منگل , 19 ستمبر 2017

کریسٹیانو رونا لڈو کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش : 5 فروری 1985ء
جائے پیدائش : فنچل ،پرتگال
پورانام : کریسٹیانو رونا لڈو ڈوز سانٹوز ایوسیرو
والد: جوز ڈینیس ایویرو (پیشے کے حوالے سے مالی تھے)
والدہ: ماریا ڈولوریس ڈوز سانٹوز ایویرو(پیشے کے حوالے سے کُک تھیں)
بچے: ایوا ،میٹیو ،کریسٹیانو جونیڑ

عملی زندگی:

1990ء کی ابتدا میں رونالڈو نوجوانوں کی ایک لوکل فٹبال میں شامل ہوئے۔1990ء کے اواخر میں رونالڈو نے پرتگال کی صف اول کلب ٹیم ڈیپورٹیو نیشنل ڈاماڈیرا میں شمولت اختیار کی ۔
2000ء کے ابتداء میں رونا لڈو پرتگال سپورٹنگ کلب میں شامل ہوگئے۔
جون تا جولائی 2004: یوروپین نیشنل کپ میں پرتگال کی نمائندگی کی اور اپنے اس پہلے انٹر نیشنل ایونٹ ایک گول کرنے میں کامیاب ہوئے ۔
جولائی 2004ء: اولمپگ گیمز میں پرتگال کی نمائندی کی۔
2005ء: فیفا پرواسپیشل ینگ پلیئر آف دی ائیر کاایوارڈ حاصل کیا۔
اکتوبر 2005ء: جنسی طور پر ہراساں کرنے کے مقدمےمیں رونالڈو سے تفتیش کی گئی مگر اس معاملے میں رونا لڈوکو مجرم نہیں ٹھہرایا گیا۔
2008ء: فیفا ورلڈ پلیئر آف دی ائیر کاایوارڈ حاصل کیا۔
2009ء: میں رونا لڈو 130ملین ڈالر کے عوض مانچسٹر یونائیٹڈ سے اسپین کے مشہور فٹبال کلب رئیل میڈرید منتقل ہوگئے ۔
3جولائی 2010ء: رونالڈواعلان کرتے ہیں کہ وہ باپ بن گئے ہیں۔

12اگست 2013ء: 7.19ملین ڈالر کے عوض رونالڈو برطانیہ کا اہم فٹبال کلب مانچسٹر یونائیٹڈ میں شامل ہوگئے ۔
15دسمبر 2013ء: رونالڈو اپنے آبائی علاقے میں اپنے فٹبال کیرئیر پر مبنی ایک میوزیم کا افتتاح کرتے ہیں ۔
6جنوری 2014ء: اپنے فٹبال کیرئیر کا 400واں گول اسکور کرتے ہیں۔
17اکتوبر 2015ء: کورئیل میڈریڈ کیلئے سب سے زیادہ گول اسکور کرنے والے کھلاڑی بن جاتے ہیں۔
9نومبر 2015ء: میں رونا لڈوکی سوانح حیات پرمبنی ڈاکیومینٹری کا لندن میں پریمئیر شو منعقد ہوتا ہے۔
8نومبر 2016ء: میں نائیکی کمپنی کیساتھ تا حیات کاروباری ڈیل طے کی۔
جنوری 2017ء: میں رونا لڈو کو 2016کا بہترین فٹبال کھلاڑی قرار دیا گیا۔

13جون 2017ء : رونا لڈو پراسپین میں 2011ء اور 2014ء کے درمیان ٹیکس ادانہ کرنے پر مقدمہ دائر ہوا جسکی سماعت ابھی جاری ہے۔

17جون 2006ء: ورلڈ کپ میں ایران کیخلاف گول کرکے رونالڈو نے اپنا پہلا ورلڈ کپ گول اسکور کیا۔

یہ بھی دیکھیں

شامی فورسز کی کارروائیاں جاری ،دیر الزور کے مزید علاقے داعش سے آزاد

شامی فورسز کی کارروائیاں جاری ،دیر الزور کے مزید علاقے داعش سے آزاد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے