بدھ , 13 دسمبر 2017

اس پر پابندی، اُس پر پابندی، اس کے خلاف کارروائی کی دھمکی، اُس کے خلاف کارروائی کی دھمکی ۔۔۔۔امریکہ نے حد ہی پار کر دی

تسنیم خیالیؔ
میرے خیال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزراء بالخصوص وزیر دفاع ’’جیمز میٹیس‘‘المعروف، پاگل کُتا، اپنے ہوش اور حواس کھو بیٹھے ہیں اور اب صرف میٹیس ہی پاگل نہیں بلکہ ٹرمپ بھی پوری طرح پاکل ہوچکا ہے۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ گذشتہ 20 جنوری کو ٹرمپ نے بطور امریکی صدر اپنی ذمہ داری سنبھالی، یعنی ٹرمپ کو بطور امریکی صدر صرف سات مہینے ہونیوالے ہیں اور جناب نے کئی ممالک کو جنگ کی دھمکی دیدی ہے۔آئے روز امریکہ کسی نا کسی ملک پر پابندیاں عائد کر رہا ہے۔

چند روز قبل امریکہ نے روس، ایران اور شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کی جس کے جواب میں روس نے 700 سے زائد امریکی سفارت کاروں کو روس سے نکال دیا، جبکہ ایران نے ان پابندیوں کو جوہری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ کیخلاف مشابہہ کارروائی کا اعلان کر دیا، شمالی کوریا کی بات کی جائے تو وہ امریکہ پابندیوں کا اپنے ’’سٹائل ‘‘میں جواب دیتے ہوئے مزید میزائل تجربے کر رہا ہے۔ روس، ایران اور شمالی کوریا سے قبل ٹرمپ حکومت نے شامی صدر اور شام پر مزید پابندیاں عائد کی تھی اور حال ہی میں امریکی انتظامیہ نے وینزویلا پر مزید پابندیاں عائد کی ہیں۔

بات صرف پابندیاں عائد کرنے کی حد تک نہیں ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی ایران کیساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی اور ایران کو جنگ کی دھمکی دی تھی جس کی وجہ سے روس، چین، جرمنی اور فرانس نے کہا تھا کہ ایران نے جوہری معاہدہ صرف امریکہ کیساتھ طے نہیں کیا بلکہ اس معاہدے میں 5 دیگر ممالک بھی شامل ہیں اور یہ پانچوں ممالک اس طے ہونے والے معاہدے پر عمل پیرا ہیں، ٹرمپ کی طرف سے ایران کو دی جانیوالی دھمکی اور جوہری معاہدے کی معطلی پر امریکی انٹیلی جنس ادارہ (CIA) نے بھی ٹرمپ کی مخالفت کی اور انہیں باز آنے کی نصیحت دی۔

ایران کے بعد ٹرمپ نے شام کو نشانہ بناتے ہوئے شام اور شامی صدر پر مزید پابندیاں عائد کی اور پھر شام پر 7 اپریل 2017ء میں 59 ٹوم ہاک میزائل داغے اور شام کو مزید حملوں کی دھمکی دی، شام کے اہم اتحادی روس نے ان حملوں کی شدید مذمت کی اور اسے شام میں سرگرم دہشت گردوں کیخلاف جنگ کو متاثر کرنے کی سازش قرار دیا۔شام کے بعد ٹرمپ کی نگاہیں شمالی کوریا پر پڑیں، شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل تجربوں کو خطر ناک قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے شمالی کوریا کے تجارت نہ رونے کی صورت حال میں جنگ کی دھمکی دے ڈالی،

مگر ٹرمپ کو کیا پتا کہ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اون اُن سے بھی زیادہ پاگل اور جنگی جنوں کا حامل ہے۔ امریکی دھمکی کے بعد شمالی کوریا نے اپنے تجربوں میں تیزی سے اضافہ کیا اور ایسے بیسلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جو جوہری ’’وار ہیڈ‘‘ امریکہ کی سر زمین تک لے جا سکتا ہے۔ اس وقت یوں سمجھیں کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان کسی بھی وقت خوفناک جنگ شروع ہو سکتی ہے، شمالی کوریا کے قریب 2 امریکی طیارہ بردار بیڑے کھڑے ہیں اور شمالی کوریا نے بھی اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔

شمالی کوریا کے بعد نمبر آیا ہے وینزویلا کا جہاں حکومت اور عوام کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے جو خونی شکل اختیار کر چکی ہے اور اب ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ نہیں جاتی تو امریکہ وینزویلا کیخلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے!!! وینزویلا کی حکومت نے بھی ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کے خلاف کارروائی احمقانہ اور بیوقوفانہ فیصلہ ہو گا اور وینزویلا امریکہ کے مقابلے کیلئے تیار ہے۔بلاشبہ امریکہ کی یہ جنگی پالیسیاں امریکہ کو ہی نقصان پہنچا رہی ہیں جس کا واضح ثبوت افغانستان، عراق اور شام میں امریکی جنگوں سے ملتا ہے جہاں امریکہ کو شدید نقصان ہوا۔

افغانستان میں تو جنگ کو 15 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور یہ جنگ امریکہ کیلئے بے عزتی کا باعث بن چکی ہے۔ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ اپنا دھمکی آمیز طریقہ کار بند کرے اور ہوش سے کام لے، انکا یہ انداز امریکہ کے خلاف دنیا بھر میں پائی جانے والی نفرت میں اضافہ کر رہا ہے اور مستقبل میں کوئی بھی نئی امریکی جنگ امریکہ کیلئے انتہائی بھیانک ثابت ہو گی کیونکہ امریکہ پہلے سے ہی جنگوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور نئی جنگ امریکہ کو اس دلدل میں ڈبو دے گی اور ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف دوڑ لگاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب: سینما کی واپسی کا سفر

سعودی عرب میں سینما ہالز پر پابندی ختم کرنے کا اعلان (ویڈیو پیکج) سعودی عرب ...