچنے اور سسک سسک کر معذوری کی زندگی گزارنے کا چانس بہت کم ہے۔ واثق امکان ہے کہ آپ حادثے کے بعد مکمل فوت ہو جائیں گے۔ کہیں قریب کوئی ایمبولنس ہو اور وہ بھی مکمل موبائل ہیلتھ یونٹ والی ایمبولنس تو پہلے ہی وصیت کر جائیں کہ وہ آپ کو بچانے کی کوشش نہ کرے۔ ویسے اگر وہ بھی پروٹوکول والی ایمبولنس ہوئی تو وہ خود ہی ایسی غلطی نہیں کرے گی کیونکہ اس میں طبی امداد پانے کی شرطیں بہت کڑی ہیں اور ان میں سے کسی ایک پر بھی کوئی ایسا شخص پورا نہیں اتر سکتا جو ننگی سڑک پر بغیر سرخ قالین کے قدم رکھنے کا عادی ہو۔ ہاں تو ایمبولنس تو ہے نہیں تو پھر آخری رسم یہ ہے آپ کو کسی قریبی چنگ چی میں ڈال دیا جائے تاکہ ہسپتال پہنچنے تک کسی مداخلت کا اندیشہ ختم ہو جائے یوں جب تک ہسپتال آئے گا۔ آپ کی روح پرواز کر چکی ہو گی اور چونکہ آپ پروٹوکول والی بی ایم ڈبلیو کے نیچے آ کر مرے ہیں اس لیے تازہ صحیفۂ سیاست کے مطابق آپ شہید ہیں۔ اور شہید کا درجہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔

آپ کے والد کو اب اپنا سر فخر سے اونچا کر کے چلنا چاہیے۔ ماں کو سہیلیوں سے مبارکباد وصول کرنی چاہیے اور رشتہ داروں کو حسب توفیق اور حسب جنس لڈیاں اور بھنگڑے ڈالنے چاہئیں۔ اور ہاں کوئی اس شہادت والے بیان پر اعتراض کرے یا اس موت کا الزام خواہ مخواہ دلوں کے رہنما پر دھرے تو وہ بھی اسٹیبلشمنٹ یا حزب اختلاف کا ٹاؤٹ ہے۔ اسے یاد کرائیں کہ ایسے حادثے ہوتے رہتے ہیں۔ ملتان کے تحریک انصاف کے جلسے میں کیا ہوا تھا۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کے جلسے میں بھی تو یہی منظر تھا۔ سڑکیں وغیرہ جب ان کے مخالف لیڈروں کے لیے بند ہوتی ہیں تب بھی ایمبولنسوں میں کتنے ہی مر جاتے ہیں۔ امید ہے اس گھرکی سے انہیں کان ہو جائیں گے اور اگر وہ پھر بھی بک بک کریں تو ان سے سرٹیفیکیٹ طلب کریں کیا وہ سن 1919 کے جلیانوالہ باغ سے لے کر 2017 کے اس دن تک ایسے تمام حادثوں پر فیس بک اسٹیٹس لگا چکے ہیں یا نہیں اور اگر یہ سرٹیفیکیٹ موجود نہیں ہے یا پھر ابھی براستہ قطر یا دوبئی آنا ہے تو جان لیجیے کہ یہ ان بیہودہ لوگوں کی بس سیاسی پوائینٹ سکورنگ ہے، یہ صرف آپ کے محبوب رہنما پر کیچڑ اچھالنے کی سازش ہے۔ اور ہاں آپ کو دماغی کوڑھ بھی بالکل نہیں ہے۔ جیسے امریکہ کے ڈرون سے مرنے والا کتا بھی بقول مولانا شہید ہوتا ہے ایسے ہی قافلہ جمہوریت کی پروٹوکول کار سے مرنے والا بچہ بھی شہید ہوتا ہے پر یار ڈرون حملوں کا ذمہ تو امریکہ پر رکھ دیتے ہیں نا۔ وہی the buck stop there والی کہانی پر ہمارے بچے کا ذمہ تو کوئی لے ہی نہیں رہا۔ تو کیا ہمارے بچے سچ میں، کتے بھی نہیں ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایک عراقی بوڑھے شخص نے ایک بار بتایا کہ:

انیس سو اکانوے (1991) میں جنوبی عراق کے شیعہ مسلمانوں کی صدام حسین کے خلاف ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے