منگل , 19 ستمبر 2017

افغانستان کے امن مذاکرات کی پیشکش پر پاکستان کا محتاط رد عمل

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے صدر اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر پاکستان نے انتہائی محتاط رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں ماضی کے مذاکراتی عمل کو دوبارہ بحال اور اس میں وسیع پیمانے پر سنجیدگی سے ملوث ہونے کے حوالے سے یاد دہانی کرائی ہے۔

عید کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی کے جاری پیغام پر دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے رابطے کے دوران، جو عرصہ دراز سے جاری ہے، دونوں فریقین نے سیاستدانوں کا سیاستدانوں سے، فوج کا فوج سے اور انٹیلی جنس کے انٹیلی جنس سے تعاون کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا‘۔

افغان صدر اشرف غنی نے عید کے حوالے سے صدارتی محل میں ایک بیان دیتے ہوئے، یہ پیغام افغان میڈیا کے ذریعے بھی نشر کیا گیا تھا، کہا تھا کہ ان کا پیغام پاکستان کے لیے یہ ہے کہ افغانستان ’جامع سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہے، پاکستان کے ساتھ امن ہمارے قومی ایجنڈے میں شامل ہے‘۔

پاکستان اور افغانستان نے کچھ عرصہ قبل دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا تھا، گذشتہ ایک ماہ میں دونوں جانب سے متعدد بیانات دیئے گئے اور صدر اشرف غنی کا بیان اس بات کا اظہار ہے کہ کابل اس حوالے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اشرف غنی کو مزید یاد دہانی کرائی کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے اس معاملے پر اتفاق موجود ہے، جس پر عمل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مارچ میں ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطح پر تعاون کو تسلیم کیا گیا تھا جس میں فوج، سیاستدان اور انٹیلی جنس ادارے شامل ہیں، ان مذاکرات کے لیے برطانوی حکومت نے سہولت فراہم کی تھی۔

تاہم دونوں ممالک کے درمیان روایتی ’بد اعتمادی‘ کے باعث لندن میں ہونے والے اتفاق رائے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا اور جسے ’دو طرفہ تعاون کے طریقہ کار کا معاہدے‘ کا نام دیا گیا تھا۔

صدر اشرف غنی کے بیان میں صرف سیاسی سطح پر مذاکرات کی نشاندہی کی گئی ہے، جس میں لازمی طور پر فوج اور انٹیلی جنس سطح پر تعاون میں ملوث ہونے کے حوالے نشاندہی موجود نہیں، تاہم تعلقات کے حوالے سے درپیش متعدد مسائل — سرحدی تنازعات اور دہشت گردی — کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فوج اور انٹیلی جنس کی سطح پر تعاون بظاہر ناگزیر ہے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان متعدد ایسے عوامل کا حصہ ہیں جس کے ذریعے سے تعاون کے حوالے سے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’افغانستان سے رابطے اور مذاکرات کے طریقہ کار کے حوالے سے ہم پہلے ہی سے دو طرفہ، سہہ فریقی، چار فریقی اور متعدد فریقین کے عمل سے جڑے ہیں، متعلقہ طریقہ کار پر مکمل انداز میں عمل درآمد کرنا چاہیے‘۔

علاوہ ازیں دفتر خارجہ نے حکومت کی پوزیشن کے حوالے سے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں امن و استحکام دیکھنا چاہتی ہے اور اس حوالے سے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار میں داخلے کی اجازت نہیں، سربراہ یواین فیکٹ فائنڈنگ مشن

ینگون (مانیٹرنگ ڈیسک) میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے