منگل , 22 اگست 2017

واقعہ کربلا کی یاد میں کشمیر بھر میں مجلس اسد کی تقریبات

سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک) کشمیر میں برسہا برس سے یہ روایت رہی ہے کہ کشمیری عوام ان مخصوص ایاموں کو ایام اسد کے نام سے جانتے ہیں اسی مناسبت سے مجلس عزاء کا انعقاد اور جلوس ہائے عزاء برآمد ہوتے ہیں۔کشمیری قوم کا عقیدہ ہے کہ واقعہ کربلا شدید اور سخت ترین گرمی کے ایام میں پیش آیا اور اسی یاد کو تازہ کرتے ہوئے سخت گرمی کے مہینے میں کشمیر کے گوشہ و کنار میں مجالسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔حسب دستور اس سال بھی کشمیر بھر میں 10 اور 11 اگست کو مجالس اسد منعقد ہوئیں جن میں کشمیری قوم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے دیگر باوفا ء ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

سب سے بڑی تقریب سرینگر کے تاریخی امام بارگاہ جڈی بل میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں کی تعداد میں عزاداروں نے شرکت کرکے امام عالی مقام کو نذرانہ عقیدت پیش کیا مجلس میں کشمیری مراثی خوانی کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا اور اختتام پر شیعہ ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے سرپرست اعلٰی حجتہ الاسلام مولانا عمران رضا انصاری نے خطاب کیا۔دوسری بڑی تقریب سرینگر کے ہی حسینی چوک گنڈ حسی بٹ علاقے میں منعقد ہوئی جس کا اہتمام جموں و کشمیر اتحاد المسلمین نے کیا تھا جہاں ہزاوں کی تعداد میں عقیدتمندوں نے شرکت کی۔

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے سینئیر حریت رہنما اور اتحاد المسلمین کے سرپرست اعلٰی حجتہ الاسلام مولانا محمد عباس انصاری نے خاندان اہلبیت کی عظمت اور شہادت حضرت امام حسین علیہ السلام پر روشنی ڈالی اور مسلم دنیا میں موجودہ بحرانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امت مسلمہ کو ایک لا الہ الا اللہ کے جنڈے تلے جمع ہوکر تمام مشکلات کا ازالہ کرنے کی پرزور استدعا کی۔

مجلس کے اختتام پر جلوس عزاء بھی برآمد ہوا جس میں شامل عزاداروں نے نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے علاوہ رہبر معظم انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای دامت برکاتہ کے حق میں نعرے لگائے اور آپ کے فرمان پر جان قربان کرنے کا عزم دہرایا جلوس کے اختتام پر پر حریت کانفرنس کے رہنما اور صدر اتحاد المسلمین مولانا مسرور عباس انصاری نے خطاب کیا۔

ادھر وسطی ضلع بڈگام کے چندہ پورہ علاقے میں بھی ایک مجلس انجمن شرعی شیعان جموں و کشمیر کے اہتمام سے منعقد ہوئی جہاں بھاری تعداد میں عزادوروں نے شرکت کی عزادوروں کے اجتماع سے حریت کانفرنس کے رہنما حجتہ الاسلام آغا سید حسن موسوی صفوی نے خطاب کیا اور نامور کشمیری ذاکرین نے مرثیہ خوانی کی۔درایں اثنا کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے قصبوں میں چھوٹی بڑی مجلسوں کا انعقاد ہوا اور عزاداروں نے سخت ترین گرمی کے باوجود بھی مجلسوں اور جلوس ہائے عزاء میں بھرپور شرکت کی۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی انٹرپول وارنٹ کا غلط استعمال کر رہا ہے ، انجیلا مرکل

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے ترکی کی جانب سے اسپین میں ایک ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے