جمعرات , 19 اکتوبر 2017

سعودی عرب میں شیعہ اکثریتی علاقوں میں کیا ہو رہا ہے؟

تسنیم خیالیؔ
العوامیہ میں واقع ’’المسورہ ‘‘نامی تاریخی محلے کے کئی ماہ کےمحاصرے کے بعد سعودی فورسز بالآخر اس تاریخی اور قدیم محلے میں بیسیوں شہداء کی لاشوں پر سے گزرتے ہوئے اُس میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئیں، شہداء کو تو سعودی میڈیا نے صرف اس لئے دہشت گرد بنا دیا کیونکہ وہ سینکڑوں سال پرانے اپنے ’’المسورہ ‘‘محلے کو ختم کرنے کیخلاف ہیں۔ اس کارروائی کیلئے سعودی عرب سب سے پہلے یہ بہانہ بنایا کہ وہ اس قدیم محلے کو ختم کر کے ایک جدید طرز کا رہائشی علاقہ تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

مگر سعودی عرب کے حکام نے اس محلے کو تباہ کرنے کیلئے یہ دعویٰ کیا کہ محلے میں حکومت کو مطلوب دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں جن کیخلاف کارروائی ضروری ہے۔دہشت گرد ی کا بہانہ اسلئے بھی سعودی عرب کیلئے ضروری ہو گیا تھا کیونکہ سعودی عرب نے ’’المسورہ‘‘کو خالی کرانے کیلئے بھرپور طاقت کا استعمال کیا جسکی وجہ سے یہ علاقہ موصل یا پھر حلب جیسا ہو چکا تھا اور عالمی عتاب سے بچنے کیلئے ایسا ضروری ہو گیا تھا۔ دہشت گردی کا یہ بہانہ کسی بھی طور پر معقول اور سچا نہیں ہے کیونکہ ’’المسورہ‘‘میں مٹی سے بنے 180 گھروں سے زائد گھر موجود نہیں جنہیں سعودی فورسز با آسانی بغیر کسی زور ازمائی کے خالی کرا کے’’

مطلوب دہشت گردوں‘‘ کو گرفتار کر سکتی تھی، لہٰذا سعودی کہانیاں اور بہانے جھوٹ اور حقیقت سے دور ہیں۔سب سے پہلے تو سعودی عرب کا اس کارروائی کیلئے دہشت گرد کا بہانہ ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جسکے ذریعے سعودی عرب دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ خود ہشت گردی کا شکار ہے اور اس کیخلاف اپنا دفاع کر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ القطیف میں واقع العوامیہ کاعلاقہ کسی بھی دور میں دہشت گرد وں کی افزائش گاہ نہیں تھا، یہ علاقہ شیعہ اکثریتی علاقہ ہے جسے ہمیشہ سعودی وہابیت نے نشانہ بنایا۔

العوامیہ کیساتھ وہابیت کے ہاتھوں ہونیوالے مظالم کی تاریخ کو دیکھتےہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’بن سلمان‘‘ نے اس وقت العوامیہ کو نشانہ اس لئے بنایا تا کہ وہابیت کے علماء کو وقتی طور پر راضی کیا جا سکے جو ’’بن سلمان‘‘ سے ان کی آزادانہ پالیسیوں اور ملک پر بن سلمان کی مکمل گرفت سے سخت نالاں ہیں اور شیعوں کو نشانہ بنانے سے بن سلمان کی رائے میں وہابی علماء کے غصے کو وقتی طور کیلئے ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور اہم بات یہ کہ بن سلمان العوامیہ کی تباہی سے اپنے لئے ایک ’’گیم چینجرگارڈ‘‘ کی تخلیق کرنا چاہتے ہیں اور وہ بھی یمن کے معاملے پر، تا کہ اگر یمن پر بات چیت ہوتو وہ ایران پر اس بات چیت میں العوامیہ کے ذریعے ایران پر دبائو ڈال سکے۔ بن سلمان کے حکم پر کام کرنیوالے سعودی میڈیا نے بھی بن سلمان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے العوامیہ کے رہائشیوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کر دیا اور بیرونی سازشوں کے مہرے قرار دے دیا تا کہ بن سلمان کے آپریشن کو زیادہ سے زیادہ حمایت مل سکے۔

اب ’’المسورہ‘‘ محلہ تو زمین بوس کر دیا گیا ہے اور اس محلے کے 20 ہزار باسیوں کو در بدر کر دیا گیا مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہو رہی سعودی حکومت صرف ’’المسورہ‘‘کو نشانہ نہیں بنا رہی بلکہ القطیف میں واقع دیگر کئی علاقوں اور محلوں کو نشانہ بنانے جا رہی ہے یہ سعودی سازش ’’المسورہ‘‘سے شروع ہوئی ہے اور اگلا محلہ ’’الشویکہ‘‘ ہے جو نسبتاً ’’المسورہ‘‘سے کافی دوری پر واقع ہے، جہاں کے باسیوں کو حکومت نے 3 مہینے کا الٹی میٹم دے دیا ہے کہ وہ اپنے محلے کو چھوڑ دیں مگر ’’الشویکہ‘‘

ہی کیوں؟ قطیف بھر میں عرصہ قبل آل سعود کی حکومت کیخلاف مظاہرے ہوئے تھے اورالعوامیہ میں سب سے بڑا مظاہرہ ہوا تھا جبکہ ’’الشویکہ‘‘میں دوسرا بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں محلے کے کچھ نوجوان شہید بھی ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ ’’الشویکہ‘‘ اب آل سعود کے نشانے پر ہے اور الشویکہ کے بارے میں بھی آل سعود حکومت اپنی کارروائیوں کو جواز دینے کیلئے بہانے بناتے ہوئے دکھائی دیگی۔

 

یہ بھی دیکھیں

کیا امریکا، شام میں اعلیٰ روسی فوجی افسران کی ہلاکت میں ملوث؟

(رابرٹ فسک) روسی ایئرفورس دو سال قبل شام کے صدر بشار الاسد اور ان کی ...