منگل , 22 اگست 2017

کویت کو ریاض-دوحہ کشیدگی میں ثالث نہیں بلکہ عرب اتحاد کا رکن بننا چاہئے؛ آل سعود کی دیرینہ خواہش

کویت سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک سعودی مصنف کے تند و تیز مقالے – جو دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات کے بارے میں ہے – کے مطابق کویت کی جانب سے قطر بحران میں ثالثی بعید ہے کیونکہ اب خود اس کے سعودیہ کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لئے ایک ثالث کی ضرورت ہے۔روزنامہ رای الیوم کے ایڈیٹر "عبدالباری عطوان” نے روزنامہ الشرق الاوسط میں شائع شدہ یک عربی مصنف کے تند و تیز مقالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سعودیہ کی جانب سے کویت کو دی جانے والی امداد اور کویت کی طرف سے اس پر نا شکری کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا,

مقالے میں دونوں فریقین کویت اور سعودیہ کے کشیدہ حالات کا تذکرہ واضح کرتا ہے کہ خود کویت کو بھی سعودی عرب سے اچھے تعلقات کے لئے ثالث کی ضرورت ہے۔عطوان کے مطابق عرب ممالک کے تجربات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بحران کے حل کے لئے ثالثی کی ضرورت ہے جبکہ یہ بحران شدت اختیار کرچکے ہیں لیکن معلوم نہیں ہے کہ کیا دوحہ کویت کی جانب سے ثالث کی حثیت سے سعودی – قطر بحران کے حل کے لئے اقدامات کو قبول کریگا یانہیں ؟

یہ بھی دیکھیں

رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کا نوجوانوں میں دینی اور انقلابی جذبے کی تقویت پر زور

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دینی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے