منگل , 19 ستمبر 2017

داعش کا افغانی شیعوں پر امریکہ کے ایماء پر حملہ

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی افغانستان کے طالبان نے کہا ہے کہ: داعش امریکی حمایت پر شیعوں پر حملہ کر رہا ہے، اور طالبان کا شیعوں سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ایک خط کے ذریعے اپنے آپ کو طالبان کے کمانڈر کے عنوان سے پیش کرنے والے شخص نے کہا ہے کہ: طالبان کو شیعہ کی رسومات سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ: امارت اسلامی کے طالبان کا شیعوں کی رسومات سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔شیعہ مساجد پر حملے کی نسبت طالبان کی طرف دی جاتی ہے، جس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

«گرشک» کے نمائندے نے کہا: امارت اسلامی کے زمانے میں یہ واقعات نہیں ہوئے حتی حامد کرزئی کے زمانے میں بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔شیعوں پر حملے داعش نے امریکی سرپرستی میں کیے ہیں، داعش کو امریکی حمایت حاصل ہے جس کا ثبوت ان کا اسلحہ اور جنگی سامان ہے۔

اس خط کے آخر میں کہا گیا ہے کہ: افغانستان کے شیعوں کو طالبان کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا، اور وہ اپنی رسومات کی خود حفاظت کریں۔

طالبان نے ابھی تک اس خط کی تصدیق یا تکذیب نہیں کی ہے۔پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر «وحید مژده» نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ: طالبان اور داعش کے اختلافات پرانے ہیں جب ابوبکر البغدادی نے «حافظ سعید خان» کو خراسان کا امیر بنایا تھا، اور ان کے لیے پاکستان کے راستے سے اسلحہ بھیجا جا رہا تھا جس پر طالبان نے قبضہ کر لیا، جس کے بعد دونوں میں لڑائی کا آغاز ہو گیا۔

اس سے پہلے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ ان کا افغانستان کی حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اور وہ داعش کو بھی نشانہ بنائیں گے۔واضح رہے کہ حال ہی میں شیعوں پر ہونے والے متعدد حملات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی فوج کیلئے مزید رقم مختص کرنے کا بل منظور

واشنگٹن مرک امریکی انتظامیہ نے فوج کے لیے مزید 700ارب ڈالر مختص کرنے کا نیا ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے