بدھ , 22 نومبر 2017

عراقی کردستان کے دوسرے بڑے لیڈراور صدام کے بعد بننے والے صدر جلال طالبانی کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش : 12نومبر 1933ء
جائے پیدائش : ککان ،عراق
شریک حیات : ہیرو ابراہیم احمد
بچے : کوباد، بافل
تعلیم : بغداد یونیورسٹی سے لاء کی سند حاصل کر چکے ہیں۔
عملی زندگی: 1947ءکو 14سال کی عمر میں کردی ڈیموکریٹک پارٹی (KDP)میں شمولیت اختیار کی۔ 1951میں (KDP)کے سینٹرل کمیٹی کے رکن بن گئے۔

جون 1975ءمیں طالبانی نے (KDP)کو خیر باد کہہ دیا اور اپنی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان(PUK)قائم کرلی۔ پارٹی کے قیام سے ہی جلال طالبانی (PUK)کے جنرل سیکرٹری ہیں۔

1976ء: سابق عراقی صدر صدام حسین کی حکومت کیخلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کردیا۔
1998ء: طالبانی اور حریف کرد جماعت (KDP)کے سربراہ مسعود بازرانی کے درمیان امن معاہدہ طے پاجاتا ہے جس کے تحت دونوںجماعتیں ملکر کردستان پر حکومت کرینگی۔

30جنوری 2005: صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں 50سال بعد منعقد ہونیوالے عام انتخابات میں حصہ لیا ۔ان انتخابات میں 7700اُمیدواروں نے حصہ تھا۔

6اپریل 2005ء میں جلال طالبانی کو بطور عراقی صدر منتخب کیا گیا۔

27تا 29نومبر 2006ءمیں طالبانی نے ایران کا دورہ کرتے ہوئے سابق ایرانی صدر محمود احمد نژاد سے ملاقات کی اور انہوں نےدونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی معاہدے طے ہونے کا اعلان کردیا۔

25فروری تا 14مارچ 2006ءمیں علالت کے باعث طالبانی کوعلاج کی غرض سے پڑوسی ملک اردن لے جایاگیا۔
7تا8مارچ 2008ء ترکی کا سرکاری دورہ کیا ،یہ ان کا بطور صدرعراق پہلا سرکاری دورہ تھا۔
نومبر 2010میں ایک بار پھر عراقی صدر منتخب ہوئے ۔
19جنوری 2012ء کو جرمنی میں ان کی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ہوا۔ دسمبر 2012ء میں انہیں دل کا دورہ پڑ گیا۔
19جولائی 2014ء:جرمنی میں 18ماہ زیر علاج رہنے کے بعد طالبانی عراق واپس آتے ہیں۔
24جولائی 2014ء کو’’ عراقی لا میکرز‘‘فواد معصوم کو طالبانی کی جگہ صدر مقرر کردیتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بن سلمان الحریری کی واپسی کے لبنانی مطالبے پر آگ بگولہ

(تسنیم خیالی) لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کا معاملہ اور اس معاملے سے پیدا ہونے ...