منگل , 2 مارچ 2021

فلسطین، عباس ملیشیا کا فلسطینی عالم دین کو برہنہ کرکےوحشیانہ تشدد

abbas malaeshia

نابلس(مانیٹرنگ ڈیسک)فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام قائم کردہ جیلوں میں ڈالے گئے سیاسی قیدیوں کے ساتھ نہایت توہین آمیز اور شرمناک سلوک کے مظاہر آئے روز سامنے آ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی جیلوں میں قیدیوں سے بدسلوکی نے کیوبا میں قائم امریکی بدنام زمانہ گوانتا نامو جیل اور عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق فلسطینی تنظیم حزب التحریر نے الزام عائد کیا ہے کہ حال ہی میں عباس ملیشیا نے ایک سرکردہ عالم دین الشیخ یونس رباع کو الخلیل شہر میں الظاہریہ کے مقام پر نماز جمعہ کے بعد حراست میں لیا۔ دوران حراست عباس ملیشیا کے غنڈوں نے انہیں داڑھی سے پکڑ کرگھیسٹا اور ان کی داڑھی بھی نوچتے رہے۔حزب التحریرکا کہنا ہے کہ الشیخ یونس نے جمعہ کی تقریر میں صحابی رسول تمیم الداری کے نام سے وقف املاک کو روسی قونصلیٹ اور فلسطینی وزراء کو دیے جانے پر کڑی تنقید کی تھی۔ یہ تنقید فلسطینی اتھارٹی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہوئی، جس کے بعد عباس ملیشیا نے سرکردہ عالم دین کو حراست میں لینے کے بعد ان کے ساتھ نہایت شرمناک سلوک کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس ملیشیا نے گرفتاری کے وقت فلسطینی مذہبی رہنما کو داڑھی سے پکڑ کرگھیسٹا جس کے نتیجے میں ان کی داڑھی کے بال ان کے پاؤں میں جا گرے۔ حراستی مرکز میں لے جانے کے بعد انہیں بہ زور برہنہ کرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔واضح رہے کہ عباس ملیشیا کی جانب سے القدس میں اسرائیلی فوج کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کی خبریں نئی نہیں بلکہ عباس ملیشیا پہلے ہی اسرائیلی فوج کے ساتھ بیت المقدس میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے…

امریکا کے نئے صدر جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے کئی متنازع فیصلوں کو تبدیل …